وزیر مالیات سیتارمن کی ریاستوں کے ساتھ میٹنگ، وزیر اعلیٰ بگھیل نے رکھی کئی باتیں

دہلی کے وگیان بھون میں منعقد میٹنگ میں چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل نے جی ایس ٹی خسارہ کے ازالہ اور کوئلہ کانکنی پر مرکز کے پاس جمع رقم 4140 کروڑ روپے چھتیس گڑھ کو جلد بہم پہنچائے جائیں۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

عام بجٹ کے پہلے دہلی میں وزیر مالیات کی صدارت میں منعقد میٹنگ میں چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل نے عام بجٹ کو لے کر ریاست کی امیدیں اور مشورے سامنے رکھے۔ ساتھ ہی انھوں نے ریاست کے حصے کی رقم کا مطالبہ بھی مرکزی حکومت سے کیا۔

چھتیس گڑھ کے محکمہ رابطہ عامہ سے ملی جانکاری کے مطابق نئی دہلی کے وگیان بھون میں منعقد اس میٹنگ میں وزیر اعلیٰ بگھیل نے جی ایس ٹی خسارہ، کوئلہ کانکنی پر مرکز کے پاس جمع رقم 4140 کروڑ روپے چھتیس گڑھ کو فوراً دینے اور انسداد نکسل کے لیے تعینات سنٹرل سیکورٹی فورسز پر کیے 15 ہزار کروڑ روپے کے خرچ کے ازالہ کا مطالبہ کیا۔


میٹنگ میں مرکزی وزیر مالیات نرملا سیتارمن کے ساتھ ہی دیگر ریاستوں کے وزرائے مالیات بھی موجود رہے۔ میٹنگ میں وزیر اعلیٰ بگھیل نے کہا کہ کووڈ-19 کے سبب معاشی سرگرمیوں کے رخنہ انداز ہونے سے ریاستوں کی معیشت پر سنگین اثرات پڑے ہیں۔ مرکز سے ملنے والی رقم حاصل ہونے پر ریاستی حکومت ترقیاتی پروگراموں اور منصوبوں میں خرچ کر سکے گی۔ انھوں نے کہا کہ جی ایس ٹی ٹیکس نظام سے ریاستوں کے خزانہ کا نقصان ہوا ہے، آئندہ سال میں ریاست کو تقریباً 5000 کروڑ روپے کی رقم کے خسارہ کے ازالہ کا انتظام مرکز کے ذریعہ نہیں کیا گیا ہے، اس لیے جی ایس ٹی میں ہوئے نقصانات کے گرانٹ کو جون 2022 کے پہلے بھی آئندہ 5 سال کے لیے جاری رکھا جائے۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ گزشتہ 3 سالوں کے مرکزی بجٹ میں چھتیس گڑھ کو مرکزی ٹیکسز میں حصے کی رقم 13089 کروڑ روپے کم حاصل ہوئی ہے۔ آئندہ بجٹ میں سنٹرل ٹیکسز کے حصے کی رقم پوری طرح ریاست کو دی جائے۔

وزیر اعلیٰ بگھیل نے کول بلاک کمپنیوں سے کوئلہ کانکنی پر 294 روپے فی ٹن کے حساب سے مرکز کے پاس جمع رقم 4140 کروڑ روپے چھتیس گڑھ کو فوراً دینے کا مطالبہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ انسداد نکسل کے لیے ریاست میں تعینات سنٹرل سیکورٹی فورسز پر ریاستی حکومت کا خرچ 15 ہزار کروڑ ہو چکا ہے، اس کی فراہمی کے لیے اگلے بجٹ میں خصوصی انتظام کیا جائے۔


وزیر علیٰ نے کہا کہ مرکز کے ذریعہ پٹرول اور ڈیزل پر سنٹرل پروڈکشن ٹیکس تخفیف سے ریاست کے حصے کی رقم میں کمی اور ویٹ سے ملنے والے خزانہ میں بھی کمی ہوگی اس لیے مستقبل میں پروڈکشن ٹیکس کی جگہ پر ضمنی ٹیکسوں میں کمی کی جائے۔

بگھیل نے پردھان منتری جَن آروگیہ یوجنا (آیوشمان بھارت) میں بہتر کارکردگی کرنے والی ریاستوں کے لیے فی کنبہ 1100 روپے پریمیم کی حد بڑھانے کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ اس سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد بڑھے گی اور زیادہ آبادی کو اس کا فائدہ ملے گا۔ انھوں نے کہا کہ قومی صحت بیمہ منصوبہ کے تحت اہل کنبہ پردھان منتری جَن آروگیہ یوجنا کے تحت بھی اہل ہونا چاہیے۔


میٹنگ میں بگھیل نے کہا کہ پردھان منتری آواس یوجنا اور جَل جیون مشن میں بھی ریاستوں کی شراکت داری کو کم کر کے مرکز کا حصہ 75 فیصد کیا جائے۔ بگھیل نے اس کے علاوہ مرکزی بجٹ میں رائے پور میں انٹرنیشنل کارگو ٹرمینل، مرکزی قبائلی یونیورسٹی کا ایک کیمپس اور ووکل فار لوکل منصوبہ مارکیٹنگ سنٹر وغیرہ کے قیام کا بھی مطالبہ کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔