واہ!مودی جی کا ایک منٹ بچانے کے لیے 100 درخت ہوں گے قربان!

آئندہ 14 جون کو وزیر اعظم نریندر مودی چھتیس گڑھ کے بھلائی کا دورہ کرنے والے ہیں اور خبروں کے مطابق اُن کی آسانی کے لیے انتظامیہ نے تقریباً 100 درختوں کو کاٹنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ایک طرف 5 جون کو ’عالمی یوم ماحولیات‘ منانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں تاکہ لوگوں میں بیداری آئے اور درخت کاٹنے کی جگہ پودھے لگانے کی روایت شروع ہو، اور دوسری طرف وزیر اعظم نریندر مودی جی کا ایک منٹ بچانے کے لیے 100 درختوں کو قربان کیے جانے کی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ حیرانی کی بات ہے کہ وزیر اعظم نے گزشتہ 27 مئی کو ’من کی بات‘ میں عالمی یومِ ماحولیات پُرجوش انداز میں منانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’اب وقت آ گیا ہے جب ہم شجرکاری پر توجہ مرکوز کریں‘‘، لیکن اپنا محض ایک منٹ بچانے کے لیے 100 درختوں کو کاٹنے پر آمادہ ہیں۔

دراصل وزیر اعظم اس مہینے کی 14 تاریخ کو چھتیس گڑھ کے بھلائی شہر کا دورہ کرنے والے ہیں۔ یہاں نریندر مودی کی آسانی کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے تقریباً 100 درخت کاٹنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ خبروں کے مطابق درخت اس لیے کاٹے جائیں گے کیونکہ وزیر اعظم جس جگہ کا دورہ کرنے والے ہیں، وہ درخت راستے میں آ رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نریندر مودی رائے پور سے ہیلی کاپٹر سے بھلائی نواس کے سامنے میدان میں اتریں گے اور اس کے بعد بھلائی اسپات پلاٹ کا دورہ کریں گے۔ چونکہ بھلائی نواس کے پیچھے جس جگہ سے فوریسٹ ایوینیو کو جوڑنے کا فیصلہ لیا گیا ہے، اس راستے میں شیشم کا پلانٹیشن ہے۔ حالانکہ پہلے یہ طے کیا گیا تھا کہ وزیر اعظم سڑک کے راستے ڈی پی ایس چوک سے فوریسٹ ایوینیو اور پھر بی ایس پی مین گیٹ تک جائیں گے۔ لیکن وزیر اعظم کا وقت بچانے کے لیے اور سڑک کی جگہ ہیلی کاپٹر سے ہی منزل تک پہنچنے کی کوشش میں بھلائی نواس کے پیچھے لگے تقریباً 100 درختوں کو کاٹنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ بھلائی میں بی جے پی حکومت جس علاقے میں درختوں کو کاٹنے کا منصوبہ بنا رہی ہے وہ علاقہ پہلے سے ہی ’بفر زون‘ یعنی خطرہ والے علاقہ میں شامل ہے۔ یہاں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور وولاٹائل آرگینک کمپاؤنڈ کی مقدار اپنی سطح سے زیادہ رہتی ہے۔ ایسی صورت میں یہاں درختوں کی کٹائی سے ماحولیات پر منفی اثر پڑنا لازمی ہے۔ ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ یہاں لگا ایک درخت تقریباً 230 لیٹر آکسیجن زیادہ پیدا کرتا ہے۔ لہٰذا درختوں کی کٹائی سے تقریباً 1400 لوگ آکسیجن سے محروم ہو جائیں گے۔

14 جون کو وزیر اعظم نریندر مودی کے بھلائی دورہ سے متعلق سرکاری شیڈول جاری نہیں کیا گیا ہے لیکن اس دوران وہ کئی پروجیکٹ کا افتتاح کریں گے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ وہ عوام سے خطاب بھی کریں گے۔ لیکن محض کچھ وقت بچانے کے لیے 100 درختوں کو کاٹنے کا منصوبہ ظاہر کرتا ہے کہ وزیر اعظم لوگوں سے یومِ ماحولیات پر شجرکاری کی اپیل ضرور کرتے ہیں لیکن خود انھیں اس کی کوئی فکر نہیں۔ خصوصاً ’من کی بات‘ میں تو انھوں نے ماحولیات کی آلودگی پر خوب گیان بانٹا، اور اب جب کہ ان کی آسانی و آرام کے لیے چھتیس گڑھ کی بی جے پی حکومت نے درختوں کو کاٹنے کا منصوبہ بنایا ہے تو وہ بالکل خاموش ہیں۔

next