چھاتروں کی گونج: تعلیم کو ’وصولی سسٹم‘ بنانے کے خلاف راہل گاندھی کا آج دہرادون میں پروگرام، نوجوانوں میں زبردست جوش
کانگریس لیڈر کنہیا کمار نے کہا کہ ’’راہل گاندھی گزشتہ کئی سالوں سے تعلیم سے جڑے سوالات، طلبا کے درد، ملازمتوں کے مسائل، بھرتی اور امتحانات میں ہونے والی دھاندلی کے خلاف عوامی تحریک چلا رہے ہیں۔‘‘

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی آج اتراکھنڈ کی راجدھانی دہرادون پہنچنے والے ہیں۔ یہاں وہ نوجوان طبقہ سے مخاطب ہوں گے اور ان کے مسائل، خصوصاً تعلیمی شعبہ میں پیش آنے والی مشکلات پر گفت و شنید کریں گے۔ ’چھاتروں کی گونج‘ عنوان کے تحت ہونے والے اس پروگرام کو لے کر اتراکھنڈ کے نوجوان طبقہ میں زبردست جوش دیکھنے کو مل رہی ہے۔ کانگریس نے بھی مودی حکومت کی تعلیمی پالیسیوں کے خلاف اس پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے سوشل میڈیا پر تشہیری مہم چلا رکھی ہے۔ ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا گیا ہے ’’تعلیم کو ’وصولی سسٹم‘ بنانے کے خلاف دہرادون میں سنائی دے گی چھاتروں کی گونج۔‘‘ اس پیغام کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں نوجوان طبقہ کو متوجہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
راہل گاندھی کے پروگرام سے قبل کانگریس نے ایک پریس کانفرنس کچھ اہم باتوں کو میڈیا کے سامنے رکھا۔ پریس کانفرنس سے کانگریس کے نوجوان لیڈر کنہیا کمار اور یوتھ کانگریس کے قومی صدر اودے بھانو چب نے خطاب کیا۔ اس موقع پر کنہیا کمار نے کہا کہ ’’کانگریس کے ساتھ یوتھ کانگریس اور این ایس یو آئی مستقل طلبا کی آواز کو بلند کر رہی ہیں۔ راہل گاندھی گزشتہ کئی سالوں سے تعلیم سے جڑے سوالات، طلبا کے درد، ملازمتوں کے مسائل، بھرتی اور امتحانات میں ہونے والی دھاندلی کے خلاف عوامی تحریک چلا رہے ہیں۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کی مدت کار میں ایسا کوئی امتحان نہیں ہے، جس پر سوال نہ اٹھے ہوں۔ ایسا کوئی محکمہ نہیں ہے جہاں بڑی تعداد میں خالی عہدے نہ ہوں۔ ملک کا تعلیمی نظام آئی سی یو میں پہنچ چکا ہے۔ اسی بدحال تعلیمی نظام کو بدلنے اور طلبا کی آواز کو بلند کرنے کے لیے ’طلبا کی گونج‘ ملک کے گوشے گوشے میں چل رہی ہے۔‘‘
اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کنہیا کہتے ہیں کہ ’’راہل گاندھی نے جس مہم کی ابتدا کوٹہ سے کی تھی، اسی ضمن میں وہ آج دہرادون میں طلبا سے بات چیت کریں گے۔ ’چھاتروں کی گونج‘ طلبا کی آواز بنے گی۔‘‘ انھوں نے کانگریس حکومت بننے پر طلبا کی بہترین کے لیے بہتر قدم اٹھانے کا عزم بھی ظاہر کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’آج ہم اپوزیشن میں ہیں، اس لیے سڑکوں پر طلبا کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ جب ہمیں اقتدار میں آنے کا موقع ملے گا تب ملک کے طلبا، اساتذہ اور سرپرست ’چھاتروں کی گونج‘ مہم کے ذریعہ سے جو مشورے دے رہے ہیں، ان کی بنیاد پر ایک ایجوکیشن چارٹر تیار کیا جائے گا۔ اسی ایجوکیشن چارٹر کی بنیاد پر تعلیمی شعبہ میں ضروری اصلاحات نافذ کیے جائیں گے اور ملک کے تعلیمی نظام کو بہتر بنایا جائے گا۔‘‘
اس پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اودے بھانو چب نے کہا کہ ’’مودی حکومت کی پالیسیاں پیپر لیک جیسی بیماری کو لگاتار بڑھا رہی ہے، جس سے ملک کے کروڑوں طلبا کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے۔ آج اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی ’چھاتروں کی گونج‘ مہم کے تحت دہرادون کے طلبا سے گفتگو کریں گے۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’چھاتروں کی گونج مہم پریس کانفرنس سے شروع ہوئی، جس کے بعد ہم نے طلبا اور نوجوانوں کے ساتھ الگ الگ پروگراموں کے ذریعہ بات چیت شروع کی۔‘‘
’چھاتروں کی گونج‘کے تحت ہونے والی تقاریب کا ذکر کرتے ہوئے اودے بھانو نے کہا کہ ’’اس کے تحت یکم اگست کو الگ الگ شہروں میں دھرنا دیا جائے گا، 9 اگست کو ’دہلی چلو‘ کے سلوگن کے ساتھ پارلیمنٹ کا گھیراؤ کیا جائے گا۔ اسی کے ساتھ پیپر لیک کے خلاف ڈیجیٹل مہم بھی چلائی جائے گی، جہاں طلبا 2 منٹ کی ویڈیو بنا کر پیپر لیک کے خلاف آواز اٹھا سکتے ہیں۔‘‘ وہ یہ جانکاری بھی دیتے ہیں کہ ’’ابھی تک ’چھاتروں کی گونج‘ مہم میں 6.5 لاکھ لوگوں نے رجسٹریشن کیا ہے، 50 ہزار لوگوں نے مسڈ کال کے ساتھ ہمیں حمایت بھی دی ہے۔‘‘ اودے بھانو چب نے میڈیا کے سامنے کانگریس کے مطالبات بھی رکھے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہمارے مطالبات واضح ہیں... وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدہ سے استعفیٰ دیں، پیپر لیک مافیا کے خلاف سخت کارروائی ہو، سالانہ کیلنڈر بنے جس میں سال بھر میں ہونے والے امتحانات، ریزلٹ اور تقرریوں کی تاریخ پہلے سے طے ہو۔‘‘ وہ آخر میں یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’ہم ایجوکیشن سسٹم کو بہتر بنانا چاہتے ہیں، جہاں پیپر لیک کی گنجائش ہی نہ ہو۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
