چھاتروں کی گونج: ’منوسمرتی کہتی ہے خاتون کبھی آزاد نہ ہو، وہ ہمیشہ کسی مرد کے تابع رہے‘، راہل گاندھی کا تلخ تبصرہ
راہل گاندھی کہا کہ سماج میں خواتین کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے تشدد کا استعمال کیا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’تشدد کے 3 طریقے ہیں... جسمانی تشدد، مواقع پر مبنی تشدد اور معاشی تشدد۔‘‘
’’خواتین کو دبانے کا مائنڈسیٹ منوسمرتی سے آتا ہے اور آج ہماری جنگ اسی مائنڈسیٹ سے ہے۔ بی جے پی-آر ایس ایس کے لوگ چاہتے ہیں کہ لڑکیاں/خواتین پنجرے میں بند رہیں۔ لیکن ہم ایسا ہندوستان نہیں چاہتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ احترام سبھی کا ہو۔‘‘ یہ بیان لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے آج مہاراشٹر کے پونے شہر واقع ’اے آئی ایس ایس ایم ایس کالج گراؤنڈ‘ میں منعقد ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ انھوں نے طالبات اور جین-زی خواتین کے لیے مخصوص اس پروگرام میں ہزاروں خواتین کے سامنے نہ صرف منوسمرتی کے نظریات کو سرے سے مسترد کیا، بلکہ خواتین کو کئی معنوں میں مردوں سے برتر بھی بتایا۔
راہل گاندھی نے اس تقریب کے دوران خواتین کی سلامتی سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو ماں، بیوی یا بیٹی کے کردار تک محدود کر کے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ خواتین بذات خود اپنی ایک الگ شناخت رکھتی ہیں، وہ کسی کے تابع نہیں ہو سکتیں۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ نے منوسمرتی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ’’اس میں لکھا ہے کہ بچپن میں عورت کو اپنے والد کے تابع رہنا چاہیے، جوانی میں اپنے شوہر کے تابع، اور جب اس کا شوہر مر جائے تو اپنے بیٹوں کے تابع۔ عورت کو کبھی خود مختار نہیں ہونا چاہیے۔‘‘ انھوں نے صاف لفظوں میں کہا کہ منوسمرتی کے مطابق عورت کو کبھی آزاد نہیں ہونا چاہیے، لیکن ملک کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ خواتین آزاد ہوں، اپنے لیے کھڑی ہوں اور خود پر اعتماد کریں۔
ہزاروں خواتین کی بھیڑ سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ خواتین فطرتاً مردوں کے مقابلے میں زیادہ حساس، نرم مزاج، رحم دل اور دور اندیش ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہندوستان کی خواتین کو ملک کی سب سے بڑی طاقت تصور کرتے ہیں۔ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ جب بھی وہ مردوں سے بات کرتے ہیں تو خواتین کو اکثر 3 کرداروں میں تقسیم کر کے دیکھا جاتا ہے- بیٹی، بیوی یا ماں۔ راہل کہتے ہیں کہ ’’بیٹی، بیوی یا ماں کے طور پر شناخت ہونے میں کچھ بھی غلط نہیں ہے، لیکن کسی خاتون کی بس یہی واحد شناخت نہیں ہو سکتی۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’ملک میں بہت سی باصلاحیت خواتین مختلف شعبوں میں شاندار کام کر رہی ہیں۔ وہ پیشہ ور ہیں، کھلاڑی ہیں اور کئی طرح کے کام کرتی ہیں۔ ایسے میں ان کی شناخت صرف بیٹی، بیوی یا ماں تک محدود نہیں کی جا سکتی۔‘‘
’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام میں راہل گاندھی نے کئی طالبات سے ان کے مسائل اور زندگی میں پیش آئے واقعات پر گفتگو کی۔ ایک موقع پر انھوں نے خواتین سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ سماج میں خواتین کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے تشدد کا استعمال کیا جاتا ہے۔ انھوں نے تشدد کے طریقوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ’’اس کے 3 طریقے ہیں... جسمانی تشدد، مواقع پر مبنی تشدد اور معاشی تشدد۔‘‘ جسمانی تشدد کے بارے میں بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’’سالانہ 4.5 لاکھ بیٹیوں کا قتل حمل میں ہی کر دیا جاتا ہے، 80 فیصد خواتین کے ساتھ جنسی استحصال ہوتا ہے، 29 فیصد خواتین کے ساتھ جسمانی تشدد کیا جاتا ہے اور 6 فیصد خواتین کے ساتھ عصمت دری ہوتی ہے۔‘‘ مواقع پر مبنی تشدد سے متعلق انھوں نے کہا کہ 50 فیصد خواتین کو سیکورٹی کے نام پر تعلیم یا کام کرنے سے رجیکشن جھیلنا پڑتا ہے۔ اسی طرح معاشی تشدد یہ ہے کہ محفوظ سفر کے نام پر سالانہ 17500 روپے کا اضافی خرچ برداشت کرنا پڑتا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
