حمل ضائع کرنے کی گولی کھانے کے سبب چنئی کی ایک خاتون فوت

تمل ناڈو کی راجدھانی چنئی میں ایک آٹھ ماہ کی حاملہ خاتون نے محض اس لئے حمل ضائع کرنے کی گولیاں کھا لیں کیونکہ وہ زچگی کے دوران ہونے والی پیچیدگیوں سے خوفزدہ تھی، اس واقعہ میں خاتون کی موت واقع ہو گئی

علامتی تصویر / آئی اے این ایس
علامتی تصویر / آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

چنئی: تمل ناڈو کی راجدھانی چنئی میں ایک آٹھ ماہ کی حاملہ خاتون نے محض اس لئے حمل ضائع کرنے کی گولیاں کھا لیں کیونکہ وہ زچگی کے دوران ہونے والی پیچیدگیوں سے خوفزدہ تھی، اس واقعہ میں خاتون کی موت واقع ہو گئی۔ پولیس نے منگل کے روز یہ اطلاع دی۔ 23 سالہ کماری کنجاکم بنیادی طور پر اڈیشہ کی رہنے والی تھی لیکن وہ چنئی میں اپنے شوہر پرتاپ اولاکا اور بھتیجی گیتا کنجاکا کے ساتھ رہتی تھی۔

پولیس نے بتایا کہ متوفی کنجاکم اپنی بھانجی کے ہمراہ ایک ایسی خاتون کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے اڈیشہ گئی تھی جو کہ بچے کی پیدائش کی پیچیدگیوں کے سبب فوت ہو گئی تھی۔ اس کے بعد وہ چنئی واپس آنے کے بعد ذہنی دباؤ میں تھی۔


بیس ستمبر کو چنئی پہنچنے کے بعد وہ باتھ روم میں پھسل گئی، اسے پیٹ میں درد کی شکایت کے بعد کلپوک میڈیکل کالج اور ہسپتال لے جایا گیا۔ وہاں ڈاکٹروں نے تشخیص کے بعد کہا کہ اس کے رحم میں انفیکشن ہے اور صورتحال سنگین ہے۔ خاتون کے گھر والوں کو مطلع کیا گیا کہ اس کی بچہ دانی کو نکالنا پڑے گا۔

اس کی بچہ دانی کو نکالنے کے لیے سرجری کی گئی لیکن وہ ٹھیک نہیں ہوئی اور فوت ہو گئی۔ پوسٹ مارٹم اور خاندان کی تفتیش کے بعد پتہ چلا کہ اس نے حمل ضائع کرنے کے لیے گولیاں کھائی تھیں۔ جبکہ ہسپتال نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ ایک ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر آئی اے این ایس کو بتایا کہ باتھ روم میں گرنے سے پہلے ہی اس کی بچہ دانی کمزور تھی اور گولیوں نے اس کی حالت مزید خراب کر دی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔