کورونا: ڈاکٹر کو دفنانے پر ہنگامہ، ڈاکٹر کی بیوہ نے نم آنکھوں سے بتائی آخری خواہش

ڈاکٹر کی بیوہ آنندی سائمن نے تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ کو بتایا کہ وینٹی لیٹر پر رکھے جانے سے ٹھیک پہلے ڈاکٹر سائمن نے کہا تھا کہ ان کی آخری رسوم پورے اعزاز کے ساتھ ادا ہو۔

علامتی تصویر
علامتی تصویر
user

قومی آوازبیورو

تمل ناڈو کی راجدھانی چنئی میں ایک حیران کرنے والا واقعہ پیش آیا ہے جہاں کووڈ-19 پازیٹو ایک ڈاکٹر کو دفنائے جانے کے معاملہ پر ہنگامہ شروع ہو گیا ہے۔ ڈاکٹر کورونا کے مریضوں کا علاج کرتے ہوئے اس انفیکشن کے شکار ہو گئے تھے اور پھر بعد میں ہارٹ اٹیک کی وجہ سے ان کی جان چلی گئی۔ جب مہلوک ڈاکٹر کی لاش اسپتال کے کچھ اہلکار اور کنبہ کے کچھ افراد قبرستان لے جا رہے تھے تبھی بھیڑ نے ایمبولنس پر لاٹھی ڈنڈے سے حملہ کر دیا۔ بھیڑ نہیں چاہتی تھی کہ لاش کو قبرستان میں دفنایا جائے، کیونکہ ان کے مطابق اگر ایسا ہوا تو انفیکشن دوسرے لوگوں کو بھی پھیل جائے گا۔ مجبوراً لاش کے ساتھ سبھی لوگوں کو واپس لوٹنا پڑا۔

یہ واقعہ 55 سالہ ڈاکٹر سائمن کی لاش کے ساتھ پیش آیا ہے۔ ڈاکٹر سائمن کی بیوی آنندی سائمن اس واقعہ سے بہت افسردہ ہیں اور انھوں نے تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ پلانی سامی سے اپنے شوہر کی آخری رسوم پورے اعزاز کے ساتھ ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔ آنندی سائمن نے وزیر اعلیٰ کو بتایا کہ وینٹی لیٹر پر رکھے جانے سے ٹھیک پہلے ڈاکٹر سائمن نے کہا تھا کہ ان کی آخری رسوم پورے اعزاز کے ساتھ ادا ہو۔ ان کی یہ آخری خواہش ضرور پوری ہونی چاہیے۔

قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر سائمن کے انتقال کے بعد مقامی چرچ کے پادری نے کلپک میں دفن کی اجازت دے دی تھی، لیکن وہاں جمع بھیڑ نے ایسا نہیں ہونے دیا۔ خبر رساں ادارہ پی ٹی آئی نے اس سلسلے میں خبر دی تھی کہ جس ایمبولنس میں 55 سالہ نیوروسرجن کی لاش کو قبرستان لے جایا گیا تھا، اس کی وِنڈ اسکرین کو ڈنڈوں سے توڑ دیا گیا۔ اس واقعہ کے تعلق سے ڈاکٹر پردیپ نے بتایا کہ "دو ایمبولنس ڈرائیور جو جسد خاکی کو ایمبولنس سے زمین پر رکھ رہے تھے، حملے میں زخمی ہو گئے۔ دو سینیٹائزیشن افسر کو بھی کافی چوٹیں آئیں۔ اس کے علاوہ تین دیگر لوگوں پر بھی حملہ کیا گیا۔"

بہر حال، تازہ ترین خبروں کے مطابق ڈاکٹر سائمن کی لاش کو دفن کر دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر پردیپ نے اس تعلق سے بتایا کہ "واقعہ کی جانکاری ملنے کے بعد میں نے دو وارڈ بوائے اور ایمبولنس لے کر خود قبرستان لے جانے کا فیصلہ کیا۔ وارڈ بوائے اور میں نے جلدی سے لاش کو گڈھے میں اتارا، کیونکہ ہمیں ڈر تھا کہ تشدد دوبارہ پیدا نہ ہو جائے۔"

اس درمیان تمل ناڈو کے وزیر صحت وجے بھاسکر نے لوگوں کو یقین دلایا ہے کہ کووڈ-19 کے مریضوں کی موت کے بعد انھیں دفنانے سے آس پڑوس کے لوگوں کو کوئی نقصان نہیں ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے ان لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے جنھوں نے ایمبولنس اور اسپتال اسٹاف پر حملہ کیا تھا۔