چاندنی چوک بازار: تاریخ کو سمیٹے اور سنجوئے پرانی دہلی کا دلکش مقام

مغل دور میں چاندی کے تاجر یہاں سے چاندی کی تجارت کرتے تھے۔ چاندی کا یہ بازار شاہجہاں کی بیٹی جہاں آرا بیگم کے ذریعہ بنایا گیا تھا۔ ایک دور وہ بھی تھا جب اسے ’سلور اسٹریٹ‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

ثنا سلطان

پرانی دہلی میں کئی ساری کہانیاں چھپی ہوئی ہیں۔ یہاں ایک مشہور بازار چاندنی چوک ہے اور اس سے بھی کئی تاریخی کہانیاں جڑی ہوئی ہیں جس کا پتہ کم ہی لوگوں کو ہے۔ یقیناً چاندنی چوک کا تعارف کرانے کی دہلی والوں کو ضرورت نہیں ہے، لیکن ایسے لوگ بھی ہندوستان اور دنیا میں موجود ہیں جو اس تاریخی چاندنی چوک کی دلکشی اور خصوصیات سے ناواقف ہیں۔ جی ہاں، اور ایسے ہی لوگوں کو میں بتانا چاہوں گی کہ چاندنی چوک دہلی کے سب سے قدیم بازاروں میں سے ایک ہے جو پرانی دہلی ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع ہے۔ مغل دور سے ہی اس بازار کا اپنا شاہی انداز رہا ہے۔ چاندنی چوک کا نام ’چاندنی چوک‘ کیوں پڑا، یہ جاننا بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے۔

چاندنی چوک بازار: تاریخ کو سمیٹے اور سنجوئے پرانی دہلی کا دلکش مقام

دراصل مغل دور میں چاندی کے تاجر یہاں سے چاندی کی تجارت کرتے تھے۔ چاندی کا یہ بازار شاہجہاں کی بیٹی جہاں آرا بیگم کے ذریعہ بنایا گیا تھا۔ ایک دور وہ بھی تھا جب اسے ’سلور اسٹریٹ‘ کے نام سے جانا جاتا تھا لیکن اسے شہرت ملی ’چاندنی چوک‘ کے نام سے جو آج بھی باقی ہے۔ اس چاندنی چوک بازار کی شہرت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کئی ہندی فلموں، نغموں یا پنجابی کے پوپ نغموں میں چاندنی چوک کا تذکرہ ملتا ہے۔ کچھ ہندی فلموں کی تو شوٹنگ بھی چاندنی چوک کو مرکز میں رکھ کر کی گئی ہے۔ یہ سلسلہ جاری ہے اور مثال کے طور پر فلم ’دہلی 6‘ اور ’چاندنی چوک ٹو چائنا‘ کو سامنے رکھا جا سکتا ہے جس کے نام سے ہی ظاہر ہے کہ بات دہلی 6 یا چاندنی چوک کی ہو رہی ہے۔

چاندنی چوک بازار: تاریخ کو سمیٹے اور سنجوئے پرانی دہلی کا دلکش مقام

جب آپ لال قلع سے لے کر فتح پوری مسجد تک جاتے ہوئے روڈ پر چہل قدمی کریں گے تو ہر قدم ایک تاریخ بیان کرتی ہوئی نظر آئے گی۔ قدم قدم پر کھانے پینے کی لذیز چیزیں نظر آئیں گی، کپڑوں کی دلکش دکانیں دیکھنے کو ملیں گی، عورتوں کے لیے زیورات اور جوتے چپل دکھائی پڑیں گے، گویا کہ ہر طرح کی چیزیں آپ کو چاندنی چوک بازار میں مل جائیں گی۔ اب تو کئی بینک اور ان کے اے ٹی ایم بھی اس سڑک پر نظر آ جاتے ہیں۔ ہر روز یہاں خریداروں کی بھیڑ بڑھتی ہی جا رہی ہے جو اس کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ لال قلع سے فتح پوری مسجد تک کئی راستے کٹتے ہیں اور ان راستوں پر بھی طرح طرح کی چیزیں فروخت ہوتی ہوئی نظر آ جاتی ہیں۔ لال قلع سے اندر آتے وقت سیدھے ہاتھ پر آپ کو سائیکل کا ایک خوبصورت مارکیٹ بھی نظر آئے گا جہاں نئے اور دلکش ڈیزائن والے سائیکل فروخت ہوتے ہیں اور بچوں کے لیے تو بیٹری والی سائیکل خوب پسند کیے جاتے ہیں۔

چاندنی چوک بازار: تاریخ کو سمیٹے اور سنجوئے پرانی دہلی کا دلکش مقام

چاندنی چوک پر ہی الیکٹرانک مارکیٹ بھی موجود ہے جہاں لوگوں کی بھیڑ بہت زیادہ ہوتی ہے۔ چونکہ موجودہ دور الیکٹرانک سامانوں کا دور ہے تو اس مارکیٹ میں بھیڑ ہونا بھی یقینی ہے۔ یہاں آپ کو ہر طرح کے الیکٹرانک سامان مل جائیں گے، مثلاً دیدہ زیب ایل ای ڈی بلب، مرکری، الیکٹرانک بورڈس، موبائل سے متعلق چیزیں وغیرہ۔ اسی کے دوسری جانب بڑھنے پر مندر دگمبر جین نظر آ جائے گا جو مغل دور کا ہے۔ شاہجہاں کے زمانے میں ہی اس مندر کی تعمیر ہوئی تھی اور اس کی بھی ایک الگ تاریخ ہے۔ دراصل شاہجہاں نے جین مذہب کے کچھ لوگوں کو دہلی میں مدعو کیا تھا اور ان لوگوں کو جنوبی چاندنی چوک میں زمین تحفہ میں پیش کی تھ اور دگمبر جین مندر اس کی ہی نشانی ہے۔ جین مندر سے ہی ملحق برڈس ہاسپیٹل ہے جو اس مندر کے ذریعہ ہی چلایا جاتا ہے۔ دگمبر مندر کے بعد گوری شنکر مندر ہے اور یہ علاقہ دریبا کلاں کہلاتا ہے۔ یہاں ایک راستہ کٹتا ہے جہاں صرف چاندنی اور پتھر کے زیورات فروخت ہوتے تھے، لیکن اب یہاں مختلف چیزوں سے تعمیر کردہ اور دلکش زیورات کئی دکانوں میں فروخت ہوتے ہوئے نظر آ جائیں گے۔

چاندنی چوک بازار: تاریخ کو سمیٹے اور سنجوئے پرانی دہلی کا دلکش مقام

اس علاقے سے مزید آگے بڑھیں گے تو آپ کو مندر کے علاوہ سیس گنج گرودوارہ بھی موجود ہے۔ سکھ سماج میں اس گرودوارے کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ یہاں روزانہ بڑی تعداد میں لوگ حاضر ہوتے ہیں۔ اس سے تھوڑا آگے بڑھنے پر آپ کو نئی سڑک نظر آ جائے گی جہاں کتابیں، شادی کے لیے لہنگے اور سوٹ وغیرہ فروخت ہوتے ہیں۔ چہل قدمی کرتے ہوئے آپ یہاں پر اسٹریٹ فوڈ پر ذائقہ دار چیزوں کا مزہ بھی لے سکتے ہیں۔ یہاں پر ٹاؤن ہال سے جب آپ فتح پوری مسجد کی طرف بڑھیں گے تو بیچ میں کٹرا نیل موجود ہے جہاں کرشنا مارکیٹ ہول سیل کپڑوں کے لیے مشہور ہے۔ جب شادیوں کا موسم اپنے عروج پر ہوتا ہے تو یہاں پیر رکھنے تک کی جگہ نہیں ہوتی۔ یہ مارکیٹ بھی گلیوں کے جال پر مشتمل ہے۔ اگر ان گلیوں کو کپڑوں کا جال بھی کہا جائے تو نامناسب نہیں ہوگا۔ ایک بار جب آپ اندر داخل ہو گئے تو چار پانچ گھنٹے گزر جائیں گے اور آپ کو وقت گزرنے کا اندازہ بھی نہیں ہوگا۔

چاندنی چوک بازار: تاریخ کو سمیٹے اور سنجوئے پرانی دہلی کا دلکش مقام

چاندنی چوک دراصل تاریخ تو سمیٹے ہوئے ہے ہی، کئی طرح کی خوبیوں سے بھرا ہوا ہے۔ خاص طور سے یہاں کی مارکیٹ لوگوں کی جان ہیں کیونکہ یہاں ہر طرح کی چیزیں مل جاتی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ آپ کی جیب کے مطابق یہاں سستی اور مہنگی چیزیں دستیاب ہیں، تو پھر آخر کوئی دوسری جگہ جانا کیوں پسند کرے! لیڈیز کپڑوں کی بات ہو، بچوں کا لباس ہو یا پھر مردوں کے ملبوسات، سبھی یہاں موجود ہیں۔ اس بازار میں مغربی برانڈ کی دکانیں بھی جگہ جگہ مل جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ کھانے پینے کے معاملہ میں تو ویسے بھی پرانی دہلی کا ہر بازار مشہور ہے۔ یہاں بھی آپ کو کٹرا نیل کے باہر اور جگہ جگہ گلیوں میں چھولے بھٹورے اور طرح طرح کی مٹھائیاں نظر آ جائیں گی۔ گرمی کے دنوں میں لسّی پینا بھی لوگ خوب پسند کرتے ہیں۔ اور ہاں... ایک چیز تو بتانا میں بھول ہی گئی، بلیماران کا بازار بھی یہاں مشہور ہے جہاں چمڑے کے خوبصورت اور نئے نئے ڈیزائن کے جوتے آپ خرید سکتے ہیں اور مشہور زمانہ کولہاپوری چپل بھی آپ کے لیے یہاں موجود ہیں۔ یقین مانیے، چاندنی چوک بازار کی سیر ایک الگ ہی لطف رکھتا ہے اور اس کا اندازہ بازار کی سیر کرنے والے ہی لگا سکتے ہیں۔

Published: 21 Jan 2019, 12:09 PM