سابق بی جے پی ایم پی چندن مترا، ممتا بنرجی کا دامن تھامنے کو تیار!

خبروں کے مطابق انگریزی روزنامہ ’دی پائنیر‘ کے ایڈیٹر ان چیف و منیجنگ ڈائریکٹر اور دو مرتبہ راجیہ سبھا کے رکن رہ چکے مترا نے بی جے پی سے اسعفی دے دیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

سید خرم رضا

انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپریس میں شائع خبر کے مطابق معروف ایڈیٹر، صحافی اور 2003 سے 2016 کے درمیان راجیہ سبھا کے رکن رہ چکے چندر مترا نے بی جے پی کی ابتدائی رکنیت سے استعفی دے دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق چندن مترا ممتا بنرجی کی آل انڈیا ترنمول کانگریس میں شامل ہونے جا رہے ہیں۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ مترا ترنمول کانگریس سے 2019 کا لوک سبھا چناؤ لڑنے جا رہے ہیں۔ چندن مترا کے استعفی کی خبر اگر پختہ ہے تو یہ بی جے پی کے لئے بری خبر ہے۔

پچھلے کچھ دنوں سے بی جے پی کے رہنماؤں میں اندرونی تنازعہ چل رہا ہے اور متعدد بی جے پی رہنما مودی حکوت سے ناراض چل رہے ہیں ۔ یشونت سنہا ، شتروگھن سنہا، ارون شوری اور کیرتی آزاد کافی دنوں سے اپنی ہی پارٹی سے ناراض ہیں، یشونت سنہا نے تو آخر میں بی جے پی چھوڑ ہی دی۔ چندن مترا بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہیں۔

متعدد بی جے پی رہنما اپنی ہی پارٹی میں گھٹن محسوس کررہے ہیں اور کوئی دوسرا متبادل تلاش کر رہے ہیں۔ چندن مترا کے پارٹی چھوڑ دینے کے بعد بی جے پی کی اس طویل مدتی کوششوں کو شدید جھٹکا لگے گا جن کے سہارے و ہ مغربی بنگال میں پیر پسارنا چاہتی ہے۔ بی جے پی کے صدر امت شاہ اور وزیر اعظم نریندر مودی کا ارادہ تھا کہ جس طرح تریپورہ میں بی جے پی نے سی پی ایم کو شکست دی ہے اسی طرز پر بنگال کو بھی فتح کیا جائے ۔ چندن مترا کے پارٹی چھوڑنے کے بعد بی جے پی کے لئے بنگال فتح کا خواب شرمندہ تعبیر کر پانا بہت مشکل ہو جائے گا۔

پیر یعنی 17 جولائی کو ایک طرف جہاں وزیر اعظم نریندر مودی مغربی بنگال کے مدناپور میں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی پر نشانہ لگا رہے تھے، وہیں دوسری طرف ممتا بنرجی بی جے پی کے چندن مترا سے بات کر رہی تھی، نتیجتاً انہوں نے نے بغاوت کر دی۔

باضابطہ طور پر چندن مترا کے استعفی دینے اور اسے بی جے پی کی طرف سے قبول کئے جانے کے حوالے سے ابھی تک کوئی خبر نہیں ہے لیکن یہ بات واضح ہے کہ بی جے پی نے چندن مترا کو درکنار کر دیا ہے اور اب کسی فیصلہ میں انہیں پوچھا نہیں جا رہا ہے۔

چندن مترا اپنے قریبی لوگوں سے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ سیاست کی بجائے اپنے اخبار ’دی پائنیر ‘کو توجہ دینا چاہتے ہیں، جس کے وہ ایڈیٹر اور منیجنگ ڈائریکٹر ہیں۔

چندن مترا کو 2003 میں صدر جمہوریہ نے راجیہ سبھا کے لئے نامزد کیا تھا ۔ اس کے بعد دوبارہ 2010 میں مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا کے لئے منتخب ہوئے۔ بی جے پی کے ایک ذرائع کا کہنا ہے کہ چندن مترا چونکہ سابق نائب وزیر اعظم لال کرشن آڈوانی کے قریبی ہیں اسی کا خمیازہ انہیں اٹھانا پڑ رہا ہے۔

بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ رہنے کے وقت بھی چندن مترا کو بی جے پی کارکنان کی طرف سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ دراصل سوشل میڈیا پر منافرت پھیلانے اور لوگوں کو ٹرول کرنے کے معاملہ پر انہوں نے یہ کہہ دیا تھا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ انہیں کچھ اور کام نہیں ہے۔‘ اس کے بعد آئی ٹی سیل والوں نے انہیں مزید ٹرول کیا۔ راجیہ سبھا کی مدت پوری ہونے کے بعد پارٹی نے ان کو مزید راجیہ سبھا میں بھیجنے سے انکار کر دیا۔

حال ہی میں جب کیرانہ کے ضمنی انتخابات میں بی جے پی کوشکست ہوئی تھی تب چندن مترا نے کہا کہ حکومت کسانوں کے مسائل پر زیادہ توجہ نہیں دے رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔