گری راج سنگھ نے پھر اُگلا زہر، کہا ’1947 میں ہی مسلمانوں کو پاکستان بھیج دینا چاہیے تھا‘

گری راج سنگھ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’1947 میں ہمارے بڑوں سے بہت بڑی بھول ہوئی۔ اگر تبھی مسلمانوں کو پاکستان بھیج دیا جاتا اور ہندوؤں کو یہاں بلا لیا جاتا تو آج حالات خراب نہیں ہوتے۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے ایک بار پھر مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتے ہوئے انتہائی متنازعہ بیان دیا ہے۔ بہار کے پورنیا میں انھوں نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ ’’1947 میں ہی سبھی مسلمانوں کو پاکستان بھیج دینا چاہیے تھا۔ ایسا نہیں کر کے ہمارے آبا و اجداد نے بڑی غلطی کی۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کے نام پر ہندوستان مخالف ایجنڈا چلایا جا رہا ہے۔ سی اے اے پر جو زبان پاکستان بولتا ہے، وہی اپوزیشن کے لوگ بھی بول رہے ہیں۔‘‘

گری راج سنگھ نے آزادی اور تقسیم ہند کی بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’1947 کے پہلے ہمارے آبا و اجداد آزادی کی لڑائی لڑ رہے تھے اور جناح ملک کو اسلامک اسٹیٹ بنانے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ اس وقت ہمارے بڑوں سے بہت بڑی بھول ہوئی۔ اگر تبھی مسلمان بھائیوں کو وہاں (پاکستان) بھیج دیا جاتا اور ہندوؤں کو یہاں بلا لیا جاتا تو آج یہ نوبت ہی نہیں آتی۔‘‘ انھوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’’علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا ایک طالب علم کہتا ہے کہ جو ہماری قوم سے ٹکرایا ہے وہ برباد ہوا ہے۔ میں بھی کہنا چاہتا ہوں کہ یہاں بھی جو ہم سے ٹکرائے گا، برباد ہو جائے گا۔‘‘ گری راج سنگھ نے آگے کہا کہ ’’بھارت تیرے ٹکڑے ٹکڑے ہوں گے کے نعرے لگتے ہیں۔ اس لیے آج وقت آ گیا ہے کہ لوگوں کو ملک کے تئیں وفادار اور خودسپرد ہونا ہوگا۔‘‘

واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی گری راج سنگھ کئی بار متنازعہ بیان دے چکے ہیں۔ سہارنپور میں انھوں نے کہا تھا کہ ’’یہ دیوبند دہشت گرد کی گنگوتری ہے۔ دنیا میں جو بھی دہشت گرد پیدا ہوئے، چاہے حافظ سعید کا معاملہ ہو، یہ سارے لوگ یہیں سے نکلتے ہیں۔ یہ سی اے اے کے خلاف میں نہیں ہیں، یہ ہندوستان کے خلاف میں ہیں۔ ایک طرح سے یہ خلافت تحریک ہے۔‘‘