مرکز ملٹری کالجوں کے 2022 تعلیمی سیشن میں طالبات کو داخلہ دے: سپریم کورٹ

کیلاش مادھر راؤ نے اپنی عرضی میں نیشنل ملٹری اسکول اور نیشنل ملٹری کالج سمیت وزارت دفاع کے تحت چلنے والے تمام اسکول کالجوں میں طالبات کو رجسٹریشن روکنے کے التزامات کو چلینج کیا تھا۔

سپریم کورٹ / آئی اے این ایس
سپریم کورٹ / آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کو مرکزی حکومت کو حکم دیا کہ وہ آئندہ سال شروع ہونے والے تعلیمی سیشن کے لیے نیشنل ملٹری کالجوں میں طالبات (لڑکیوں) کے داخلے کی اجازت دے۔ جسٹس ایس کے کول اور جسٹس ایم ایم سندریش کی بنچ نے اس بابت کیلاش مادھو راؤ مورے کی جانب سے دائر کی گئی ایک پی آئی ایل پر سماعت کرتے ہوئے حکومت کی اس دلیل کو مسترد کر دیا کہ جس میں حسب ضرورت وقت کی کمی بتاتے ہوئے لڑکیوں کے لیے جنوری 2023 میں شروع ہونے والے تعلیمی سیشن سے رجسٹریشن دینے کی بات کی گئی ہے۔

عدالت عظمیٰ میں مرکز کی جانب سے پیش ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل ایشوریا بھاٹی نے دلیل دی کہ 18 دسمبر 2021 کو جون 2022 سے شروع ہونے والے تعلیمی سیشن کے لیے انٹرنس امتحان لینے کے اشتہارات پہلے ہی جاری ہو چکے ہیں اور تیاریاں آخری مرحلے میں ہے۔ وقت کی قلت کی وجہ سے حکومت جنوری 2023 سے شروع ہونے والے تعلیمی سیشن میں لڑکیوں کو رجسٹریشن کی اجازت دینا چاہتی ہے۔


سپریم کورٹ نے کہا کہ ’’آپ (حکومت) ہر چیز کو آسانی سے ملتوی کرنا چاہتے ہیں۔ آپ اسے ایک سال کے لیے کیوں ملتوی کرنا چاہتے ہیں؟ آپ کے پاس 2022 کے تعلیمی سیشن کے لیے ابھی چھ ماہ باقی ہیں۔‘‘ بنچ نے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل کی ایک سال کی ملتوی کرنے کی دلیل کو مسترد کرتے ہوئے حکم دیا کہ حکومت کی اجازت کے بعد 18 دسمبر 2021 کو ہونے والے داخلہ امتحان میں لڑکیوں کے شریک ہونے کے لیے اشتہار کو ترمیم کے ساتھ دوبارہ جاری کیا جائے تاکہ لڑکیاں اس میں حصہ لے سکیں۔

کیلاش مادھر راؤ نے اپنی عرضی میں نیشنل ملٹری اسکول اور نیشنل ملٹری کالج سمیت وزارت دفاع کے تحت چلنے والے تمام اسکول کالجوں میں طالبات کو رجسٹریشن روکنے کے التزامات کو چلینج کیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔