’مرکزی حکومت دہلی اسمبلی انتخابات کے نتائج سے عقل کے ناخن لے‘

پروفیسر اخترالواسع نے کہا عوام نے سی اے اے‘ این آر سی اور این پی آر کو ایک طرح سے یکسر طور پر مسترد کردیا اور یہ بتا دیا کہ اب مرکزی حکومت کا یہ فیصلہ قابل قبو ل نہیں ہے۔

نریندر مودی اور امت شاہ
نریندر مودی اور امت شاہ
user

یو این آئی

نئی دہلی: ماہر اسلامیات اور مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور کے صدر پروفیسر اخترالواسع نے امید ظاہر کی ہے کہ دہلی اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور بی جے پی کی مرکزی قیادت عقل کے ناخن لے گی اور اپنے موقف سے ہٹ کر بہادری اور اخلاقی جرأت کا ثبوت دے گی۔ اگرایسا ہو جاتا ہے تو اس ملک میں سیاسی سطح پر ایک نئی تاریخ رقم کی جائے گی۔

پروفیسر اخترالواسع نے کہا کہ حالیہ اسمبلی انتخابات میں عام آدمی پارٹی نے جو کامیابی حاصل کی وہ کئی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ یہ ایک ایسی پارٹی ہے جو تیسری مرتبہ مسلسل برسراقتدار آئی ہے اور جس نے اپنے کام کو ووٹروں کو متاثر کرنے کا ذریعہ بنایا۔ جس نے فرقہ واریت، تشدد، نفرت کے ہر منصوبے کو جسے بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے لیڈروں نے اپنایا اسے نہ صرف نظر انداز کیا اور مسترد کیا بلکہ خود عوام نے بھی اس معاملے میں غیر معمولی صبر و تحمل کا ثبوت دیا۔


انہوں نے کہا کہ اس میں جو سب سے غیر معمولی بات ہے وہ یہ کہ دہلی کے غیر مسلم ووٹر مذہبی منافرت کے نعروں سے متاثر نہیں ہوئے۔ انہوں نے سی اے اے‘ این آر سی اور این پی آر کو ایک طرح سے یکسر طور پر مسترد بھی کردیا اور یہ بتادیا کہ اب مرکزی حکومت کو کہ یہ ہمارے لیے قابل قبو ل نہیں ہے۔ اس کے لیے ہمیں ان کو سلام کرنا چاہیے اور تحسین کرنی چاہیے۔

پروفیسر اختر الواسع کا کہنا تھا کہ اس الیکشن میں شاہین باغ کو سب سے بڑا الیکشن ایشو بنایا گیا اور وہاں پر جو امن و امان کے ساتھ تمام مذاہب کے نمائندے احتجاج کر رہے تھے، خاص طورپر عورتیں، ان کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن دہلی کے عوام نے ان طاقتوں کو مسترد کیا ہے اور خاص بات یہ ہے کہ شاہین باغ جس حلقہ اسمبلی میں آتا ہے وہاں عام آدمی پارٹی کے امیدوار کو زبردست کامیابی ملی اور وہاں سے امانت اللہ خاں کامیاب ہوئے اور اس کے لیے غیر مسلم ووٹروں کے رول اور ان کی تائید کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔