دہلی میں مرکزی حکومت کی مداخلت ضروری: مایاوتی

مایاوتی نے کہا کہ دہلی ملک کا دارالحکومت ہے۔ بہت سارے لوگ باہر سے بہت اپنے ضروری کام کے لئے یہاں آتے ہیں۔ ہنگامی صورتحال میں بھی دہلی سے باہر کے لوگوں کو علاج کی اجازت نہ دینا بدقسمتی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدر مایاوتی نے دہلی میں بیرونی لوگوں کو علاج کی اجازت نہ دینے پر دہلی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور مرکزی حکومت سے اس معاملے میں مداخلت کرنے کو کہا ہے۔ مایاوتی نے پیر کو ایک ٹوئٹ میں کہا کہ دہلی ملک کا دارالحکومت ہے۔ باہر سے بہت سارے لوگوں کو اپنے ضروری کام کے لئے یہاں آنا پڑتا ہے۔ ہنگامی صورتحال میں، لوگ اپنے علاج کے لئے دہلی بھی پہنچ جاتے ہیں۔ دہلی سے باہر کے لوگوں کو علاج کی اجازت نہ دینا بدقسمتی ہے۔ انہوں نے اس معاملے میں مرکزی حکومت سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’دہلی ملک کا دارالحکومت ہے۔ ملک بھر سے لوگ اپنے اہم کاموں کے سلسلے میں یہاں آتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں اگر کوئی شخص اچانک بیمار ہو جاتا ہے، تو یہ بہت بدقسمتی کی بات ہوگی ہے کہ دہلی حکومت ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی اجازت نہیں دے گی، یہ کہتے ہوئے کہ وہ دہلی کا نہیں ہے۔ مرکز کو اس میں مداخلت کرنی ہوگی۔ ‘‘

دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا ہے کہ شہر میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے انفیکشن اور متاثرہ مریضوں کی تعداد کی وجہ سے شہر کے باہر کے لوگوں کا یہاں کے اسپتالوں میں علاج نہیں کیا جائے گا۔ تاہم دہلی سے باہر کے لوگ کینسر اور دیگر سنگین بیماریوں کے علاج کے لئے یہاں کے اسپتالوں میں آسکتے ہیں۔

ایک اور ٹوئٹ میں مایاوتی نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ کورونا وبا کے تناظر میں محتاط رہیں اور جب ضرورت ہو تب ہی گھر چھوڑیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’لوگوں کو آج سے ان لاک 1 کے تحت مذہبی مقامات اور بازاروں وغیرہ میں جانے کے لئے سرکاری قواعد پر سختی سے عمل کرنا چاہیے۔ اگر یہ بہت اہم ہے، تو صرف آپ کو وہاں جانا چاہیے، بصورت دیگر آپ کو جانے سے گریز کرنا چاہیے۔ ان کے مفاد میں بی ایس پی کا یہ مشورہ ہے۔ ‘‘

next