کورونا کے معاملوں میں اضافہ سے مرکزی حکومت فکرمند، دہلی-مہاراشٹر سمیت پانچ ریاستوں کو لکھے مکتوب

ہیلتھ سکریٹری نے کہا کہ کورونا کی بڑھتی تعداد پر لگام لگانے کے لئے پانچ نکاتی حکم عملی ٹیسٹ، ٹریک، ٹریٹ، ٹیکہ کاری اور کورونا سے متعلق مناسب رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

کورونا وائرس، تصویر آئی اے این ایس
کورونا وائرس، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: ملک میں کورونا کے نئے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے سبب مرکزی حکومت حرکت میں آ گئی ہے۔ مرکزی سکریٹری برائے صحت راجیش بھوشن نے دہلی اور مہاراشٹر سمیت پانچ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مکتوب ارسال کرتے ہوئے ان سے کورونا کے معاملوں میں اضافہ اور وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے حوالہ سے سخت اقدام اٹھانے کی ہدایت دی ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ملک میں کورونا کے یومیہ معاملے رپورٹ ہو رہے ہیں کیسز میں بھاری کمی کا ذکر کرتے ہوئے راجیش بھوشن نے کیرالہ، دہلی، مہاراشٹر، ہریانہ اور میزورم کی انتظامیہ سے انفیکشن کی روک تھام کے لئے لگاتار نگرانی کرنے اور کورونا انتظام کے فوری اور موثر اقدام اٹھانے کی ہدایت دی ہے۔


ہیلتھ سکریٹری نے کہا کہ کورونا کی بڑھتی تعداد پر لگام لگانے کے لئے پانچ نکاتی حکم عملی ٹیسٹ، ٹریک، ٹریٹ، ٹیکہ کاری اور کورونا سے متعلق مناسب رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ غورطلب ہے کہ مرکزی وزیر صحت منسکھ منڈاویہ نے افسران کو کورونا کی نئی قسم ’ایکس ای‘ کے حوالہ سے نگرانی اور احتیاط میں مزید اضافہ کی ہدایت دی ہے۔ مانڈویہ نے نئے ویرینٹ ’ایکس ای‘ پر ملک کے اہم ماہرین کے اجلاس کی صدارت کی۔

وزارت کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، انہوں نے افسران سے کہا کہ وہ کورونا کے مریضوں کے علاج کے لئے ضروری ادویات کی دستیابی کا لگاتار جائزہ لیں۔ وزیر نے ٹیکہ کاری مہم کو سرعت دینے اور تمام اہل افراد کی ٹیکہ کاری پر زور دیا۔


خیال رہے کہ ہندوستان میں کووڈ-19 کے 796 نئے کیسز سامنے آنے کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر 43036928 ہو گئی، جبکہ ملک میں زیر علاج مریضوں کی تعداد کم ہو کر 10889 ہو گئی۔ یہ معلومات منگل کے روز مرکزی وزارت صحت کے تازہ ترین اعداد و شمار میں دی گئی ہے۔ صبح 8 بجے وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق انفیکشن سے مزید 19 افراد کی موت کے بعد مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 521710 ہو گئی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔