عدلیہ میں مرکز کی مداخلت خطرناک، مذہب و زبان کی بنیاد پر ملک کے تقسیم ہونے کا خطرہ: جسٹس سنتوش ہیگڑے

جسٹس سنتوش ہیگڑے کا کہنا ہے کہ ملک کے مذہب و زبان کی بنیاد پر تقسیم ہونے کا خطرہ ہے، حالانکہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ کب ہوگا، ملک میں بدعنوانی موجود ہے۔

<div class="paragraphs"><p>جسٹس سنتوش ہیگڑے، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

جسٹس سنتوش ہیگڑے، تصویر آئی اے این ایس

user

قومی آوازبیورو

کرناٹک کے سابق لوک آیُکت اور سپریم کورٹ کے سبکدوش جج جسٹس این سنتوش ہیگڑے نے منگل کے روز ججوں کی تقرری اور عدالتی نظام میں مرکزی حکومت کی مداخلت کو غلط ٹھہراتے ہوئے اس عمل کو خطرناک قرار دیا۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے نشان زد کیا کہ ایگزیکٹیو کو جیوڈیشیری (عدلیہ) میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ انھوں نے متنبہ کیا کہ اس طرح کی مداخلت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

سنتوش ہیگڑے نے کہا کہ سیاسی لیڈروں کو عدلیہ کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں ہونی چاہیے۔ لوک آیُکت بننے سے پہلے میں سماج کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا تھا۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ جو امیر بنیں گے انھیں پورا احترام ملے گا، اور جیل سے باہر آنے والوں کا پرجوش انداز میں استقبال کیا جاتا ہے۔


ہیگڑے کا کہنا ہے کہ اگر عدلیہ میں مرکزی حکومت کی مداخلت ہوئی تو ملک کے مذہب اور زبان کی بنیاد پر تقسیم ہونے کا خطرہ ہے۔ حالانکہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ کب ہوگا۔ ملک میں بدعنوانی موجود ہے، عوامی نمائندوں میں عوام کے مالک ہونے کا احساس پیدا ہو رہا ہے۔ سیاسی لیڈران صرف بدعنوانی کی بات کر رہے ہیں اور ایک دوسرے پر الزام لگا رہے ہیں۔ کوئی بھی اسے ٹھیک نہیں کرنا چاہتا ہے۔

سنتوش ہیگڑے نے کہا کہ اگر ایسی حالت بنی رہی تو لوگ نظام کے خلاف بغاوت کر دیں گے، لیکن انھیں نہیں پتہ کہ یہ حالت کب آئے گی۔ مجھے کئی انعامات، احترام ملے ہیں، میں نے تنظیموں کو پیسے بطور عطیہ دیئے ہیں، لیکن میں نے کسی سے پیسے قبول نہیں کیے ہیں۔ میرے پاس ایک اپارٹمنٹ ہے اور کچھ نہیں، ہمیں صاف ستھرا رہنا ہے۔ ہیگڑے نے یہ بھی کہا کہ معاملوں کو نمٹانے میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے، لیکن سماج کو ایک الگ پیغام مل رہا ہے کیونکہ نمٹارے کے لیے ثالثوں سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔