سی بی ایس ای 12ویں جماعت کے نتائج 10ویں اور 11ویں کی کارکردگی پر منحصر ہوں گے

سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کے نتائج کے حوالہ سے حکومت کی تشکیل شدہ 13 رکنی کمیٹی نے 12ویں جماعت کے نتائج کے حوالہ سے قوائد سپریم کورٹ میں پیش کر دئے ہیں

سپریم کورٹ / آئی اے این ایس
سپریم کورٹ / آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: سی بی ایس ای بورڈ کی 12ویں جماعت کے نتائج اور مارک شیٹ تیار کرنے کے لئے تشدیل دی گئی 13 رکنی کمیٹی نے جمعرات کو سپریم کورٹ میں اپنی رپورٹ پیش کر دی ہے۔ سی بی ایس ای نے بتایا کہ 10ویں، 11ویں اور 12ویں کے پری بورڈ امتحانات کو 12ویں کے حتمی نتائج کی بنیاد بنایا جائے گا۔ سپریم کورٹ میں مرکزی حکومت کی جانب سے اٹارنی جنرل نے بتایا کہ سی بی ایس ای کے نتائج 31 جولائی کو جاری کر دئے جائیں گے۔

سی بی ایس ای نے کہا کہ 10ویں کے 5 سبجیکٹس کے سب سے بہتر نمبرات کو لیا جائے گا، اسی طرح 11ویں کے پاچوں سبجیکٹس کا اوسط لیا جائے گا اور 12ویں کے پری بورڈ ایگزام اور پریکٹیکل کے نمبر لئے جائیں گے۔ حتمی نتیجہ 10ویں کے 30 فیصد، 11 ویں کے 30 فیصد اور 12ویں پری بورڈ کے 40 فیصد نمبرات کی بنیاد پر طے ہوگا۔


عدالت عظمیٰ نے سی بی ایس اسی سے کہا کہ نتائج کمیٹی نے امتحانات کو قابل اعتماد گردانتے ہوئے ویٹیج دینے کا فیصلہ کیا۔ اسکولوں کی پالیسی پری بورڈ میں زیادہ نمبرات فراہم کرنے کی ہوتی ہے، لہذا سی بی ایس ای کے ہزاروں اسکولوں میں ہر ایک کے لئے کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس میں دو سینئر ترین اساتذہ اور پڑوسی اسکول کے اساتذہ ماڈریشن کمیٹی کے طور پر کام کریں گے۔ کمیٹی طلبا کی گزشتہ تین سالوں کی کارکردگی کا جائزہ لیگی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ نمبرات کو بڑھا چڑھا کر نہیں دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ 4 جون کو سی بی ایس ای نے اسسمنٹ پالیسی طے کرنے کے لئے 13 رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ کمیٹی کو رپورٹ تیار کرنے کے لئے 10 دن کا وقت دیا گیا تھا۔ حکومت نے پہلے ہی یہ اعلان کر دیا تھا کہ اگر طلبا اپنے نتیجہ سے خوش نہیں ہوتے تو کورونا کے حالات معمول پر آنے کے بعد وہ نمبرات میں بہتری کے لئے درخواست پیش کر سکتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔