بابری مسجد انہدام کیس: کلیان سنگھ کو بطور ملزم عدالت میں پیش ہونے کا حکم

سی بی آئی کورٹ کےخصوصی جج نے کلیان سنگھ کے عہدے پر نہ رہنے کی بات کا از خود نوٹس لیا اور انہیں بطور ملزم عدالت میں پیش ہونے کا فرمان سناتے ہوئے کیس میں 27 ستمبر کی تاریخ مقرر کر دی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

لکھنو: اترپردیش کے ایودھیا میں بابری مسجد کومنہدم کیے جانے کے مجرمانہ معاملے میں مرکزی جانچ بیورو (سی بی آئی) کی خصوصی عدالت (ایودھیا کیس) نے بی جے پی کے سینئر لیڈر کلیان سنگھ کو سمن جاری کر کے 27 ستمبر کو طلب کرلیا ہے۔

خصوصی جج سریندر کمار یادو نے بار کے ارکان کی اطلاع پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے یہ حکم جاری کیا ہے۔ بار کے ارکان کا کہنا تھا کہ کلیان سنگھ اب گورنر کے عہدے سے ریٹائرڈ ہو چکے ہیں۔ گزشتہ 9 ستمبر کو سی بی آئی نے خصوصی عدالت سے اس معاملے میں کلیان سنگھ کو طلب کرنے کی مانگ کی تھی۔ یہ کہتے ہوئے کہ کلیان سنگھ اب آئینی عہدے پر نہیں ہیں، اس لئے انہیں اس معاملے میں بطور ملزم سمن جاری کیا جائے۔ اس معاملے میں کلیان کے خلاف بھی چارج شیٹ داخل ہے لیکن گورنر ہونے کے ناطے ان پر الزام طے نہیں ہو سکا تھا۔ تب خصوصی عدالت نے سی بی آئی سے اس ضمن میں مصدقہ حقائق پیش کرنے کو کہا تھا۔

11 ستمبر کو سی بی آئی مصدقہ حقائق داخل نہیں کر سکی تھی۔ اس نے کہا کہ ابھی اسے اس تناظر میں ہیڈکوارٹر سے کوئی تحریری اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے، لہذا اس کومزید وقت دیا جائے۔ 16 ستمبر کو بھی سی بی آئی مصدقہ حقائق دائر کرنے میں ناکام رہی۔ ساتھ ہی خصوصی عدالت سے ایک بار پھر وقت کا مطالبہ کیا۔ 21 ستمبر کو بھی سی بی آئی نے وقت دینے کا مطالبہ کیا۔ 30 مئی 2017 کو اس مجرمانہ معاملے میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت (ایودھیا کیس) نے بی جے پی کے سینئر لیڈران لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی، ونے کٹیار اور وشنو ہری ڈالمیا پر تعزیرات ہند کی دفعہ 120 بی (سازش) کے تحت الزامات طے کیے تھے۔ اس کے بعد کیس میں سماعت شروع ہو گئی۔ گورنر ہونے کی وجہ سے کلیان سنگھ کے خلاف الزامات طے نہیں ہو سکے تھے۔

سی بی آئی نے جانچ کے بعد اس معاملے میں کل 49 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی جن میں 16 ملزمان کی موت ہو چکی ہے۔ اب اس معاملے میں 32 ملزمان کے خلاف روز مرہ بنیاد پرسماعت ہو رہی ہے۔ استغاثہ کی جانب سے اب تک قریب 336 گواہ پیش کیے جا چکے ہیں۔ 19 اپریل 2017 کو سپریم کورٹ نے ایک حکم جاری کرکے اس معاملے کی سماعت دو سال میں مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔ حالانکہ ابھی حال ہی میں عدالت نے یہ مدت نو ماہ کے لئے بڑھا دی ہے۔

6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد انہدام کے معاملے میں کل 49 ایف آئی آر درج ہوئی تھیں۔ سی بی آئی نے عرضی میں کہا تھا کہ کلیان سنگھ نے چار ستمبر 2014 کو راجستھان کے گورنر کے عہدے کا حلف لیا تھا۔ ان کی پانچ سال کی مدت تین ستمبر 2019 کو ختم ہو گئی۔ اب وہ کسی آئینی عہدے پر نہیں ہیں، لہذا انہیں اس معاملے میں طلب کرکے مقدمہ چلایا جائے۔ ہفتہ کو سماعت کے دوران کورٹ میں موجود بار کے ارکان کے بتانے پر خصوصی جج نے کلیان سنگھ کے عہدے پر نہ رہنے کی بات کا از خود نوٹس لیا اور انہیں بطور ملزم عدالت میں پیش ہونے کا فرمان سناتے ہوئے کیس میں 27 ستمبر کی تاریخ مقرر کر دی۔

Published: 22 Sep 2019, 4:10 PM
next