سی بی آئی تنازعہ نے پی ایم مودی کی مصیبتوں کا نیا دروازہ کھول دیا

ملک کی سب سے بڑی جانچ ایجنسی میں جاری ہنگامہ کے بعد پہلی بار اس کی اندرونی اٹھا پٹخ کا معاملہ سی بی آئی کی چہار دیواری سے باہر آ چکا ہے اور ہر خاص و عام کے درمیان موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

اوما کانت لکھیڑا

نئی دہلی: سی بی آئی ڈائریکٹر آلوک ورما اور اسپیشل ڈائریکٹر راکیش استھانہ کے درمیان گزشتہ دو ماہ سے چل رہی کھلی جنگ نے مودی حکومت کے سامنے ایک نئی مصیبت کھڑی کر دی ہے۔ ملک کی سرکردہ جانچ ایجنسی، جو کہ براہ راست وزیر اعظم کے ماتحت ہے، اس میں خود وزیر اعظم نریندر مودی کے بے حد چہیتے اسپیشل ڈائریکٹر راکیش استھانہ تو پہلے سے ہی دلدل میں گھرے ہیں۔ اب مرکزی وزیر پر 2 کروڑ روپے کی رشوت کے الزام کا سیاسی ہنگامہ آئندہ دنوں میں سیدھے طور پر وزیر اعظم کے گلے کی ہڈی بننے والی ہے۔

دوسرے نمبر پر قومی سیکورٹی مشیر اجیت ڈووال نشانے پر آ گئے ہیں کہ انھوں نے کس طرح سی بی آئی کے اندر بے حد سنسنی خیز معاملوں کی جانچ کا عمل متاثر کرنے کی کوشش کی۔ ملک کی سب سے بڑی جانچ ایجنسی میں جاری ہنگامہ کے بعد پہلی بار اس کی اندرونی اٹھا پٹخ کی کہانی سی بی آئی کی چہار دیواری سے باہر آ چکی ہے۔ عرضی کے ذریعہ ان سنسنی خیز الزامات کو عدالتی عرضی کا حصہ بنانے کے عمل سے ایسا نہیں لگتا کہ اس سے پیدا ہونے والی سیاسی آگ کو بہ آسانی اتنی جلدی ٹھنڈا کیا جا سکے گا۔

مودی حکومت میں کوئلہ و کانکنی کے وزیر مملکت ہری بھائی پارتھی بھائی چودھری گجرات کی بناس کانٹھا لوک سبھا سیٹ سے رکن پارلیمنٹ ہیں۔ وہ بھی مودی کے قریبی سیاسی لیڈروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ سی بی آئی کے ڈی آئی جی منیش کمار سنہا کی عرضی میں پختہ تفصیلات پیش کی گئی ہیں کہ حیدر آباد کے کاروباری ستیش بابو سانا نے سی بی آئی کو اپنے بیان میں بتایا ہے کہ انھیں سی بی آئی کے معاملوں سے بچانے کے لیے مودی کے وزیر ہری بھائی چودھری کو دو کروڑ روپے کی نقد رشوت دی گئی۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ انھیں جون ماہ کے پہلے پندرہ دنوں میں یہ موٹی رقم دی گئی۔ ایک ماہ کے اندر ایم جے اکبر کے بعد یہ دوسرا موقع ہے جب مودی کابینہ میں شامل وزیر پر سنگین الزامات کا شکنجہ کسا ہے۔

اب ساری نظریں اس بات پر لگی ہوئی ہیں کہ بدعنوانی کے خلاف جنگ لڑنے کی قسمیں کھا کر اقتدار میں آئے وزیر اعظم نریندر مودی کتنے دنوں تک اپنی کابینہ کے رکن کو بچانے کا جوکھم اٹھا پائیں گے۔ الزامات کی آنچ وزیر اعظم دفتر میں وزیر مملکت برائے پرسونل جتندر سنگھ کے دفتر تک پہنچی بتائی گئی ہے۔ بچولیے ستیش بابو سانا کے بیان کو بنیاد بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مودی کی کابینہ کے ساتھی وزیر ہری بھائی چودھری نے وزارت پرسونل کے افسران کے ذریعہ سی بی آئی کے سینئر افسران کو اثرانداز کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس شخص وپُل کے ذریعہ وزیر چودھری کو پیسہ پہنچایا گیا اس کا تعلق بھی گجرات کے احمد آباد شہر سے ہی ہے۔

سی بی آئی میں کام کر رہے ڈی آئی جی منیش کمار سنہا کی عرضی بھلے ہی سی بی آئی میں بدعنوانی کے الزامات میں پھنسے اسپیشل ڈائریکٹر راکیش استھانہ کو نشانے پر لیا گیا ہے لیکن عرضی میں اٹھائے گئے معاملوں کے سیاسی اثرات مودی حکومت کے دامن پر آئندہ دنوں میں گہرے زخم دینے والے ہیں۔ عرضی میں ان کی باتوں کا نوٹس لینے میں سپریم کورٹ بھلے ہی کچھ مزید وقت لے اور خصوصی جانچ کا راستہ کھولے، اس کے باوجود عرضی کی پیچیدگیوں سے باہر نکلنا مودی حکومت کے لیے اتنا آسان نہیں رہ گیا۔

سپریم کورٹ نے راکیش استھانہ اور ان سے جڑے سینئر افسران کی مبینہ بدعنوانی کی جانچ کا کام سنبھال چکے سی بی آئی کے ڈی آئی جی منیش کمار سنہا کی عرضی پر فوری غور کرنے سے انکار کر دیا۔ سنہا کی بھی 23 اکتوبر کی نصف رات کو اسی عہدہ پر ناگپور منتقلی ہو چکی تھی۔

بہر حال، سپریم کورٹ کے سامنے سی بی آئی میں چل رہے ہنگامہ سے متعلق الگ طرح کی کئی عرضیاں سپریم کورٹ میں زیر التوا ہیں۔ سی بی آئی ڈائریکٹر آلوک ورما اور منیش سنہا کی عرضیوں کی شکل تقریباً یکساں ہے۔ سیاسی مداخلت اور وزیر اعظم دفتر کے طاقتور لوگوں کے ذریعہ بدعنوانی کو تحفظ و سی بی آئی کے داخلی امور میں مداخلت کے الزام بھی آلوک ورما نے گزشتہ مہینے اپنی عرضی میں لگائے ہیں۔

واضح رہے کہ ورما نے خود کو کام سے ہٹا کر جبراً چھٹی پر بھیجے جانے کے سی وی سی اور مرکزی حکومت کے حکم کو چیلنج دے رکھا ہے۔ لیکن حکومت کی جانب سے سی وی سی نے ورما پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ سپریم کورٹ کے سامنے سی وی سی کی اس جانچ کو عملی جامہ پہنانا زیادہ اہم ہے جس میں حکومت کی جانب سے اپنے جواب میں کہا گیا ہے کہ ورما کے خلاف رویہ سے جڑے حساس الزامات کی جانچ کے سبب انھیں چھٹی پر بھیجا جانا ضروری تھا۔

سی بی آئی ذرائع نے اس نامہ نگار کو بتایا ہے کہ پی ایم مودی نے گزشتہ ماہ سی بی آئی سربراہ آلوک ورما کو طلب کر کے انھیں ہندوستانی خفیہ ایجنسی ’را‘ کو بلا کر اس شکایت پر گفتگو کی تھی کہ معین قریشی کے خلاف سی بی آئی کی جانچ کارروائیوں سے پاکستان اور خلیجی ممالک میں اس کے آپریشن متاثر ہوئے ہیں، کیونکہ ’را‘ معین قریشی کے ذریعہ کراچی اور دبئی میں اپنے لیے کام کرنے والوں کو پیسہ پہنچاتا ہے۔

عرضی میں ’را‘ افسر سمنت گویل کی ریکارڈ کی گئی بات چیت کا تذکرہ ہے جس میں انھیں 23 اکتوبر کو یہ گفتگو کرتے سنا گیا ہے کہ پی ایم او نے سی بی آئی کا معاملہ حل کر لیا ہے۔ اسی دن نصف رات کو استھانہ، معین قریشی کی جانچ میں لگائی گئی پوری سی بی آئی ٹیم کو بدل دیا گیا۔

مودی حکومت پر چھینٹیں یہیں تک محدود نہیں ہیں۔ سی بی آئی ڈائریکٹر ورما کی جانچ کرنے والے سی وی سی سربراہ وی کے چودھری بھی زد میں ہیں، جن سے ستیش بابو سانا کی ملاقات کا تذکرہ ہے۔ مرکزی لاء سکریٹری سریش چندر نے 11 نومبر کو سانا سے رابطہ قائم کیا تھا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔