آئی ایس ڈی کال دھوکہ دہی معاملے میں سی بی آئی کورٹ کا آیا فیصلہ، بی ایس این ایل کے 2 انجنیئروں کو جیل
سی بی آئی کورٹ لکھنؤ نے آئی ایس ڈی دھوکہ دہی معاملہ میں بی ایس این ایل گورکھپور کے گروپ ایکسچنج کے 2 سابق سب ڈویزنل انجنیئر (ایس ڈی ای) ہری رام شکلا اور گلاب چند چورسیا کو قصوروار ٹھہرایا ہے۔

سی بی آئی کورٹ نے آئی ایس ڈی کال دھوکہ دہی معاملہ میں بی ایس این ایل کے 2 انجنیئروں کو 2 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ ساتھ ہی عدالت نے قصورواروں پر 10-10 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ سی بی آئی کورٹ لکھنؤ نے انٹرنیشنل کال (آئی ایس ڈی) دھوکہ دہی معاملہ میں بی ایس این ایل گورکھپور کے گروپ ایکسچنج کے 2 سابق سب ڈویزنل انجنیئر (ایس ڈی ای) ہری رام شکلا اور گلاب چند چورسیا کو قصوروار ٹھہرایا ہے۔
سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے 18 ستمبر 2008 کو گورکھپور بی ایس این ایل کے اس وقت کے ایس ڈی ای گروپ ایکسچنج ہری رام شکلا اور گلاب چند چورسیا، گورکھپور بی ایس این ایل کے اس وقت کے جونیئر ٹیلی کام آفیسر سیا رام اگرہری اور مختلف پی سی او مالکان کے خلاف معاملہ درج کیا تھا۔
الزام ہے کہ ملزمان نے ستمبر 2003 سے ستمبر 2004 تک 6 پی سی او مالکان اور 18 انفرادی ٹیلی فون صارفین کے ساتھ مجرمانہ سازش کی، اس کے علاوہ غیر مجاز طور پر انہیں اپنے مقامی ٹیلی فون کنیکشن پر آئی ایس ڈی سہولیات فراہم کیں۔ مذکورہ پی سی او مالکان انفرادی ٹیلی فون صارفین نے بانس گاؤں ٹیلی فون ایکسچنج کے بجائے براہ راست ٹرنک آٹومیٹک ایکسچینج (ٹی اے ایکس) کے ذریعہ بڑی تعداد میں غیر مجاز آئی ایس ڈی کال کیں۔ اس کی وجہ سے ان کال کو ایکسچنج میٹر نہیں کیا گیا، نتیجے میں 8842112 روپے کا غلط نقصان ہوا ہے۔
واضح رہے کہ تحقیقات کے بعد سی بی آئی نے یکم مئی 2010 کو ملزم ہری رام شکلا، گلاب چند چورسیا اور سیا رام اگرہری کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی۔ عدالت نے ٹرائل کے بعد دونوں ملزمان کو قصوروار ٹھہرایا اور اسی حساب سے سزا سنائی۔ جبکہ ٹرائل کورٹ نے سیا رام اگرہری کو ان کے خلاف عائد کیے گئے تمام الزامات سے بری کر دیا ہے۔