مدرسہ جلانے کا معاملہ: فتح پور کو بلندشہر بنانے کی سازش! یہاں بھی بجرنگ دل پر الزام

بجرنگ دل کے صوبائی کوآرڈینیٹر آچاریہ اجیت راج کا کہنا ہے کہ جب پولس انتظامیہ اپنا کام نہیں کرے گی تو ہندو سماج خود ’انصاف‘ کرے گا، خواہ اسے موب لنچنگ کا ہی نام کیوں نہ دیا جائے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

آس محمد کیف

فتح پور: گذشتہ روز شرپسندوں نے مبینہ گئو کشی کے نام پر اتر پردیش کے فتح پور میں ہنگامہ کھڑا کر دیا اور توڑ پھوڑ کرتے ہوئے وہ اس قدر مشتعل اور بے قابو ہو گئے کہ انہوں نے مدرسہ کو ہی نذر آتش کر دیا۔ اس معاملہ کے تار بھی بلند شہر کی طرح شدت پسند ہندو تنظیم بجرنگ دل سے جا کر ملتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شرپسندوں کا ارادہ بلند شہر کے سیانہ کی طرز پر فتح پور کو بھی آگ کے حوالے کرنے کا تھا۔

واضح رہے کہ مبینہ گئو کشی کو لے کر بلند شہر کے سیانہ کوتوالی علاقہ میں شرپسندوں نے پہلے ایک پولس چوکی کو نذر آتش کیا تھا، اس کے بعد ایک انسپکٹر کا قتل کر دیا تھا۔ تشدد اور آگ زنی کا الزام بجرنگ دل اور بی جے پی کی یوتھ ونگ پر عائد ہوا تھا، ان دونوں تنظیموں کے کئی عہدیداران کو پولس نے گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا تھا۔

فتح پور میں وبال کے بعد بجرنگ دل کے صوبائی کوآرڈینیٹر آچاریہ اجیت راج نے بیان جاری کر کے کہا ہے کہ وہ مشتعل ہجوم کے ساتھ مدرسے میں گیا تھا، اس کا کہنا ہے کہ جب پولس انتظامیہ اپنا کام نہیں کرے گی تو ہندو سماج خود ’انصاف‘ کرے گا، خواہ اسے موب لنچنگ کا ہی نام کیوں نہ دیا جائے۔ اس بیان سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان سماج دشمن عناصر کے حوصلے اس وقت کتنے بلند ہیں۔

مسلمانوں کی نقل مکانی

ادھر، بندکی کوتوالی علاقہ میں واقع بہٹا گاؤں میں مبینہ طور پر گائے کے گوشت کی افواہ کے بعد ہوئی تصادم آرائی سے عاجز آکر مسلمانوں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔ اس وقت مسلمانوں کے تقریباً 20-25 گھروں پر تالے لٹکے نظر آ رہے ہیں۔ جس خاندان پر گئو کشی کرنے کا الزام عائد ہوا تھا وہ پہلے ہی گاؤں چھوڑ کر جا چکا ہے۔ پولس کا مسلمانوں کی نقل مکانی پر کہنا ہے کہ گاؤں سے صرف وہی لوگ گئے ہیں جنہیں مبینہ گئو کشی کے جرم کی معلومات تھی۔ فی الحال گاؤں میں پی اے سی تعیات ہے، گلیوں میں خاموشی طاری ہے اور پورے علاقہ میں دہشت کا ماحول ہے۔

واضح رہے کہ منگل کے روز ایک مسلم خاندان پر گئوکشی کا الزام عائد کیا گیا اور اس کے بعد مسلم طبقہ سے وابستہ لوگوں پر حملہ کر دیا گیا۔ دریں اثنا ایک مدرسہ کو بھی نذر آتش کر دیا گیا۔ اطلاع ہے کہ ایک پولس افسر ابھیشیک تیواری نے اپنی جان پر کھیل کر مقدس کتابوں کو جلنے سے بچایا۔ اس کے بعد سے مسلمانوں میں دہشت پھیل گئی اور انہوں نے گاؤں چھوڑ کر جانے کا فیصلہ کر لیا۔

باہری لوگوں پر الزام

غور طلب ہے کہ پیر کے روز جونیہا چوکی پر گاؤں میں گئوکشی ہونے کی اطلاع دی گئی، جس کے بعد سی او ابھیشیک تیواری مع پولس فورس موقع پر پہنچے۔ گاؤں میں کافی لوگوں کی بھیڑ جمع ہو گئی تھی لیکن پولس کی کارروائی سے مطمئن ہو کر تمام لوگ واپس لوٹ گئے۔ اس کے بعد اگلے دن یعنی کہ منگل کو شرپسندوں کے ایک ہجوم نے وہاں موجود واحد مدرسہ پر حملہ کر دیا۔ ساتھ ہی وہاں موجود مسلمانوں کو پیٹا گیا اور مدرسہ کو نذر آتش کر دیا گیا۔ فسادیوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ وہاں موجود پولس فورس لاچار نظر آئی۔

فتح پور کے ایس پی رمیش کا کہنا ہے کہ فساد پھیلانے والوں سے پولس سختی سے نمٹے گی۔ اب تک 60 نامعلوم افراد کے خلاف رپورٹ درج کر لی گئی ہے۔ ڈی ایم اور ایس پی نے گاؤں میں کیمپ کیا ہوا ہے اور پولس ویڈیو کی بنیاد پر قصورواروں کی شناخت کر رہی ہے۔

تیس سال پہلے بھی ہوا تھا فساد

تین ہزار کی آبادی والے اس گاؤں میں دونوں طبقات کی برابر آبادی ہے۔ پیر کے روز جگت پال پاسوان نامی ایک شخص نے الطاف اور مشتاق پر گئو کشی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے رپورٹ درج کرائی۔ پولس ریکارڈ کے مطابق الطاف اور مشتاق کے خاندان پر آج سے تیس سال قبل بھی ایک گئو کشی کا مقدمہ درج ہوا تھا۔ اس میں مشتاق کے والد منو شاہ کو نامزد کیا گیا تھا۔ اس وقت بھی فساد ہوا تھا۔ اس تشدد کے پیچھے سیاسی سازش کی بات سامنے آئی تھی۔

واضح رہے کہ منگل کے روز ایک مسلم خاندان پر گئوکشی کا الزام عائد کیا گیا اور اس کے بعد مسلم طبقہ سے وابستہ لوگوں پر حملہ کر دیا گیا۔ دریں اثنا ایک مدرسہ کو بھی نذر آتش کر دیا گیا۔ اطلاع ہے کہ ایک پولس افسر ابھیشیک تیواری نے اپنی جان پر کھیل کر مقدس کتابوں کو جلنے سے بچایا۔ اس کے بعد سے مسلمانوں میں دہشت پھیل گئی اور انہوں نے گاؤں چھوڑ کر جانے کا فیصلہ کر لیا۔

غور طلب ہے کہ پیر کے روز جونیہا چوکی پر گاؤں میں گئوکشی ہونے کی اطلاع دی گئی، جس کے بعد سی او ابھیشیک تیواری مع پولس فورس موقع پر پہنچے۔ گاؤں میں کافی لوگوں کی بھیڑ جمع ہو گئی تھی لیکن پولس کی کارروائی سے مطمئن ہو کر تمام لوگو واپس لوٹ گئے۔ اس کے بعد اگلے دن یعنی کہ منگ کو شرپسندوں کے ہجوم نے وہاں موجود واحد مدرسہ پر حملہ کر دیا۔ وہاں موجود مسلمانوں کو پیٹا گیا اور مدرسہ کو نذر آتش کر دیا گیا۔ فسادیوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ وہاں موجود پولس فورس لاچار نظر آئی۔

نامعلوم افراد پر مقدمہ

فتح پور کے ایس پی رمیش کا کہنا ہے کہ فساد پھیلانے والوں سے پولس سختی سے نمٹے گی۔ اب تک 60 نامعلوم افراد کے خلاف رپورٹ درج کر لی گئی ہے۔ ڈی ایم اور ایس پی نے گاؤں میں کیمپ کیا ہوا ہے اور پولس ویڈیو کی بنیاد پر قصورواروں کی شناخت کر رہی ہے۔

تین ہزار کی آبادی والے اس گاؤں میں دونوں طبقات کی برابر آبادی ہے۔ پیر کے روز جگت پال پاسوان نامی ایک شخص نے الطاف اور مشتاق پر گئو کشی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے رپورٹ درج کرائی۔ پولس ریکارڈ کے مطابق الطاف اور مشتاق کے خاندان کے خلاف آج سے تیس سال قبل بھی ایک گئو کشی کا مقدمہ درج ہوا تھا۔ اس میں مشتاق کے والد منو شاہ کو نامزد کیا گیا تھا۔ اس وقت بھی فساد ہوا تھا اور سیاسی سازش کی بات بھی سامنے آئی تھی۔

واقعہ کی تہہ میں جانے پر معلوم چلتا ہے کہ مشتاق کے گھر کے پیچھے جانور کی کھال اور باقیات برآمد ہوئی تھی جسے پولس نے نزدیکی تالاب میں دفن کرا گیا۔ جس وقت بھیڑ کا ایک گروپ تالاب پر موجود تھا اسی وقت ایک دوسرے گروپ نے مدرسہ پر حملہ کر دیا۔ گاؤں والوں کے مطابق یہ سب بیرونی لوگ تھے، جنہوں نے الزام لگایا کہ مدرسہ میں گوشت موجود ہے۔

اے ڈی جی پی ایس این ساونت کے مطابق مقامی کوتوال اور چوکی انچارج کو معطل کر دیا گیا ہے۔ بجرنگ دل کے علاوہ بی جے پی کے رہنما بلرام سنگھ چوہان کا کردار بھی مشکوک ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مدرسہ پر حملہ کرنے والے شرپسندون نے اپ انتظامیہ سے کہا ہے کہ ’مدرسہ غیر قانونی ہے لہذا اسے بند کر دیا جائے۔ ‘

خوشحالی سے آنکھوں میں کھٹکتی ہے

واضح رہے کہ مدرسہ 20 سال پرانا ہے اور قومی آواز کی طرف سے مہتمم راشد قریشی سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی گئی لیکن بات نہیں ہو پائی۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہےکہ یہ سب مدرسہ اور مسلم طبقہ کے خلاف شرپسندوں کی سازش ہے۔ سماجوادی پارٹی کے کارکن نوشاد رائن کے مطابق بہٹا کے زیادہ تر لوگ خلیجی ممالک میں ملازمت کرتے ہیں اس لئے علاقہ کے مسلمانون میں خوشحالی نظر آتی ہے۔ حال ہی میں مسجد میں اے سی نصب کرائے گئے تھے جنہیں شرپسندوں نے توڑ دیا ۔ کچھ ہندو تنظیموں کے لوگوں کی آنکھوں میں مسلمانوں کی خوشحالی ہر وقت کھٹکتی رہتی ہے۔

گہری سازش کا خدشہ

ضلع مجسٹریٹ کی طرف سے امن کمیٹی کی میٹنگ میں بھی یہ معاملہ منظر عام پر آیا ہے۔ مسلمانوں کے مدرسوں میں نماز پڑھنے پر بھی اعتراض کیا گیا۔ کانگریس کے رہنما افضل صدیقی کے مطابق محسوس ہوتا ہے کہ یہ سازش کا حصہ ہے، اس کی گہرائی سے غیر جانبدارانہ جانچ ہونی چاہئے۔

گاؤں کے پردھان کے بیٹے سونو دویویدی نے کہا، ’’گاؤں میں تقریباً 22 سال بعد گئو کشی کی شکایت کی گئی ہے۔ یہاں سب مل جل کر رہتے ہیں اور تنازعہ کا حل ہو گیا تھا۔ ایک دن بعد یہ خبر پھیلائی گئی کہ تالاب سے جانور کی باقیات برآمد ہوئی ہیں ۔ اس کے بعد باہری لوگوں کی بھیڑ جمع ہوئی اور انہوں نے ہی مدرسہ پر حملہ کیا۔ ‘‘

بِندکی کے سی او ابھیشیک تیواری مسلمانوں میں کسی بھی طرح کے خوف سے انکار کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ گاؤں میں اب امن ہے اور وہاں نماز ادا کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 60 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، قصورواروں کی شناخت کی کوشش کی جا رہی ہے۔

Published: 17 Jul 2019, 8:10 PM