کیرانہ رکن اسمبلی ناہید حسن کے خلاف مقدمہ سیاست سے متاثر، لوگوں میں ناراضگی

13 ستمبر کو کو شاملی پولس نے ناہید حسن کے خلاف گاڑی پر مشتبہ نمبر پلیٹ لگانے، دھوکہ دہی، سرکاری کام میں رخنہ ڈالنے، ماحول خراب کرنے سمیت کئی معاملوں میں مقدمہ درج کیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

آس محمد کیف

مغربی اتر پردیش میں اپنے دبنگ اسٹائل کے لیے مشہور کیرانہ رکن اسمبلی ناہید حسن کے خلاف شاملی انتظامیہ ایکشن موڈ میں آ گیا ہے۔ ناہید حسن سابق رکن پارلیمنٹ منور حسن کے بیٹے ہیں۔ ان کی ماں تبسم حسن بھی دو بار رکن پارلیمنٹ رہ چکی ہیں۔ تبسم حسن نے دھرنے کے لیے انتظامیہ سے اجازت مانگی ہے۔ اسی دوران کیرانہ سے ملحق گنگوہ میں اسمبلی ضمنی انتخاب ہونا ہے۔ ناہید حسن نے اپنی سیاسی زندگی کا پہلا انتخاب گنگوہ اسمبلی سے ہی لڑا تھا۔ اب سیاسی تپش بڑھ گئی ہے۔ کثیر تعداد میں پیراملٹری فورس بلا لیےجانے کی خبر ہے۔

جمعہ کو شاملی پولس نے ان کے خلاف گاڑی پر مشتبہ نمبر پلیٹ لگانے، دھوکہ دہی، سرکاری کام میں رخنہ ڈالنے، ماحول خراب کرنے سمیت کئی معاملوں میں مقدمہ درج کیا ہے۔ شاملی ایس پی اجے کمار پانڈے کے مطابق کیرانہ کے چوکی انچارج دھرمیندر یادو کی جانب سے یہ رپورٹ درج کرائی گئی ہے۔ جانکاری کے مطابق 9 ستمبر کو ناہید حسن کی گاڑی ایک کالونی کے پاس کھڑی تھی۔ تب ہی جھنجھانا سے ایس ڈی ایم اور سی او کیرانہ وہاں پہنچ گئے اور ان کی گاڑی کے کاغذ مانگے۔ پولس کا کہنا ہے کہ اس کے بعد گاڑی میں بیٹھے رکن اسمبلی ناہید حسن نیچے اتر گئے اور انھوں نے ایس ڈی ایم کے ساتھ ساتھ سی او سے بھی بدسلوکی کی۔

بعد ازاں اس معاملے کی جانچ ہوئی اور اب ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ایس پی شاملی کے مطابق ان کی گاڑی کا رجسٹریشن بھی غلط پایاگیا ہے۔ اس مقدمے کے بعد ناہید حسن پر گرفتاری کی تلوار لٹک گئی ہے۔ کیرانہ میں طرح طرح کی باتیں گردش کر رہی ہیں۔ اضافی پولس فورس منگوائی گئی ہے۔ ان کی ماں اور سابق رکن پارلیمنٹ تبسم حسن کا کہنا ہے کہ ناہید حسن پر ظلم ہو رہا ہے۔ اس سلسلے میں دھرنے کے لیے انتظامیہ سے اجازت مانگی ہے۔ ایس پی شاملی کے مطابق شاملی میں دفعہ 144 نافذ ہے۔ اس کی وجہ سے اجازت ملنی مشکل ہے۔ 4 کمپنی اضافی فورس طلب کی گئی ہے۔ تبسم حسن کے مطابق ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا ہے اور انھیں خود کے ساتھ ہو رہی ناانصافی کا جواب دینا آتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہم سرکاری مشینری کے غلط استعمال کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکیں گے۔‘‘

کانگریس لیڈر عمران مسعود نے ناہید حسن کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ حالانکہ ایک ویڈیو جاری کر کے ناہید حسن نے کہا کہ انھیں ان کی حمایت کی ضرورت نہیں ہے وہ اپنی لڑائی خود لڑیں گے۔ اسی مہینے ناہید حسن کا ایک اور ویڈیو وائرل ہوا تھا، جس میں وہ بی جے پی سے منسلک تاجروں سے سامان نہ خریدنے کی اپیل کر رہے تھے۔ لیکن اس وقت تنازعہ کی اصل جڑ ایک گاڑی بنی ہوئی ہے۔

جمعہ کی دیر شب پولس فورس ناہید حسن کے گھر پہنچی اور انھیں تین نوٹس دیئے۔ ان نوٹس میں رکن اسمبلی کو حاضر ہو کر اپنی بات رکھنے، گاڑی کے سبھی کاغذات جمع کرنے اور مشتبہ نمبر پلیٹ والی گاڑی کو پولس کے حوالے کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ مقامی باشندہ محمد انصاری کے مطابق رکن اسمبلی کی گاڑی کے کاغذات دیکھے جانے کا مقصد صرف انھیں بے عزت کرنا تھا۔ دراصل ایک گروپ ان کے خلاف ہے۔ ناہید حسن یہاں غریبوں کی آواز ہیں، وہ بی جے پی لیڈروں کی آنکھ میں کھٹک رہے ہیں جس کی وجہ سے اس مقدمے کی سازش تیار کی گئی ہے۔ اگر وہ گرفتار کیے جاتے ہیں تو کیرانہ کا بچہ بچہ اپنی گرفتاری دے گا۔

غور طلب ہے کہ کیرانہ سے ملحق گنگوہ اسمبلی میں ضمنی انتخاب کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ گنگوہ کے رکن اسمبلی پردیپ چودھری اب رکن پارلیمنٹ بن چکے ہیں۔ سماجوادی پارٹی نے یہاں اندر سین چودھری کو اپنا امیدوار بنایا ہے، جب کہ کانگریس لیڈر عمران مسعود کے جڑواں بھائی نعمان مسعود کو کانگریس نے امیدوار کے طور پر میدان میں اتارا ہے۔ گنگوہ اسمبلی میں ہی ناہید کا نانیہال بھی ہے۔ یقینی طور پر اس کا فائدہ انھیں حاصل ہوگا۔ کچھ لوگ اس کارروائی کو سیاست سے جوڑ کر بھی دیکھ رہے ہیں۔

next