مکھی سے بھی پھیل سکتا ہے کورونا وائرس، ویڈیو شیئر کر امیتابھ بچن نے کیا دعویٰ

کورونا وائرس کا خطرہ پوری دنیا پر منڈلا رہا ہے۔ اس درمیان بالی ووڈ اداکار امیتابھ بچن نے ایک ویڈیو شیئر کیا ہے جس میں ایک اسٹڈی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ مکھیوں سے بھی کورونا وائرس پھیل سکتا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

بالی ووڈ کے مشہور و معروف اداکار امیتابھ بچن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر 'دی لینسٹ' کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ گھروں، بازاروں، دکانوں اور گلی محلوں میں منڈلاتی ہوئی مکھیاں بھی کورونا وائرس کے انفیکشن کو پھیلانے کا کام کر سکتی ہیں۔ امیتابھ بچن نے اپنے ٹوئٹر پر اس سلسلے میں ویڈیو شیئر کیا ہے اور اس بات کی جانکاری دی ہے جسے پی ایم نریندر مودی نے بھی ری-ٹوئٹ کیا ہے۔

اپنے ٹوئٹ میں امیتابھ بچن نے کہا ہے کہ "ملک کووِڈ-19 سے جدوجہد کر رہا ہے۔ سبھی کو اس لڑائی میں بہت ہی اہم کردار نبھانا ہے۔ حال ہی میں چین کے ماہرین نے پایا کہ کورونا وائرس انسانی غلاظت (ٹوائلٹ) میں کئی ہفتوں تک زندہ رہ سکتا ہے۔" انھوں نے مزید کہا کہ "وائرس سے متاثرہ شخص کے مکمل طور پر صحت مند ہو جانے کی حالت میں بھی کچھ ہفتوں تک اس کی غلاظت میں کورونا وائرس زندہ رہ سکتا ہے۔ اگر ایسے میں کوئی مکھی اس کی غلاظت پر بیٹھ جائے اور (بعد میں) پھل، سبزی یا کھانے میں بیٹھ جائے تو ایسے میں انفیکشن کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔"

امیتابھ بچن نے کہا کہ "ہمیں چاہیے کہ ہم سبھی کووِڈ-19 سے جنگ کے لیے اسی طرح سے ایک عوامی تحریک چلائیں جیسا ہم نے پی ایم مودی کی قیادت میں بھارت کو کھلے میں بیت الخلاء سے پاک بنانے کے لیے 'سوچھ بھارت مشن' چلایا تھا۔" وہ آگے کہتے ہیں کہ "دو بوند زندگی کی مہم میں شامل ہو کر جیسے ہم سبھی نے پولیو سے پاک ہندوستان بنایا تھا، ٹھیک ویسے ہی ہمیں کورونا وائرس کو شکست دینے کے لیے کرنا ہوگا۔"

امیتابھ بچن نے کورونا وائرس کے بڑھتے انفیکشن سے نمٹنے کے لیے تین نکاتی فارمولہ بھی ملک کے سامنے پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ "پہلا- اپنے بیت الخلاء کا باضابطہ طور پر استعمال کریں اور حوائج ضروریہ کے لیے کھلے میں نہ جائیں۔ دوسرا- سوشل ڈسٹنسنگ بنائے رکھیں، ضرورت پڑنے پر ہی گھر سے باہر نکلیں۔ تیسرا- دن میں کئی بار اپنے ہاتھوں کو کم از کم 20 سیکنڈ تک دھوئیں اور اپنی آنکھ، ناک اور منھ کو چھونے سے بچیں۔" انھوں نے یہ بھی کہا کہ "کورونا وائرس کو شکست دینے کے لیے یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ 'دروازہ بند تو بیماری بند'۔"