مودی جی ابھینندن کو بارڈر پر لینے جانا میرے لئے باعث فخر ہو گا، کیپٹن امرندر

پنجاب کے وزیر اعلی کیپٹن امرندر سنگھ نے وزیر اعظم سے کہا ہے کہ اگر وہ باڑدر پر ابھینندن کو لینے جائیں گے تو یہ ان کے لئے عزت کی بات ہو گی

سوشل میڈیا 
سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے کل پاکستانی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وہ ہندوستانی پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن کو ہندوستان واپس بھیج دیں گے ۔ اس کے کچھ دیر بعد شام کو پنجاب کے وزیر اعلی کیپٹن امرندر سنگھ نے وزیر اعظم نریندر مودی کو مخاطب کرتے ہوئے ایک ٹویٹ کیا ’’اگر وہ واگہ بارڈر پر کمانڈر ابھینندن کو لینے جائیں گے تو یہ ان کے لئے بہت فخر کی بات ہو گی‘‘۔

کیپٹن امرندر سنگھ نے ٹویٹ میں تحریر کیا ہے ’’ڈیئر نریندر مودی جی ، میں اس وقت پنجاب کے مختلف علاقوں کے دورہ پر ہوں اور ابھی امرتسر میں ہوں۔ مجھے اطلاع ملی ہے کہ پاکستانی حکومت ابھینندن کو واگہ بارڈر کے راستے بھیج رہی ہے ۔ یہ عزت کی بات ہوگی کہ میں وہاں جاؤں اور ان کا استقبال کروں ۔ ابھینندن اور ان کے والد نے این ڈی اے سے تعلیم حاصل کی ہے اور میں بھی وہیں سے ہوں ‘‘۔

پلوامہ کے بعد سےسے پاکستان اور ہندوستان کے اوپر جو جنگ کے بادل منڈرا رہے تھے وہ اس وقت چھٹنے شروع ہو گئے جب عمران خان نے یہ اعلان کر دیا کہ پاکستان ونگ کمانڈر ابھینندن کو رہا کرنے جا رہا ہے۔ اس میں بین الاقوامی طاقتوں کا بھی اہم کردار رہا ہوگا اور پاکستان کے اندرونی حالات بھی اس کی بڑی وجہ رہے ہوں گے لیکن اس سے دونوں ممالک کو بڑی راحت ملی ہے ۔ ویسے تو کل امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ کے بیان کے بعد یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ جنگ کے ماحول کو کم کرنے کی جانب کوئی اچھی خبر آنے والی ہے ۔ ہندوستانی فوج کے تینوں ونگ کی اعلی قیادت نے بھی صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے یہ کہہ دیا ہے کہ اگر پاکستان کی جانب سے کوئی اشتعال انگیزی ہوتی ہے تو وہ جواب دینے کے لئے پوری طرح تیار ہیں یعنی ہندوستان کی جانب سے کوئ پہل نہیں ہوگی۔