سی اے پی ایف بل 2026: تصادم میں پیر گنوانے والے افسر کی ویڈیو شیئر کر راہل گاندھی نے مرکزی حکومت کو بنایا ہدف تنقید
راہل گاندھی نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’ہم سی اے پی ایف کے جوانوں کا احترام صرف لفظوں میں نہیں، پالیسیوں میں کرتے ہیں۔ کانگریس کا صاف وعدہ ہے – ہماری حکومت آتے ہی یہ امتیازی قانون ختم ہوگا۔‘‘
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے’سنٹرل آرمڈ پولیس فورسز (جنرل ایڈمنسٹریشن) بل 2026‘ پر مودی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ انہوں نے اسسٹنٹ کمانڈنٹ اجے ملک کا ذکر کر کے حکومت پر حملہ کیا ہے۔ اس تعلق سے راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’’اسسٹنٹ کمانڈنٹ اجے ملک جی نے نکسلیوں کے ساتھ تصادم کے دوران آئی ای ڈی بلاسٹ میں اپنا ایک پیر کھو دیا، ملک کی حفاظت میں سب کچھ داؤ پر لگا دیا۔‘‘
کانگریس لیڈر نے پوسٹ میں آگے لکھا کہ ’’اور اس قربانی کے بدلے کیا ملا؟ 15 سال سے زیادہ کی وفادارنہ خدمت کے باوجود – پرموشن نہیں، اپنی ہی فورس کی قیادت کرنے کا حق نہیں۔ کیونکہ تمام اعلیٰ عہدے آئی پی ایس افسران کے لیے محفوظ ہیں۔ یہ صرف ایک افسر کی تکلیف نہیں – یہ لاکھوں سی اے پی ایف جوانوں کے ساتھ ہو رہی ادارہ جاتی ناانصافی ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’یہ جوان سرحدوں پر تعینات رہتے ہیں، دہشت گردی اور نکسل ازم کا مقابلہ کرتے ہیں اور جمہوریت کے جشن یعنی انتخابات کو محفوظ بناتے ہیں۔ لیکن جب ان کے حقوق اور تحفظ کی بات آتی ہے تو نظام منہ پھیر لیتا ہے۔‘‘
راہل گاندھی کے مطابق خود سی اے پی ایف کے جوان اس امتیازی سلوک کے خلاف ہیں۔ سپریم کورٹ تک نے اس نظام پر سوال اٹھائے ہیں۔ پھر بھی موجودہ حکومت اسی ناانصافی کو قانونی طور پر مستقل بنانے پر آمادہ ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’یہ بل صرف ایک کیریئر روکنے کی کوشش نہیں – یہ ان لوگوں کا حوصلہ توڑنے کی کوشش ہے جو ملک کے دفاع میں صف اول میں کھڑے ہیں۔ اور جب ان کا حوصلہ ٹوٹتا ہے تو قومی سلامتی کی بنیادیں ہل جاتی ہیں۔‘‘
سوشل میڈیا پوسٹ کے آخر میں راہل گاندھی نے لکھا کہ ’’ہم سی اے پی ایف کے جوانوں کا احترام صرف لفظوں میں نہیں، پالیسیوں میں کرتے ہیں۔ کانگریس کا صاف وعدہ ہے – ہماری حکومت آتے ہی یہ امتیازی قانون ختم ہوگا۔ کیونکہ جو ملک کے لیے لڑتا ہے، اسے قیادت کا حق ملنا ہی چاہیے۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔