کیا 15 اگست سے پھر سی اے اے مخالف تحریک شروع ہوسکتی ہے؟

سپریم کورٹ کے وکیل محمود پراچا کے حوالہ سے کہا جا رہا ہے کہ سی اے اے اور این آر سی کے خلاف جو مظاہرہ کووڈکی وجہ سے معطل کر دئےگئے تھے وہ 15 اگست سے دوبارہ شروع کئے جا سکتے ہیں۔

تصویر بشکریہ نیشنل ہیرالڈ 
تصویر بشکریہ نیشنل ہیرالڈ
user

قومی آوازبیورو

کورونا وبا کی وجہ سے معطل ہوئے سی اے اے اور این آر سی مخالف مظاہرہ 15 اگست سے دوبارہ شروع ہوسکتے ہیں۔اس تعلق سے سپریم کورٹ کے وکیل محمود پراچا ہفتہ کے روز علی گڑھ پہنچے اور ایک نیوز چینل سے کہا کہ سی اے اے اور این آر سی مخالف مظاہروں کو دوبارہ سے شروع کرنے کے لئے تیاری چل رہی ہے۔

واضح رہے محمود پراچا نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت نے جو ملک کو انلاک کرنے کا عمل شروع کیا ہوا ہے وہ بہت ایڈوانس اسٹیج پر پہنچ گیا ہے اور اب حکومت ہر طرح کی سرگرمیوں کی اجازت دے رہی ہے اس لئے آنے والے دنوں میں سی اے اے اور این آر سی کے خلاف مظاہرہ بھی دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں ۔واضح رہے محمود پراچا کے حوالہ سے جو 15 اگست کی تاریخ دی جا رہی ہے اس پر اس لئے یقین نہیں کیا جا سکتا کیونکہ حکومت کی جانب سے ابھی تک جو انلاک کے لئے رہنما ہدایات جاری کی جاتی ہیں وہ مہینے کےآخر میں جاری کی جاتی ہیں اس لئے جو بھی مزید نرمی کا اعلان کیا جائے گاوہ اس ماہ کی آخری تاریخوں میں ہی کیا جائے گا۔

مرکزی حکومت نے جب سے شہریت ترمیمی قانون بنایا تھا اس دن سے پورے ملک میں اس قانون کے خلاف مظاہرہ شروع ہو گئے تھے اوران مظاہروں کے تعلق سےشاہین باغ کے مظاہرہ اور اس میں شریک ہونے والی دادیوں کو عالمی شہرت حاصل ہوئی تھی ۔ یہ مظاہرہ کورونا وبا کی وجہ سے معطل کر دئے گئے تھے کیونکہ اس وبائی وائرس کو دور رکھنے کے لئے سماجی دوری بنائے رکھنا بہت ضروری ہے۔

next