کلکتہ ہائی کورٹ نے بی جے پی کی ’رتھ یاترا‘ پر لگائی روک

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ 9 جنوری تک رتھ یاترا سے متعلق نہ کوئی ریلی نکالی جاسکتی ہے اور نہ ہی پروگرام کیا جاسکتا ہے، اس سے پہلے ممتا بنرجی حکومت نے اس یاترا پر ’راون یاترا‘ بتاکر روک لگا دی تھی۔

By قومی آوازبیورو

کلکتہ: بی جے پی کی رتھ یاتر ا کی اجازت دینے سے مغربی بنگال حکومت کے انکار کے بعد کلکتہ ہائی کورٹ نے بھی بی جے پی کو رتھ یاترا کی اجازت دینے سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ دینے کے بجائے معاملہ 9 جنوری تک ملتوی کردیا ہے۔ بی جے پی کی رتھ یاترا 7 دسمبر سے کوچ بہار سے شروع ہونے والی تھی۔

کلکتہ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ اگلی سماعت تک رتھ یاترا نہیں نکالی جاسکتی ہے۔اس معاملے کی اگلی سماعت 9 جنوری کو ہوگی۔عدالت نے کہا کہ ریاست کے موجودہ صورت حال کے پیش نظر رتھ یاترا نکالے جانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔ لااینڈ آرڈر کو برقرار رکھنا ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے۔اور اتنے مختصر وقت میں پولس کیلئے اتنے بڑے پیمانے پر سیکورٹی کے انتظامات کرنا ممکن نہیں ہے۔

قبل ازیں، مغربی بنگال کی وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے یاترا کے حوالہ سے بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ بی جے پی کی رتھ یاتر در اصل ’راون یاترا‘ جس کا مقصد ریاست میں ماحول کو خراب کرنا ہے۔

کلکتہ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ 9جنوری تک رتھ یاتر ا سے متعلق نہ کوئی ریلی نکالی جاسکتی ہے اور نہ ہی پروگرام کیا جاسکتا ہے۔عدالت کے فیصلے کے بعد بی جے پی کی رتھ یاترا غیر یقینی صورت حال پیدا ہوگئی ہے۔خیال رہے کہ ریاستی حکومت نے اپنے حلف نامہ میں کہا ہے کہ ریاست میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے پیش نظر بی جے پی کو ریاست بھر میں رتھ یاترا نکالنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔ریاستی ایڈوکیٹ جنرل کشور دتہ نے کلکتہ ہائی کورٹ سے کہا کہ کوچ بہار ضلع سپرنڈنٹ نے بی جے پی کے صدر امت شاہ کے پروگرام اور رتھ یاترا نکالے جانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔

7 دسمبر کو کوچ بہار سے بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ بی جے پی کی رتھ یاترا”جمہوریت بچاؤریلی“کا افتتاح کرنے والے تھے۔کشور دتہ نے عدالت سے کہا کہ کوچ بہار میں فرقہ واریت کی تاریخ رہی ہیں اور ہمیں خفیہ اطلاعات ملی ہیں کہ کوچ بہار میں شرپسند عناصر ماحول کو بگاڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔کوچ بہار کے ایس پی نے اپنے خط میں کہا ہے کہ مختلف ریاستوں سے بی جے پی کے لیڈران اور ورکر آرہے ہیں اور اس کی وجہ سے ضلع میں فرقہ وارانہ یکجہتی کے ماحول کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ زمینی حالات کی بنیاد پر مقامی انتظامیہ نے اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے جواب کو کھلی عدالت میں پڑھا نہیں جاسکتا ہے کیوں کہ یہ بہت ہی حساس معاملہ ہے اس لیے ہم نے سیل بند لفافے میں جواب پیش کیا ہے۔بی جے پی نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے عدالت سے اپیل کی تھی کہ ریاستی حکومت کو رتھ یاترا کی اجازت دینے کے احکامات جاری کیے جائیں۔جسٹس تاپرتہ چکروری نے بی جے پی سے سوال کیا کہ اگر حالات خراب ہوئے تو پھر اس کی ذمہ داری کون لے گا۔اس کے جواب میں بی جے پی کے وکیل انندیا مترا نے اپنے حلف نامہ میں کہا کہ پارٹی پرامن ریکالی نکالے گی مگر لااینڈ آرڈر کو بحال رکھنے کی ذمہ داری ریاستی حکومت کی ہوگی۔مترانے کہا کہ ہندوستان کے آئین نے سیاسی جماعتوں کو ریلی اور پروگرام کرنے کی اجازت دی ہے۔صرف خدشات کی بنیاد پر رتھ یاترا کی اجازت دینے سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔