بجنور تشدد: یوگی کی پولس پھر کٹہرے میں، ہائی کورٹ نے ایف آئی آر پر اٹھائے سوال

عدالت نے سی اے اے کے خلاف چلی تحریک کے دوران گرفتار 2 لوگوں کو ضمانت دیتے ہوئے پولس پر سخت تبصرہ کیا ہے۔ اس نے کہا کہ پولس اس کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر پائی کہ ملزم گولی باری میں شامل تھے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

یوگی کی پولس ایک بار پھر کٹہرے میں کھڑی نظر آ رہی ہے۔ اس بار پولس سوالوں کے گھیرے میں بجنور تشدد پر کی گئی کارروائی کو لے کر ہے۔ گزشتہ سال بجنور میں شہریت قانون کے خلاف پرتشدد مظاہرے ہوئے تھے جس میں پولس نے دو لوگوں کو گرفتار کیا تھا۔ اب ضلع اور سیشن کورٹ نے ملزمین کو ضمانت دیتے ہوئے جج نے پولس کی ایف آئی آر پر سوال کھڑے کیے ہیں اور پولس کو پھٹکار لگائی ہے۔

’انڈین ایکسپریس‘ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق ضمانت سے متعلق ہوئی سماعت کے دوران عدالت نے پولس کے دعووں پر سوال کھڑے کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے کوئی بھی ثبوت پیش نہیں کیے ہیں جس سے ثابت ہو کہ ملزمین نے گولی چلائی۔ عدالت نے کہا کہ پولس نے نہ تو وہ اسلحہ ضبط کیا اور نہ ہی اس بات کے ثبوت دئیے کہ پولس کو گولی لگی ہے جب کہ خود پولس پر کئی سنگین الزام لگے ہیں۔ ایڈیشنل سیشن جج سنجیو پانڈے نے گزشتہ 24 جنوری کو ضمانت کا حکم دیا جس میں انھوں نے پولس کی کارروائی میں بہت ساری خامیاں بتائیں۔ انھوں نے کہا کہ معاملے کی خوبی اور خامی پر کوئی غور کیے بغیر، میرے خیال سے، حالات کو دیکھتے ہوئے اور جرائم کی نوعیت کی بنیاد پر ملزم کو ضمانت دی جانی چاہیے۔

ضمانت سے متعلق سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے کہا کہ بھیڑ نے پتھراؤ کیا، آگ زنی کی اور گولیاں چلائیں جس سے پولس کے جوان زخمی ہو گئے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ پولس نے گولیاں برآمد بھی کی ہیں۔ سرکاری وکیل کے مطابق پولس نے کم از کم طاقت کا استعمال کیا۔ لیکن سیشن جج نے ضمانت دیتے ہوئے پولس پر سخت تبصرے کیے اور کئی سوال داغ دیئے۔ انھوں نے کہا کہ عمران کو چھوڑ کسی ملزم کو واردات کی جگہ سے گرفتار نہیں کیا گیا۔ انھوں نے پوچھا کہ اگر گولیاں چلائی گئیں اور جیسے کہ کہا گیا کہ گولیاں برآمد بھی کی گئیں، تو پھر گولیاں کہاں ہیں؟

غور طلب ہے کہ جن دو ملزمین کو پولس نے ضمانت دی ہے پولس نے ان کے خلاف ایف آئی آر میں لکھا تھا، ہمیں اطلاع ملی کہ جلال آباد کے 150-100 لوگوں نے شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف این ایچ-74 پر جام لگا دیا ہے۔ اس بھیڑ کی قیادت شفیق احمد اور عمران نے کی۔ اس بھیڑ کو اور دونوں ملزمین کو پولس نے سمجھایا لیکن بھیڑ نے قتل کی دھمکی دی اور شاہراہ پر بیٹھ گئے۔ عمران کو موقع سے گرفتار کیا گیا جب کہ دوسرا ملزم موقع سے فرار ہو گیا تھا۔

اسی دوران پولس کی گولی سے ایک 20 سالہ محمد سلیمان کی موت ہو گئی تھی۔ پولس کے مطابق سلیمان کی موت کانسٹیبل موہت کمار کی گولی سے ہوئی تھی۔ پولس نے دعویٰ کیا تھا کہ کانسٹیبل نے اپنا دفاع کرتے ہوئے یہ گولی چلائی تھی۔ حالانکہ اس واقعہ کے بعد سلیمان کی فیملی نے 6 پولس والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی تھی۔

Published: 29 Jan 2020, 5:12 PM