شاہین باغ: ’500 روپے لینے نہیں، پولس کی گولی کھانے آتی ہوں‘

سوشل میڈیا پر جمعرات کو وائرل ایک ویڈیو میں بتایا جا رہا تھا کہ شہریت قانون کے خلاف شاہین باغ کی جو عورتیں مظاہرے میں بیٹھی ہیں وہ 500 روپے روزانہ لیتی ہیں۔ اس ویڈیو کو جھوٹا قرار دیا جا رہا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

دہلی کے شاہین باغ میں شہریت قانون اور این آر سی کے خلاف ہزاروں خواتین اب بھی سراپا احتجاج ہیں اور سڑکوں پر دھرنا دے رہی ہیں۔ ان خواتین سے جڑا ایک ویڈیو جمعرات (16 جنوری) کو خوب وائرل ہوا۔ اس ویڈیو میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف سرد موسم میں کھلے آسمان کے نیچے ایک مہینہ سے زیادہ وقت سے تحریک کر رہیں خواتین پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ مظاہرہ میں شامل ہونے کے لیے 500 روپے روزانہ لیتی ہیں۔ لیکن اب اس ویڈیو پر شاہین باغ کی مظاہرہ کرنے والی خواتین کی وضاحت سامنے آ گئی ہے اور ویڈیو انھوں نے پوری طرح سے جھوٹا قرار دیا ہے۔ ویڈیو کو غلط ٹھہراتے ہوئے دھرنے پر بیٹھیں 71 سالہ سیما عالم کہتی ہیں کہ ’’ہو سکتا ہے کہ 500 روپے لے کر کوئی کسی دھرنے میں چلا جائے، لیکن یہاں تو ہم سبھی پولس کی گولی کھانے کو تیار بیٹھے ہیں۔ شہریت قانون کے خلاف چل رہی اس تحریک کو جاری رکھنے کے لیے ہم اپنی جان دینے کو تیار ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو میں ایک لڑکا یہ کہتے ہوئے نظر آ رہا تھا کہ شاہین باغ میں دھرنا دے رہی خواتین شفٹ کے حساب سے بیٹھتی ہیں۔ ہر شفٹ کے لیے ہر ایک خاتون کو 500 روپے کی ادائیگی کی جا رہی ہے۔ انھیں روپے کون دے رہا ہے، نہ تو اس کا کوئی تذکرہ کیا گیا اور نہ ہی اس ویڈیو کی صداقت کے بارے میں کچھ بھی پتہ چلا۔ بی جے پی آئی ٹی سیل کے سربراہ امت مالویہ کے ٹوئٹر سے وائرل ہوئے اس ویڈیو کا تذکرہ جمعرات کو پورے دن شاہین باغ میں ہوتا رہا۔ مظاہرہ کر رہی خواتین و ان کے ساتھ موجود نوجوانوں نے اس ویڈیو پر اپنی ناراضگی ظاہر کی۔

شاہین باغ میں موجود مظاہرین نے وائرل ویڈیو پر اپنا سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اس عمل کو ایک سازش قرار دیا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ شاہین باغ کی عظیم الشان تحریک کو بدنام کرنے کی کوشش ہے جو کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔ مظاہرین نے یہ بھی کہا کہ ایسی افواہیں ہمارا حوصلہ توڑنے کے لیے پھیلائی جا رہی ہیں لیکن اس طرح کی حرکتوں سے ہمارا حوصلہ مزید بلند ہوتا ہے۔

دھرنے میں گزشتہ ایک مہینے سے شامل ہو رہی رخسانہ علوی سے جب میڈیا نے وائرل ویڈیو کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا کہ وہ اوکھلا واقع اپنے گھر میں بچوں کو کوچنگ دے کر 30 ہزار روپے ماہانہ سے زیادہ کما رہی تھیں۔ رخسانہ کا کہنا ہے کہ ایک مہینے سے انھوں نے بچوں کو ٹیوشن نہیں پڑھایا ہے، وہ اپنا کام چھوڑ کر، اپنی کمائی چھوڑ کر محض 500 روپے کی خاطر دن بھر سردی اور بارش میں یہاں بیٹھنے نہیں آئی ہیں بلکہ تحریک میں شریک ہونے کا جذبہ انھیں یہاں کھینچ لاتا ہے۔

شاہین باغ میں چل رہے دھرنے میں کام کرنے والی خواتین کے ساتھ ساتھ گھریلو خواتین بھی بڑی تعداد میں حصہ لے رہی ہیں۔ کئی خواتین کے ساتھ ان کے بچے بھی یہیں بیٹھے رہتے ہیں۔ ان میں سے ایک بزرگ خاتون اشرفی سے جب 500 روپے روزانہ دیے جانے کی بات پوچھی گئی تو وہ ناراض ہو گئیں اور بات کرنے سے ہی منع کر دیا۔ مظاہرہ میں اسٹیج کے قریب بیٹھے فیصل نامی ایک شخص سے جب اس وائرل ویڈیو کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں کوئی بات کرنا ہی بے کار ہے کیونکہ مظاہرہ میں روزانہ الگ الگ مقامات سے خواتین خود آتی ہیں، یہاں بھیڑ جمع کرنے کے لیے کوئی کوشش کرنے کی ضرورت نہیں۔

next