سی اے اے سے ثابت ہو گیا کہ مرکزی حکومت مسلمانوں کے خلاف: مایاوتی

مایاوتی نے کہا کہ یہاں سے جو مسلمان پاکستان گئے ہیں، وہ بھی ظلم اور زیادتی کے شکار ہیں، لیکن مرکزی حکومت نے شہریت دینے والے قانون سے انہیں مستثنیٰ کردیا جس سے لگتا ہے کہ حکومت مسلمانوں کے خلاف ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

لکھنؤ: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی سربراہ مایاوتی نے بدھ کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر بڑا حملہ کرتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں لایا گیا شہریت ترمیمی قانون تقسیم کرنے والا اور اس سے لگتا ہے کہ یہ ایک طبقے کے خلاف لایا گیا ہے۔

مایاوتی کی آج 64 ویں سالگرہ ہے۔ وہ یہاں نامہ نگاروں سے بات کر رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے حالات کانگریس کے دور سے بھی زیادہ خراب ہو گئے ہیں۔ جس طرح سے کانگریس کی حکومتوں نے کام کیا اب اسی راہ پر مرکز کی بی جے پی حکومت چل رہی ہے۔ بی جے پی تو کانگریس سے دو قدم آگے ہے۔ ملک کی معیشت خراب ہو گئی ہے اور ملک میں تناؤ اور خوف کا ماحول ہے۔

مایاوتی نے کہا کہ یہاں سے جو مسلمان پاکستان گئے ہیں، وہ بھی ظلم اور زیادتی کے شکار ہیں، انہیں بھی یہاں لانا چاہیے لیکن مرکزی حکومت نے صرف ہندو، سکھ، عیسائی، جین اور بدھ کو ہی شہریت دینے کے لئے یہ قانون بنایا ہے اس سے لگتا ہے کہ مرکزی حکومت مسلمانوں کے خلاف ہے۔

بی ایس پی سربراہ نے کہا کہ پارٹی شروع سے ہی سی اے اے کے خلاف احتجاج کر رہی ہے لیکن ان کے احتجاج کا طریقہ الگ ہے۔ ان کی پارٹی احتجاج میں تشدد کرنے پر یقین نہیں رکھتی۔ سی اے اے کو سبھی طبقوں کے لئے نافذ کیا جانا چاہیے۔ مرکزی حکومت نے صرف مسلمانوں کو اس قانون میں شامل نہیں کیا ہے۔ اس لئے اسے اسٹینڈنگ کمیٹی کو بھیجا جانا چاہیے اور سبھی پارٹیوں کی رائے لے کر اسے نافذ کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت غلط پالیسی کی وجہ سے ہی آج ملک میں بدامنی اور عدم تحفظ کا ماحول ہے۔ ملک کی ابھی حالت کانگریس کے اقتدار سے بھی خراب ہوگئی ہے۔ انہوں پارٹی کے بانی کاشی رام کو بھی یاد کیا اور پارٹی کارکنان سے کہا کہ وہ غریبی ہٹانے اور ملک کے حق کے لئے کام کریں۔ بے وجہ کی بیان بازی میں اپنا وقت برباد کرنے کے بجائے پارٹی کو مضبوط کیا جانا چاہیے۔

مایاوتی نے اترپردیش میں پولیس کمشنر منصوبے کا استقبال کیا، لیکن یہ بھی کہا کہ صرف پالیساں بنانے سے کچھ نہیں ہوگا۔ جب تک امن و قانون کے سلسلے میں سختی نہیں ہوگی، تب تک ایسی ہی حالت رہے گی۔ بی ایس پی کے اقتدار میں امن و قانون کے سلسلے میں کوئی معاہدہ نہیں ہوتا تھا، یہاں تک کے پارلیمنٹ اور اراکین پر بھی کارروائی ہوتی تھی۔