لکھنؤ: گھنٹہ گھر مظاہرہ ختم کرانے کے لیے یو پی پولس چلا رہی خاص مہم

یو پی کے لکھنؤ واقع گھنٹہ گھر کا مظاہرہ 12ویں دن میں داخل ہو گیا ہے اور اس درمیان احتجاج ختم کرانے کی پولس کی ہر کوشش ناکام ثابت ہوئی ہے۔ اب پولس خاتون مظاہرین کے اہل خانہ سے ملاقات کر رہی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

لکھنؤ: شہریت (ترمیمی) قانون کے خلاف ریاستی راجدھانی میں ہونے والے احتجاج کو ختم کرانے کے لئے اپنا ہر ممکنہ حربہ اپنانے کے بعد اب اترپردیش پولیس نے تحریک کار خواتین کے اہل خانہ سے ملاقات کر کے غیر معینہ احتجاج کوختم کرانے کے لئے انہیں آمادہ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔تاریخی گھنٹہ گھر پر ہونے والے مظاہرے کا آج 12 واں دن ہے۔

گزشتہ 12 دنوں میں پولیس کی جانب سے 6 ایف آئی آر تحریک کار خواتین اور ان کے حامیوں کے خلاف درج کئے جانے کے بعد بھی خواتین کالے قانون کے خلاف پرامن احتجاج پر اب بھی بضد ہیں اورانہیں پولیس کی کارروائی بھی خائف نہیں کرسکی۔ایف آئی آر سے کام نہ بنتا دیکھ اب پولیس خواتین کے اہل خانہ سے مل کو انہیں احتجاج نہ کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

ایک تحریک کار خاتون نے منگل کو یہاں اس کی تصدیق بھی کی کہ ’’لکھنؤ پولیس تحریک کار خواتین کے اہل خانہ سے مل کر ان سے اس بات کی اپیل کررہے ہیں کہ وہ احتجاجی مظاہرہ ختم کرادیں۔خاتون کے مطابق پولیس اہل خانہ کو اس بات کی یقین دہانی کی کوشش کررہی ہے کہ ہمیں شہریت(ترمیمی)قانون کے تئیں گمراہ کیا گیا ہے۔

محکمہ پولیس کے ذرائع نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ احتجاج کے دوران دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے پاداش میں جن خواتین کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے ان کے اہل خانہ سے ملاقات کر کے ان سےاپیل کی جارہی ہے کہ وہ خواتین کو احتجاج ختم کرنے پر آمادہ کریں۔

وہیں ابھی تک شہریت(ترمیمی)قانون کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران کل 6 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ جن میں سے چار گھنٹہ گھر پر ہونے والے احتجاجی مظاہرے کے تحریک کاروں کے خلاف ہے تو وہیں دو گومتی نگر کے اجریاؤں میں ہونے والے احتجاج میں شرکت کرنے والوں کے خلاف ہے۔

پولیس کی کارروائی کے بعد بھی تحریک کار خواتین کے حوصلے بلند ہیں اور وہ شہریت(ترمیمی)قانون کو واپس لینے کے مطالبے کے ساتھ اپنے احتجاج کو جاری رکھنے کے لئے پرعزم ہیں۔12 دن قبل چند خواتین کی جانب سے شروع ہونے والا مظاہرہ روز بروز بڑھتا اور منظم ہوتا جارہاہے۔ سی اے اے کی مخالفت میں سراپا احتجاج خواتین کو ہر شعبہ ہائے حیات و ذات پات کے لوگ اپنی حمایت دینے یومیہ گھنٹہ گھر پہنچ رہے ہیں۔

ابتداء میں احتجاجی مظاہرے کو ختم کرنے کے لئے دباؤ بنانے کے تحت پولیس نے آس پاس کے نگر نگم کے بیت الخلاء کو مقفل کردیا تھا۔بیٹھنے کے لئے لائی گئی چٹائیاں اور کمبل چھین لئے تھے۔ رات ہوتے ہی آس پاس کی لائٹیں بند کردی جاتی تھیں تو وہیں پولیس نے ابھی تک مظاہرین کو مائیک لگانے کی اجازت نہیں دی ہے۔

گزشتہ کل بی ایس پی سپریمو مایاوتی نے بھی مظاہرین کے خلاف یو پی پولیس کی کارروائی کی تنقید کرتے ہوئے درج ایف آئی آر کو فوراً واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا ، مایاوتی نے پیر کو اپنے ٹوئٹ میں لکھا’’ سی اے اے/این آر سی وغیرہ کی مخالفت میں جدوجہد کرنےوالی خواتین سمیت جن افراد کے بھی خلاف یو پی بی جے پی حکومت کی جانب سے غلط مقدمے درج کیے گئے ہیں انہیں فورا ً واپس لیا جائے اور اس دوران جن کی جانیں گئی ہیں سرکاران کو مناسب معاوضہ فراہم کرے۔یہ بی ایس پی کا مطالبہ ہے۔

Published: 28 Jan 2020, 6:11 PM