شہریت قانون: ہندوستان کے موجودہ حالات پر مائیکرو سافٹ سی ای او ستیہ نڈیلا کا اظہارِ فکر

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہندوستان میں جاری احتجاجی مظاہروں کے درمیان مائیکرو سافٹ کے چیف ایگزیکٹیو افسر ستیہ نڈیلا نے ایک تقریب میں کہا کہ ’’ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ افسوسناک ہے۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف پورے ملک میں احتجاجی مظاہرہ جاری ہے۔ ان مظاہروں کے درمیان مائیکرو سافٹ کے چیف ایگزیکٹیو افسر (سی ای او) ستیہ نڈیلا نے اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملک کے موجودہ حالات فکر انگیز ہیں۔ نڈیلا نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’مجھے لگتا ہے کہ جو ہو رہا ہے وہ افسوسناک ہے۔ میں ایک ایسے بنگلہ دیشی مہاجر کو دیکھنا چاہوں گا جو ہندوستان آتا ہے اور انفوسس کا اگلا سی ای او (چیف ایگزیکٹیو افسر) بنتا ہے۔‘‘


بعد میں ایک دیگر بیان میں ستیہ نڈیلا نے کہا کہ ’’مجھے اس جگہ پر بہت فخر ہے جہاں مجھے اپنی ثقافتی وراثت ملتی ہے اور میں ایک شہر، حیدر آباد میں پرورش پائی ہے۔ مجھے ہمیشہ لگا کہ یہ بڑا ہونے کے لیے ایک شاندار جگہ ہے۔ ہم نے ساتھ مل کر عید، کرسمس، دیوالی... تینوں تہوار منائیں، جو ہمارے لیے بڑے ہیں۔‘‘


نڈیلا کی جانب سے مائیکرو سافٹ انڈیا کے ذریعہ جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہر ملک کو اپنی سرحدوں کو متعارف کرنے، قومی تحفظ یقینی کرنے اور امیگریشن پالیسی مقرر کرنے کا حق ہے۔ جمہوریت میں یہ سب عوام اور حکومت کے درمیان بحث سے منظر عام پر آتا ہے۔


ستیہ نڈیلا کے بیان کے بعد تاریخ داں رام چندر گوہا کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ انھوں نے ستیہ نڈیلا کے مذکورہ بیان کا استقبال کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں خوش ہوں کہ ستیہ نڈیلا نے وہ کہا جو وہ محسوس کرتے تھے۔ یہ دانشمندی کی بات ہے۔ رام چندر گوہا نے شہریت ترمیمی قانون کو ہندوستانی آئین کے خلاف بتایا ہے اور انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ آئی ٹی انڈسٹری کے دیگر لوگ بھی یہ کہنے کی ہمت دکھائیں۔

قابل ذکر ہے کہ شہریت ترمیمی قانون 2019 پارلیمنٹ سے پاس ہونے اور صدر جمہوریہ کے دستخط کے بعد 10 جنوری سے پورے ملک میں نافذ ہو گیا ہے۔ مودی حکومت نے اس سلسلے میں 10 جنوری کو نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ لیکن اس قانون کے خلاف ملک کے کئی حصوں میں احتجاجی مظاہرہ جاری ہیں۔ اس قانون کو لے کر ملک کے کئی علاقوں میں تشدد کے واقعات بھی سامنے آ چکے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


/* */