ہندوستان آئے 44 پاکستانی ہندو عقیدتمندوں کے وفد نے سی اے اے کو بتایا ’سیاسی کھیل‘

مودی حکومت جس پاکستان پر ہندوؤں کے خلاف مظالم ڈھانے کا الزام عائد کرتی رہی ہے، وہاں سے ہریدوار ’گنگا اسنان‘ کرنے پہنچے 44 ہندو عقیدتمندوں کے وفد نے ایسے کسی بھی ظلم سے انکار کر دیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ہندوستان میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف زبردست مظاہروں کے درمیان پاکستان سے 44 ہندو عقیدتمندوں پر مبنی ایک وفد ہریدوار پہنچا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وفد میں شامل کئی ہندوؤں نے سی اے اے سے متعلق ایک ایسا بیان دیا جو مودی حکومت پر سوالیہ نشان کھڑے کرتا ہے۔ پاکستان سے آئے ان ہندوؤں کا کہنا ہے کہ سی اے اے صرف سیاسی کھیل ہے، کیونکہ جس طرح یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پاکستان میں ہندوؤں پر مظالم ہو رہے ہیں، وہ قطعی درست نہیں۔ پاکستانی وفد میں شامل ہندوؤں سے جب میڈیا نے بات کی تو انھوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’پاکستان میں ہم بہت خوش ہیں۔ کوئی پریشانی نہیں ہے۔ سی اے اے صرف سیاست کا کھیل معلوم پڑتا ہے۔ ہمیں اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔‘‘

پاکستانی ہندوؤں کا یہ بیان مودی حکومت کے لیے پریشان کرنے والا ہے، کیونکہ پی ایم مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ لگاتار یہی بیان دیتے رہے ہیں کہ پاکستان میں ہندوؤں پر مظالم ہو رہے ہیں اور انھیں سی اے اے کے ذریعہ ہندوستان کی شہریت دینا ضروری ہے۔ لیکن اتوار (16 فروری) کے روز اتراکھنڈ کے ہریدوار میں گنگا اسنان کرنے اور مندروں میں بھگوان کا دَرشن کرنے کے بعد جو کچھ پاکستانی ہندوؤں نے میڈیا کو بتایا، وہ قابل غور ہے۔ پاکستانی وفد میں شامل مکیش شنکر نامی ایک عقیدتمند نے کہا کہ ’’ہندوؤں کے استحصال جیسی کوئی بات آج تک ہمارے شہر میں کسی کے ساتھ نہیں ہوئی ہے۔ یہ ضرور ہے کہ ہندوستان میں جس طرح تہوار کی دھوم سڑکوں پر دیکھنے کو ملتی ہے، ویسے پاکستان میں نظر نہیں آتا۔ سچ تو یہ ہے کہ فورس کو چھوڑ کر سبھی محکموں میں ہندوؤں کو ملازمت بھی دی جاتی ہے۔‘‘

وفد میں شامل کانتا موہن لال نے سی اے اے سے کسی پاکستانی ہندو کو فائدہ ہونے کی بات پر حیرانی ظاہر کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’کوئی ہندو پاکستان میں پریشان ہے، یہ سوچنا ٹھیک نہیں۔ سبھی خوشی کے ساتھ وہاں رہ رہے ہیں۔ اگر پریشانی ہے تو صرف یہ کہ ہندوستان کے لیے ویزا ملنے میں دقتیں آتی ہیں۔‘‘ شیام نامی ایک دیگر عقیدتمند کا کہنا ہے کہ ’’ہم لوگ گنگا اسنان اور تیرتھ استھلوں کی زیارت کرنے آئے ہیں۔ ہمارے آبا و اجداد کا تعلق گجرات سے ہے، لیکن وہاں جانے کی اجازت نہیں مل پائی۔ پھر بھی ہریدوار آ کر کافی اچھا لگا ہے۔ لیکن پاکستان ہماری جائے پیدائش ہے، ہم سب وہاں خوش ہیں۔ یہاں (ہندوستان) کی شہریت لینے جیسا ہمارے ذہن میں کوئی خیال ہی نہیں ہے۔‘‘

دراصل پاکستان کے کراچی واقع سلطان آباد نیا حاجی کیمپ علاقہ کے 44 ہندو عقیدتمندوں کا وفد ہفتہ (15 فروری) کی شام کنکھل واقع ایک دھرم شالہ میں پہنچا۔ وفد کی قیادت مکیش شنکر کر رہے ہیں جن کا کہنا ہے کہ گزشتہ 13 فروری کو پاکستان سے وہ ہندوستان کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ باگھہ بارڈر پہنچنے کے بعد امرتسر سے بذریعہ بس وہ ہریدوار پہنچے۔ اس وفد میں چونکہ پاکستانی ہندو شامل تھے، اس لیے میڈیا نے سی اے اے کے تعلق سے ان کا نظریہ جاننے کی کوشش کی۔ لیکن وفد میں شامل جتنے لوگوں سے سوال کیا گیا، انھوں نے سی اے اے کو ’سیاسی کھیل‘ ہی ٹھہرایا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ پاکستان بننے کے بعد سے ان کے خاندان پاکستان میں ہی رہتے ہیں، پھر ہندوستان آنے کے بارے میں کیوں سوچیں۔ ایک شخص نے کہا کہ ’’سبھی مذاہب کے لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے، لیکن سبھی ساتھ مل کر ایک دوسرے کے تہوار یا خاندانی تقاریب میں شامل ہوتے ہیں۔ محض کچھ لوگ سیاست کی وجہ سے آپسی رشتوں میں زہر گھولنے کا کام کرتے ہیں۔‘‘