گراؤنڈ رپورٹ: مظفرنگر میں تشدد کیسے بھڑکا، گھروں میں توڑ پھوڑ کسنے کی؟ 

مظفر نگر میں ہول سیل جوتے کا کاروبار چلانے والے 73 سالہ انور الٰہی نے جمعہ کی ہولناک رات کو یاد کرتے ہوئے کہا ، ’’ٹوپ والے بھی تھے اور کچھ سادی وردی میں تھے۔ وہ اندر آکر توڑ پھوڑ کرنے لگے‘‘

تصویر بشکریہ بی بی سی ہندی
تصویر بشکریہ بی بی سی ہندی
user

قومی آوازبیورو

مظفر نگر کی صورت حال بیان کرتی بی بی سی ہندی کے لئے زبیر احمد کی رپورٹ

مظفر نگر: حاجی انور الٰہی کمبل میں لپٹے اپنے گھر کے اندر ہونے والی تباہی پر ماتم کر رہے تھے۔ ان کے کنبے کی تین عورتیں سہمی ہوئی بغل کی چارپائی پر بیٹھی ایک دوسرے سے باتیں کر رہی تھیں۔ مظفر نگر میں ہول سیل جوتے کا کاروبار چلانے والے 73 سالہ انور الٰہی نے جمعہ کی ہولناک رات کو یاد کرتے ہوئے کہا ، ’’ٹوپ والے بھی تھے اور کچھ سادی وردی میں تھے۔ وہ اندر آکر توڑ پھوڑ کرنے لگے۔‘‘

حاجی انور الٰہی معذور ہیں۔ وہ کہنے لگے کہ ’’ایک نے مجھے لاٹھی سے مارا، میں زمین پر گر گیا۔ دوسرے نے کہا اسے مت مارو۔‘‘ مظفر نگر شہر میں داخل ہوتے ہی میناکشی چوک آتا ہے، جس کے ارد گرد کی گلیوں میں مسلم طبقہ کے لوگ آباد ہیں۔

مظفرنگر میں غمزدہ بیٹھے حاجی انور الٰہی
مظفرنگر میں غمزدہ بیٹھے حاجی انور الٰہی

جمعہ کے روز مظفر نگر میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ایک بڑا احتجاج ہوا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ احتجاج پرتشدد احتجاج میں بدل گیا۔ اس تشدد میں متعدد مظاہرین زخمی ہوئے اور متعدد پولیس اہلکار بھی زخمی ہو گئے۔ مظفر نگر کے ایس پی سٹی شہر ستپال انتیل نے بتایا کہ انہیں بھی ایک گولی لگی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ پیر تک 48 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

گراؤنڈ رپورٹ: مظفرنگر میں تشدد کیسے بھڑکا، گھروں میں توڑ پھوڑ کسنے کی؟ 

عینی شاہدین کے مطابق جمعہ کی رات بارہ بجے کے قریب ایک بڑا ہجوم انور الٰہی اور ان کے پڑوسیوں کے گھروں میں داخل ہوا اور توڑ پھوڑ کرنے لگا۔ انور الٰہی کو ان کے گھر پر حملہ کرنے والے اپنے ساتھ لے گئے۔ جب ہم نے پوچھا کہ آپ کو کون لے گیا تو انہوں نے کہا، ’’پولیس اہلکار تھے، ٹوپ والے۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’ہمیں پولیس لائن لے جایا گیا جہاں پہلے ہی بہت سارے لوگوں کو لایا گیا تھا۔ ان کو زد و کوب کیا گیا اور لوگوں کی چیخیں سنائی دے رہی تھیں۔‘‘

گراؤنڈ رپورٹ: مظفرنگر میں تشدد کیسے بھڑکا، گھروں میں توڑ پھوڑ کسنے کی؟ 

اگلے دن شام کو ان کا ایک رشتہ دار آیا اور انور الٰہی کو چھڑا کر لے گیا۔ انہوں نے کہا ’’جانے سے پہلے انہوں نے ہم دونوں سے ہندی میں لکھے گئے ایک بیان پر دستخط کرائے۔‘‘ جب ہم پیر کے روز انور الٰہی کے گھر گئے تو ہم نے دیکھا کہ ان کے گھر کے اندر کار اور سامان ٹوٹے ہوئے ہیں۔ تین منزلہ عمارت کے ہر کمرے میں فرش پر شیشے کے ٹکڑے بکھرے ہوئے تھے۔ کچن میں برتن اور فرج زمین پر پڑے تھے۔

انور الہٰی کے علاوہ اس وقت ان کے کنبے کی تین خواتین بھی وہاں موجود تھیں۔ ان میں سے ایک نے کہا، ’’ہم نے ان سے کہا کہ آپ لوگ کیوں تباہی مچا رہے ہو، تو ان میں سے ایک نے کہا کہ آپ اپنے کمرے میں رہو۔ ہمارے گھر شادی تھی۔ وہ تین لاکھ روپے کا زیور بھی اپنے ساتھ لے گئے۔‘‘


گراؤنڈ رپورٹ: مظفرنگر میں تشدد کیسے بھڑکا، گھروں میں توڑ پھوڑ کسنے کی؟ 

اس محلہ کے بہت سے مکانات کی یہی حالت تھی۔ گھر کے ہر کمرے میں سامان توڑ دیا گیا تھا۔ اس گنجان آباد محلے کی ایک مسجد کے گیٹ پر لگے شیشے ٹوٹے ہوئے تھے۔ محلہ کے باہر کھڑی گاڑیوں کی بھی یہی حالت تھی۔ ایک دکاندار نے ہمیں سی سی ٹی وی کیمرے کی ویڈیوز دکھائیں، جن میں کچھ وردی پہنے ہوئے افراد کو لاٹھیوں سے گاڑیوں کو توڑتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ جب سی سی ٹی وی کیمرے ٹوٹ جاتے ہیں تو ویڈیو ریکارڈنگ بھی بند ہو جاتی ہے۔ لوگوں میں خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ ایک گھر کی خواتین نے ہم سے بات کرنے سے انکار کر دیا۔

ہم گھر کے کسی مرد سے ملنا چاہتے تھے جس کے بارے میں ہمیں بتایا گیا کہ پولیس نے ان کی پٹائی کی تھی۔ ایک دوسرے گھر میں مرد بھی موجود تھے لیکن وہ باہر آنے سے خوفزدہ تھے۔ ایک نوجوان وکیل عدنان علی نے ہمیں اس شرط پر ویڈیو انٹرویو دیا کیا ہم ان کا چہرہ واضح طور پر نہ دکھائیں۔

گراؤنڈ رپورٹ: مظفرنگر میں تشدد کیسے بھڑکا، گھروں میں توڑ پھوڑ کسنے کی؟ 

انہوں نے اس رات کا حال کچھ یوں بیان کیا، ’’باہر بہت بڑا ہجوم تھا۔ گھروں سے خواتین کے چلانے کی آواز آ رہی تھی۔ وہ ہمارے گھر سے ہو کر گزرے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا ’’وہ لوگ وردی میں تھے لیکن یہ نہیں معلوم کہ وہ پولیس اہلکار تھے۔ وہ طنزیہ کہہ رہے تھے تمہیں آزادی چاہتے،لو آزادی!‘‘ سوال یہ اٹھتا ہے کہ حملہ آور کون تھے؟ مقامی لوگوں کو شبہ ہے کہ بیشتر لوگ بیرونی تھے لیکن کچھ پولیس اہلکار بھی ان کے ساتھ تھے۔


توڑ پھوڑ کسنے کی؟

شہر کے ایس پی ستپال انتیل کے مطابق انہیں ابھی تک توڑ پھوڑ کی شکایات موصول نہیں ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’اگر ہمیں شکایات موصول ہوں گی تو ہم تحقیقات کر کے کارروائی کریں گے۔‘‘ پولیس اہلکار بھی توڑ پھوڑ میں ملوث تھے اس کا جواب انہوں نے نہیں دیا۔ تاہم، انہوں نے اشاروں میں ضرور بتایا کہ کون توڑ پھوڑ میں شامل تھا۔

مظفرنگر کے ایس پی سٹی ستپال انتیل
مظفرنگر کے ایس پی سٹی ستپال انتیل

ان کے مطابق، ہر طرف سے لوگ میناکشی چوک میں امنڈ آئے تھے اور ’’جب انہیں کھدییڑا گیا تو اندر گلیوں کی طرف بھاگے۔ دیر رات تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ پولیس افسر نے کہا، ’’میناکشی چوک احتجاج کا گڑھ تھا۔‘‘

ان گلیوں میں رہنے والے لوگوں کی مرکزی سڑک پر دکانیں ہیں۔ ان کی 50 سے زیادہ دکانوں پر تالے لگے تھے، جن کو سیل کر دیا گیا تھا۔ انتظامیہ نے یہ دکانیں بند کرا دی ہیں۔ انتظامیہ نے ان کو بند کرانے کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں بتائی لیکن مقامی لوگوں کے مطابق انتظامیہ انہیں احتجاج میں شامل ہونے کی سزا دے رہی ہے۔

جمعہ کے روز ریاست بھر میں اور خاص طور پر مغربی اتر پردیش میں لاکھوں لوگوں نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔ متعدد مقامات پر تشدد ہوا جس میں اب تک 18 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور سیکڑوں افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ علاقے میں صورتحال اب قابو میں ہے۔

(یہ رپورٹ اس سے پہلے ہندی میں بی بی سی پر شائع ہو چکی ہے)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 24 Dec 2019, 7:30 PM