کلکتہ عالمی کتاب میلہ میں خوب فروخت ہوئیں ’سی اے اے‘ پر مبنی کتابیں

ممتا بنرجی کی کتاب ’ناگرکتا آتنگ‘ کتاب میلہ کے منعقد ہونے کے 6دنوں بعد شایع کی گئی تھی۔اس کتاب میں شہریت ترمیمی ایکٹ کے نفاذ سے پیدا ہونے والے نقصانات کو موضوع بنایا گیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

کولکاتا: سیاسی سرگرمیوں سے دور رہنے والا کلکتہ بین الاقوامی کتاب میلہ اس سال شہریت ترمیمی ایکٹ کی حمایت اور مخالفت کا ایک بڑا مرکز بن کر رہ گیا۔مختلف پبلشروں نے اس ایکٹ کی حمایت اور مخالفت میں کتابیں شایع کی تھیں۔ جسے قارئین نے اپنے اپنے نظریات اور فکر کے مطابق ہاتھوں ہاتھ لیا شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف ممتا بنرجی کی تصنیف کردہ کتاب کے تمام نسخے محض 6دنوں میں فروخت ہوگئے ہیں۔ 12روزہ کتاب میلہ اتوار کو اختتام پذیر ہوگیا۔اس سال سالٹ لیک کے سنٹرل پارک میں منعقد کیا گیا تھا۔

ممتا بنرجی کی کتاب ”ناگرکتا آتنگ“کتاب میلہ کے منعقد ہونے کے 6دنوں بعد شایع کی گئی تھی۔اس کتاب میں شہریت ترمیمی ایکٹ کے نفاذ سے پیدا ہونے والے نقصانات کو موضوع بنایا گیا ہے۔کتاب کے ناشر’ابو دے‘ نے بتایا کہ وزیرا علیٰ ممتا بنرجی کی نئی تصنیف ”ناگرکتا آتنگ“کی ایک ہزار کاپی شائع ہوئی تھیں۔4فروری کو بین الاقوامی کتاب میلہ میں اس کتاب کو رسم اجراء کیا گیا۔مگر کل 9فروری کی دوپہر کو ہی یہ کتاب ختم ہوگئی۔

اس کتاب میں ممتا بنرجی نے شہریت ترمیمی ایکٹ کو غیر ضروری بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ اس طرح کے قوانین ملک کی معیشت کو سخت نقصان پہنچائیں گے۔کیوں کہ شہریت ترمیمی ایکٹ اور اس کے بعداین آر سی کے ممکنہ نفاذ کی خبروں سے ملک میں آتنگ کا ماحول ہے جو کسی بھی صورت میں معیشت کیلئے بہتر نہیں ہے۔

یہ کتاب ”دے پبلشنگ“ کے کاؤنٹر کے علاوہ ترنمول کانگریس کے ترجمان ”جاگو بنگلہ“ کے کاؤنٹر سے بھی فروحت کی گئی ہے۔

ممتا بنرجی نے اپنی کتاب کے تمہید میں لکھا ہے کہ 1993سے ہی ہر سال کلکتہ بین الاقوامی کتاب میلہ میں میں اپنے نظریات اور آئیڈیولوجی کے تناظر میں نئے مسائل پراپنی کتابوں کی اشاعت کرتی ہوں۔اس سال ملک بھر میں شہریت ترمیمی ایکٹ، این آر سی اور این پی آر کو لے کر ملک بھر میں حمایت اور مخالفت میں تحریکیں چل رہی ہیں۔اس لئے میں نے اس موضوع کا انتخاب کرتے ہوئے اپنا موقف پیش کیا ہے کہ ہم اس ایکٹ کی مخالفت کیوں کررہے ہیں او ر یہ قانون کس طرح ملک کے دستور کی روح کے خلاف ہے۔

ممتا بنرجی کی کتابوں کی اشاعت کرنے والے پبلشر نے بتایا کہ اس سال ممتا بنرجی کی 14نئی کتابیں جس میں نظم بھی شامل ہیں کی اشاعت ہوئی ہے۔اب تک ممتا بنرجی 100کتابیں لکھ چکی ہیں۔اس وقت ممتا بنرجی کی تصنیف کردہ 102کتابیں دستیاب ہیں جو انگریزی اور بنگالی میں ہیں جب کہ اردو زبان میں بھی ممتا بنرجی کے نظموں کا ترجمہ شایع ہوچکا ہے۔اس کے علاوہ ممتا بنرجی کے نظموں کا ترجمہ الچیکی اور سنتھالی زبان میں بھی کیا جارہا ہے۔

ایسے اس سال عالمی کتاب میلے میں شہریت ترمیمی ایکٹ کی حمایت اور مخالفت میں بڑے پیمانے پر کتابوں کو فروخت کیا گیا ہے۔وشو ہند وپریشد نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے اسٹال پر شہریت ترمیمی ایکٹ اور 370کی حمایت میں لکھی گئی کتاب کے 6ہزار نسخے فروخت ہوئے ہیں۔

اسی طرح اسٹوڈننس فیڈریشن آف انڈیا نے بھی بتایا ہے کہ شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی سے متعلق ایک ہزار کتابیں ان کے اسٹال سے فروخت ہوئی ہیں۔ایس ایف آئی کے اسٹال سے "NO CAA"والا ٹی شرٹ بھی فروخت ہوا ہے۔

اسی طرح پوئپلس اسٹڈی سرکل کے ترجمان نے بتایا کہ ان کے ہاؤس نے دوکتابیں ”نیجیر دیش رفیوجی ہوبو(پورا ملک رفیوجی بن جائے گا) اور“ای بنگالار ادبستو“(بنگال کے رفیوجی)شایع کیا تھا۔گزشتہ 12دنوں میں کل 1500کاپی فروخت ہوئی ہیں۔

تاہم کتاب میلہ کے آرگنائزر پبلشر اینڈ بک سیلر گلڈ کے صدر تریدیہ چٹرجی نے کہا کہ سی اے اے اور این آر سی سے متعلق کتنی کتابیں فروخت ہوئیں کے اعدادوشمار پیش کرنا ناممکن ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ سنیچر کو جب بی ج پی لیڈر راہل سنہا عالمی کتاب میلہ پہنچے تو بڑے پیمانے پر نوجوانوں نے ان کا محاصرہ کرلیا اور شہریت ترمیمی ایکٹ مخالف نعرے لگانے لگے۔احتجاج کررہے نوجوانوں اور راہل سنہا کے ساتھ موجود بی جے پی کارکنان کے ساتھ ہاتھا پائی کی نوبت بھی پیدا ہوگئی تھی مگر پولس کی مستعدی سے حالات فوری طور پر کنٹرول میں آگئے۔کئی مظاہرین کو گرفتار بھی کیا گیا۔اس کی وجہ سے تھوڑی دیر کیلئے کتاب میلہ میں حالات خراب بھی ہوگئے۔

کتاب میلہ آرگنائزروں نے سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عاید کردی تھی اس کے باوجود ہرروز بڑی تعداد نوجوان کتاب میلہ کے دوران شہریت ترمیمی ایکٹ مخالف نعرے لگاتے ہوئے نظرآئے۔

next