بیوروکریسی اور پولس ہمیں کام نہیں کرنے دے رہی: عمران خان

پاکستانی وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے غیر ملکی قرض 36 ٹریلین روپے تک پہنچا دیا تھا، اگر پی ٹی آئی حکومت اگلے دو ماہ کے اندر قرض نہیں لیتی ہے تو ملک دیوالیہ ہو جائے گا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

اسلام آباد: پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے انتظامی سطح پر حکومت کے کام میں رکاوٹ پیدا کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے سیاسی بیوروکریسی اور پولیس محکمہ کی سخت تنقید کی ہے۔

’ایکسپریس نیوز‘ کی رپورٹ کے مطابق عمران خان نے اسلام آباد میں ہفتہ کو چند منتخب صحافیوں سے بات چیت کے دوران کہا کہ کچھ لوگ انتظامی سطح پر حکومت کے کام میں رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں، یہ وہی لوگ ہیں جن کی پچھلی حکومت میں تقرری کی گئی تھی۔
خان نے کہا ’’میں 22 سال کے سخت جدوجہد کے بعد اقتدار میں آیا ہوں، لہذا اس طرح کے معاملات سے نمٹنے کے لئے میرے پاس انتہائی ضروری صبر وتحمل ہے‘‘۔

قومی قرض کے معاملہ پر پاکستانی وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے غیر ملکی قرض 36 ٹریلین روپے تک پہنچا دیا تھا۔ اگر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی نئی حکومت اگلے دو ماہ کے اندر قرض نہیں لیتی ہے تو ملک شدید طور پر دیوالیہ ہو جائے گا۔
خان نے کہا ’’بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پاس جانے پر حقیقی مسئلہ قرض کو لے کر کچھ قوانین کا ہے۔ ہم کچھ دیگر ذرائع کے ذریعہ بھی حالات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

عمران خان نے کہا، ’’ہمیں سعودی عرب اور چین سے اچھے پیغام مل رہے ہیں۔ مالی امداد کے لئے دونوں ممالک سے پہلے ہی رابطہ کیا جا چکا ہے‘‘۔ قومی احتساب بیورو (نیب) پر پاکستانی وزیر اعظم نے واضح کیا کہ یہ ایک آزاد ادارہ ہے اور ان کی حکومت سے اس کا کوئی براہ راست تعلق نہیں رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔