بُلی بائی تنازعہ: دہلی ہائی کورٹ کی خاتون وکلا کا چیف جسٹس کے نام مکتوب، اقلیتوں کی حفاظت یقینی بنانے کا مطالبہ

خاتون وکلا نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ بلی بائی ایپ اس لیے بنایا گیا کیونکہ سلی ڈیل بنانے والے مجرموں کو سزا نہیں ملی۔ حالانکہ سلی ڈیل کیس میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی لیکن کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

علامتی تصویر / آئی اے این ایس
علامتی تصویر / آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: بُلی بائی ایپ تنازعہ کے درمیان دہلی ہائی کورٹ خاتون وکلا فورم نے ہندوستان کے چیف جسٹس این وی رمنا کو مکتوب ارسال کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ مرکز اور ریاستی حکومتوں کو اقلیتی طبقات سے وابستہ افراد کی حفاظت کو یقینی بنانے کے مقصد سے رہنما ہدایات جاری کرنے کی ہدایت دی جائے۔

اپنے مکتوب (لیٹر پٹیشن) میں ہندوستان میں اقلیتی برادریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی ناکامی کو اجاگر کرتے ہوئے، وکلاء تنظیم نے اقلیتوں کے بنیادی حقوق کے احترام اور تحفظ کے ساتھ ہندوستان کے آئین کے آرٹیکل 21 کی ضمانت پر زور دیا۔


خاتون وکلا فورم نے ممبئی پولیس کے ذریعہ کی جا رہی مجرمانہ تحقیقات کی نگرانی کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا کہ بلی بائی اور سلی ڈیل تحقیقات کے ساتھ اس کے لئے فنڈنگ ​​کے ذرائع اور ملزمان کو ہدایت دینے والے لوگوں کی بھی تحقیقات کی جائے۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ غیر قانونی اور بدسلوکی کرنے والی بلی بائی ایپ جولائی 2021 میں سامنے آنے والے ’سلی ڈیلز‘ ایپ کی طرح ہی ہے اور اس میں بھی مخصوص خواتین کے خلاف نازیبا تبصرے کئے گئے ہیں۔ ان دونوں ایپس کے ذریعے مجرموں نے مسلم خواتین کو ٹرول کیا، ان پر سروے کیا اور ان کی تصاویر کو بطور ملازمہ نیلامی کے لیے استعمال کیا۔


خاتون وکلا نے کہا کہ ’’ہمیں یقین ہے کہ بلی بائی ایپ اس لیے بنایا گیا کیونکہ سلی ڈیل بنانے والے مجرموں کو سزا نہیں دی گئی۔ حالانکہ سلی ڈیل کیس میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی لیکن کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔’‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔