بلند شہر تشدد: شہید انسپکٹر کی تعزیتی نشست منسوخ، یوگی حکومت پر اٹھے سوال

بلند شہر تشدد میں شہید پولس انسپکٹر کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے تھانہ میں ہونے جا رہی ایک تعزیتی نشست کو اعلی افسران نے جبراً منسوخ کرا دیا، جس کے بعد یوگی حکومت کی منشا پر سوال اٹھ رہے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

آس محمد کیف

اتر پردیش کے بلند شہر میں ہوئے تشدد میں وی ایچ پی-بجرنگ دل کے غنڈوں کی گولی سے شہید ہوئے انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ کو انصاف دلانے کی یوگی حکومت کی نیت پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بدھ کی صبح شہید انسپکٹر کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے یو پی ایک تھانے میں رکھی گئی تعزیتی نشست میں اعلی افسران کا شامل ہونا دور الٹا انہوں نے تعزیتی نشست کو ہی منسوخ کرا دیا۔

دراصل یو پی کے ایک پولس تھانے کے انچارج نے گزشتہ رات مقامی صحافیوں کو فون کر کے بدھ کی صبح 10 بجے تھانہ احاطے پہنچنے کی درخواست کی تھی۔ تھانہ انچارج نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کے ساتھی انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ کی بلند شہر میں شہادت ہو گئی ہے۔ جس سے محکمہ کے لوگوں میں انتہائی دکھ کا ماحول ہے۔ ایسے میں وہ اپنے تھانہ احاطے میں شہید انسپكٹر کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ایک تعزیتی نشست کا انعقاد کر رہے ہیں۔

افسر کی دعوت پر کئی صحافی اور علاقے کے کچھ معزز حضرات وقت پر تھانے پہنچ گئے لیکن وہاں کوئی تعزیتی نشست نہیں ہوئی۔ سوال پوچھنے پر بھرے دل سے تھانہ انچارج نے بتایا کہ اعلی افسران نے تعزیتی نشست کے لئے منع کر دیا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق اعلی افسران نے تھانہ انچارج سے کہا کہ محکمہ کے لوگ شہید کے لئے ایک دن کی تنخواہ دے رہے ہیں وہی کافی ہے اور کسی تعزیتی نشست کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک ہی محکمہ ہونے کے ساتھ ہی شہید انسپکٹر مذکورہ تھانہ انچارج کے قریبی دوست بھی تھے۔ اعلیٰ افسران کے رویہ سے مجروح تھانہ انچارج اب اس معاملے پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتے۔

واضح رہے کہ گزشتہ کچھ سالوں کے دوران اتر پردیش پولس کے کئی پولس افسران نے شہادتیں پیش کی ہیں۔ ان میں مارچ 2013 میں پرتاپ گڑھ میں ہوئی سی او ضیاء الحق کی شہادت، جون 2016 میں ایس پی مکل دویدی کی شہادت اور اسی سال شاملی میں انکاؤنٹر کے دوران سپاہی انکت تومر کی شہادت شامل ہے۔ ان شہیدوں کو ضروری احترام ملا ہے اور انصاف کی سمت میں کارروائی ہوئی، انکت تومر کی شہادت پر تو یوپی پولس میں ایک بڑی مہم چلی اور سوشل میڈیا پر تمام بڑے افسران تک نے اپنی ڈی پی (تصویر) تبدیل کر لی تھی۔

ریٹائرڈ انسپکٹر لاكھن سنگھ کے مطابق تازہ معاملے میں اس طرح کے عزم اور لگن کا فقدان صاف دکھائی دے رہا ہے۔ انسپکٹر سبودھ کمار یقینی طور پر بہادری کے ساتھ شہید ہوئے ہیں۔ اس لئے وہ ہر طرح کے احترام کے مستحق ہیں، اس سے پہلے شہید انسپکٹر کے بیٹے ابھیشیک بلند شہر میں اپنے والد کی لاش کو ترنگے میں نہ لپیٹنے کو لے کر سوال اٹھا چکے ہیں۔ حالانکہ اس کے بعد یوپی پولس نے اپنی غلطی کو تسلیم کیا اور یوپی پولس کے اے ڈی جی (لا اینڈ آرڈر) آنند کمار نے واضح کیا کہ انسپکٹر سبودھ کمار یقینی طور پر ہمارے لئے شہید ہیں، اس کے بعد ایٹہ پولس لائن میں انہیں مکمل احترام دیا گیا۔ وہاں ان کے جسد خاکی کو ترنگے میں بھی لپیٹا گیا۔

پولس امور کے ماہر نادر رانا کہتے ہیں کہ شہید کا احترام اس کا حق ہوتا ہے جو انسپکٹر سبودھ کو ملنا چاہیے تھا لیکن اس واقعہ میں یوپی پولس میں اس طرح کا ماحول نہیں دکھائی دے رہا ہے جیسا اس سے پہلے کی شہادتوں میں نظر آتا تھا۔ انہوں نے سوال کیا ’’کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ انسپکٹر سبودھ کمار کے قتل میں ہندو تنظیموں پر الزام ہے اور ان کی حمایت والی حکومت ریاست کے اقتدار پر قابض ہے!‘‘ نادر رانا نے مزید کہا، ’’ایسے میں اس کا اثر اُن کو ملنے والے انصاف پر بھی پڑ سکتا ہے۔‘‘ بلند شہر تشدد کے حقائق اور مقامی لوگوں سے بات چیت کے بعد نادر رانا کی کا شبہ صحیح محسوس ہو رہا ہے۔

بلند شہر کے سيانہ میں ہوئے انسپکٹر سبودھ کمار قتل کے بعد سی او ایس پی شرما کو زندہ جلانے کی کوشش کی بھی خبریں سامنے آئی ہیں، انہیں چوکی کی دیوار توڑ کسی طرح بچایا گیا۔ لوگوں کے مطابق اس دوران ان کے ساتھ مار پیٹ بھی کی گئی۔ کئی پولس اہلکار اس بات کو میڈیا اور اپنے افسروں کے سامنے کہہ چکے ہیں کہ اگر وہ جان بچا کر نہیں بھاگتے تو انہیں مار دیا جاتا۔ گئوكشی کی اطلاع کے بعد موقع پر سب سے پہلے پہنچے سيانہ کے تحصیلدار کے مطابق گائے کی باقیات درختوں اور گنوں کے کھیتوں پر لٹکائی گئی تھیں۔ عام طور پر ایسا نہیں ہوتا ہے۔ حالانکہ اب تحصیل دار اس موضوع پر بات نہیں کر رہے ہیں۔

اس ہنگامہ کے بعد منگل کے روز چنگراوٹھی چوکی انچارج سبھاش چندر نے 27 حملہ آوروں کو نامزد کرتے ہوئے رپورٹ درج کرائی ہے۔ اس رپورٹ میں بجرنگ دل کے ضلع کنوینر یوگیش راج کو اہم ملزم بنایا گیا ہے۔ ساتھ ہی ’بھاجپا یوا مورچہ‘ کے سابق شہر صدر شکھر اگروال سمیت وی ایچ پی کے کچھ لوگ بھی نامزد کیے گئے ہیں۔ ایس ایس پی بلند شہر کے بی سنگھ کے مطابق ان تمام افراد کی گرفتاری کے لئے 6 ٹیموں کی تشکیل کی گئی ہے اور مسلسل دبش دی جا رہی ہے، اب تک 4 ملزمان گرفتار کئے جا چکے ہیں۔

پہلے خبر تھی کہ یوگیش راج کو بھی گرفتار کیا جا چکا ہے لیکن بعد میں اس کی گرفتاری کی تردید کر دی گئی۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ واقعہ کے بعد پریس کانفرنس کے دوران اے ڈی جی (لا اینڈ آرڈر) آنند کمار اہم ملزم یوگیش راج کا نام لینے سے صاف بچتے نظر آئے۔

اس دوران مقامی بی جے پی رہنما بھولا سنگھ مکمل طور پر ملزمان کے حق میں کھڑے نظر آرہے ہیں۔ اس طرح کی خبریں گشت کرہی ہیں کہ بلند شہر کے ایس ایس پی برطرف کئے سکتے ہیں۔ پہلی نظر میں اس واقعہ کو لے کر پولس بیک فٹ پر نظر آ رہی ہے۔ لہذا اب سبودھ کمار کے اصل قاتلوں کے گریبان تک پولس کے ہاتھ پہنچیں گے اس کی امید کم ہی نظر آرہی ہے۔ شہید انسپکٹر کو اسی محکمہ کی طرف سے خراج عقیدت پیش کرنے کی اجازت نہیں دینے والے اعلی افسران سے آگے انصاف کی کیا توقع کی جا سکتی ہے۔ ایسے میں یوگی حکومت کے ساتھ ہی یوپی پولس کے اعلیٰ افسران کی منشا پر بھی سوال اٹھنے لگے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 05 Dec 2018, 8:09 PM