بلند شہر تشدد: گئوکشی کے ملزمین پر سختی لیکن انسپکٹر سبودھ کے قاتلوں پر نرمی کیوں!

بلند شہر تشدد کے بعد یوگی آدتیہ ناتھ نے افسران کو گئوکشی کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا فرمان جاری کیا تھا۔ یہ سختی گئوکشی کے ملزمین پر ہی دکھائی دے رہی ہے جب کہ انسپکٹر سبودھ کے قاتل اب بھی فرار ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

آس محمد کیف

اتر پردیش حکومت کو شرمندہ کرنے والے بلند شہر تشدد میں مقامی انتظامیہ نے گئوکشی کے تین ملزمین پر این ایس اے کی کارروائی کی ہے۔ گئوکشی کے الزام میں اب تک کل 9 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان میں ایک ملزم کا نام اروند شرما ہے۔ جن تین ملزمین پر این ایس اے لگایا گیا ہے ان میں حاجی محبوب، ندیم چودھری اور اظہر علی کے نام شامل ہیں۔ تینوں ہی ملزمین سیانا کے چودھریان محلے کے رہنے والے ہیں۔ ان تینوں نے مقامی عدالت میں ضمانت کی عرضی داخل کی تھی۔

اس سلسلے میں جانکاری ملتے ہی انتظامیہ نے ان پر این ایس اے لگانے کا حکم جاری کر دیا۔ بلند شہر کے ضلع مجسٹریٹ نے پولس رپورٹ کی بنیاد پر پیر کے روز جاری کیے گئے اپنے حکم میں کہا کہ مہاب اور نیا بانس میں ملزمین کے عمل سے لوگوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی۔ اس کے احتجاج میں لوگوں نے مظاہرہ کیا اور اس دوران پولس پر لاٹھی ڈنڈوں اور کلہاڑی سے حملہ کرنے کے ساتھ ہی انسپکٹر سبودھ کمار کا گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔

قابل ذکر ہے کہ 3 دسمبر کو بلند شہر ضلع کے مہاب کے جنگلوں میں گئو نسل کے باقیات ملے تھے۔ اس کے بعد بجرنگ دل کے ضلع کنوینر یوگیش راج نے نیا بانس کے 7 لوگوں کے خلاف گئوکشی کے الزام میں نامزد ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ حالانکہ پولس جانچ میں ان لوگوں پر لگے الزامات کو جھوٹا پایا گیا تھا۔ اس کے بعد پولس نے گئوکشی کے الزام میں نئے لوگوں کو گرفتار کیا۔ گرفتار سبھی لوگ مقامی شکاری تھے جو جنگلوں میں نیل گائے کے شکار کے لیے مشہور تھے۔ اس معاملے میں پولس نے ندیم چودھری، یونس بال، گلفام کالا، ہارون، حاجی محبوب، اظہر اور اروند شرما کو گرفتار کیا تھا۔ پولس کے مطابق یہ سبھی لوگ 2 دسمبر کی رات میں شکار کے لیے گئے تھے اور انھوں نے گولی مار کر گئو نسل کا قتل کیا۔ جنگلوں میں ملے باقیات انہی کی کارستانی کا نتیجہ تھے۔

گئوکشی کے ملزمین کی عدالت میں پیروی کر رہے مقامی وکیل محمد آفاق چودھری کے مطابق ’’ندیم چودھری کی ایک کڈنی خراب ہے اور وہ قومی سطح کا شوٹر ہے جس کا حوالہ دے کر ان کی ضمانت کی عرضی ڈالی گئی تھی۔ دوسرے ملزمین کے خلاف پولس کوئی ثبوت نہیں دے پائی تھی اس لیے امید تھی کہ عدالت ان کو ضمانت دے دیتی۔ انتظامیہ ان کو زبردستی جیل کے اندر رکھنا چاہتی ہے جس کے سبب آناً فاناً یکطرفہ کارروائی کرتے ہوئے این ایس اے لگایا گیا۔‘‘ آفاق چودھری نے کہا کہ سیانا کا واقعہ ایک افسوسناک واقعہ ہے لیکن پولس کو یکطرفہ کارروائی نہیں کرنی چاہیے۔

بلند شہر کے سماجوادی پارٹی لیڈر ماجد علی کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے یہ کام ہندوتوا تنظیموں کو خوش کرنے کے لیے اٹھایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’انسپکٹر کے قتل کے ملزم یوگیش راج کو ہیرو کی طرح پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کے بلند شہر میں ہورڈنگ لگے ہیں۔ پولس کے ذریعہ این ایس اے لگانے کی یہ یکطرفہ کارروائی مناسب نہیں ہے۔‘‘

بلند شہر تشدد کو اب تک 44 دن گزر چکے ہیں۔ تشدد میں 27 نامزد سمیت 50 دیگر کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ خاص بات یہ ہے کہ ہنگامہ کے 9 نامزد ملزم اب بھی فرار ہیں۔ اہم ملزم یوگیش راج جیل میں ہے۔ ہنگامہ میں اب تک 36 ملزمین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ان میں انسپکٹر کو کلہاڑی سے کاٹنے والا کلوا عرف راجیو اور ان کو گولی مارنے والے پرشانت نَٹ کو بھی پولس نے جانچ کے بعد گرفتار کیا تھا۔ حالانکہ ان لوگوں کو نامزد نہیں کیا گیا تھا۔

اس درمیان شہر میں یوم جمہوریہ اور مکر سنکرانتی کی مبارکباد دیتے ہوئے یوگیش راج کی تصویر پر مبنی ہورڈنگ لگائے گئے ہیں۔ ان میں انسپکٹر سبودھ کے قتل کے دیگر ملزم وشال تیاگی اور ستیندر کی تصویر بھی ہے۔ پولس نے ویڈیو فوٹیج کی بنیاد پر کل 17 ملزمین کو گرفتار کیا تھا۔ پولس نے اب تک فرار کسی بھی ملزم کے خلاف قرقی کی عرضی تک عدالت میں پیش نہیں کی ہے۔

گئوکشی کے ملزمین پر این ایس اے اور انسپکٹر قتل کے ملزمین پر یہ نرمی کئی سوال پیدا کرتی ہے۔ ایس پی سٹی اتل شریواستو کے مطابق ان سبھی فرار ملزمین کو ہر قیمت پر گرفتار کیا جائے گا۔ اس کے لیے قرقی کی بھی کارروائی کی جائے گی۔ حالانکہ قتل کے ملزمین کے شہر میں لگائے گئے ہورڈنگ کے سوال پر انھوں نے کوئی رد عمل نہیں دیا۔

اس سے قبل بلند شہر میں ہوئے ہنگامہ کے بعد اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ گئوکشی کے واقعہ کو زیادہ سنجیدگی سے لینے کی بات کہہ چکے ہیں۔ واقعہ کے بعد وزیر اعلیٰ نے ایک گائیڈ لائن جاری کی تھی جس میں انسپکٹر سبودھ کے نام کا تذکرہ بھی نہیں تھا۔ پولس کی سخت کارروائی بھی اب صرف گئو کشی کے ملزمین کے خلاف ہی دکھائی دیتی ہے۔ مقامی پولس بھی اب اسی لائن پر کام کر رہی ہے۔ انسپکٹر قتل کے ملزمین کے تئیں ان کا ڈھلمل رویہ ان کے طریقہ کار پر سوالیہ نشان لگاتا ہے۔ ظاہر ہے مقامی انتظامیہ اب ہندو تنظیموں کو مطمئن کرنے کی کوششوں میں مصروف ہو گیا ہے۔