BSNL بند کرنے کی سرکاری دلیل کو ملازمین نے کیا خارج، پی ایم مودی کو لکھا خط

پی ایم مودی کو خط لکھ کر بی ایس این ایل ملازمین نے کہا ہے کہ اگر حکومت ساتھ دے تو بی ایس این ایل کسی بھی پرائیویٹ کمپنی سے مقابلہ کر سکتی ہے کیونکہ اس کے پاس ریلائنس جیو سے بھی بڑا نیٹورک ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

ایشلن میتھیو

جبراً سبکدوشی کا خطرہ برداشت کر رہے سرکاری ملکیت والی کمپنی بی ایس این ایل کے ملازمین نے پی ایم نریندر مودی کو خط لکھ کر بغیر کسی تاخیر کے کمپنی پر چھائے بحران کو ختم کرنے کی گزارش کی ہے۔ بی ایس این ایل ملازمین کی تنظیم کے سکریٹری سبسٹین نے ملازمین کی جانب سے پی ایم کو تحریر کردہ خط میں سرکاری کمپنی کو بند کرنے کی حکومت کی دلیل کو غلط ٹھہرایا ہے۔ ملازمین نے کہا ہے کہ اگر حکومت کی حمایت ملے تو وہ کسی بھی پرائیویٹ ٹیلی مواصلات کمپنی سے مقابلہ کرنے کی اہل ہے۔

ملازمین نے اپنے خط میں کہا ہے کہ انھیں بھروسہ ہے کہ بی ایس این ایل کو بحران سے باہر لایا جا سکتا ہے اور تین چار سال میں پھر سے کھڑا کر کے منافع بخش کمپنی بنایا جا سکتا ہے۔ ملازمین نے کہا کہ اگر حکومت ساتھ دے تو بی ایس این ایل کسی بھی نجی کمپنی سے مقابلہ کر سکتی ہے، کیونکہ بی ایس این ایل کے پاس سب سے بڑا آپٹیکل فائبر نیٹورک ہے۔ ملازمین کے مطابق ریلائنس جیو (325000)، ائیر ٹیل (250000) اور ووڈا فون-آئیڈیا (160000) کے مقابلے بی ایس این ایل کا آپٹیکل فائبر نیٹورک 750000 روٹ کلو میٹر سے زیادہ تک پھیلا ہوا ہے۔

اتنا ہی نہیں ملازمین کا کہنا ہے کہ بی ایس این ایل کے پاس پورے ملک میں سبھی اہم مقامات پر غیر منقولہ ملکیتیں ہیں جن کی قیمت 3 ٹریلین روپے سے بھی زیادہ ہے۔ ملازمین نے اپنی صلاحیت کا تذکرہ کرتے ہوئے حال ہی میں جموں و کشمیر میں پابندیوں کے دوران بی ایس این ایل کی شاندار کارکردگی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری کمپنی نے قدرتی آفات اور ایمرجنسی حالات کے دوران ہمیشہ شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی سروس دی ہے۔

اس درمیان خبر ہے کہ بی ایس این ایل ملازمین کو اب تک ستمبر کی تنخواہ نہیں ملی ہے۔ اس سے ملازمین میں کافی ناراضگی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اگر ایک دو دنوں میں ان کی تنخواہ نہیں آئی تو وہ اپنے مطالبات کی حمایت میں احتجاجی مظاہرہ کریں گے۔ بی ایس این ایل ملازمین کی تنظیم کے جنرل سکریٹری پی ابھیمنیو نے بتایا کہ پہلے انھیں کہا گیا تھا کہ ستمبر کے پہلے ہفتہ میں ان کی تنخواہ آ جائے گی، لیکن اکتوبر کے 10 دن گزر جانے کے بعد کہا جا رہا ہے کہ اب ان کی تنخواہ تیسرے ہفتہ میں دیوالی سے پہلے ہی آ پائے گی۔ انھوں نے بتایا کہ یہ لگاتار تیسرا مہینہ ہے جب ان کی تنخواہ میں تاخیر ہوئی ہے۔

میڈیا میں بی ایس این ایل کے بند ہونے کی خبروں کو خارج کرتے ہوئے ملازمین نے کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ ایسی فرضی خبریں بی ایس این ایل اور ایم ٹی این ایل کو بدنام کرنے اور اس کے صارفین پر قبضہ جمانے کی فراق میں لگے نجی کاروباری گھرانوں کی طرف سے پھیلائی جا رہی ہے۔ ابھیمنیو نے بتایا کہ موجودہ وقت میں جب زیادہ تر ٹیلی مواصلات کمپنیوں کے صارفین کم ہو رہے ہیں، ویسے میں بی ایس این ایل ملازمین نے تنہا ستمبر میں 13.5 لاکھ نئے صارفین کو کمپنی سے جوڑا ہے۔

بی ایس این ایل ملازم لیڈر نے الزام لگایا کہ کمپنی کو بند کرنے کا فیصلہ کوئی نہیں لے سکتا، لیکن وزارت مالیات میں بیٹھے کچھ نوکرشاہ سرکاری کمپنی کو بند کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آج کمپنی حکومت کے فیصلوں کی وجہ سے ہی اس حالت میں ہے۔ ملازم لیڈر ابھیمنیو نے مزید کہا کہ ’’چونکہ یہ حکومت کی ملکیت والی کمپنی ہے، اس لیے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت ہمیں 4جی اسپیکٹرم الاٹ کرے۔ اس کی لاگت 16 ہزار کروڑ روپے ہوگی اور اس کے بدلے میں حکومت کو مقررہ پونجی میں اضافہ کرنا چاہیے۔‘‘ ملازمین اور یونین لیڈروں نے حکومت اور بی ایس این ایل کے سی ایم ڈی پُروار سے اس خبر کی مذمت کرنے کے لیے کہا ہے۔

Published: 10 Oct 2019, 7:42 PM