فون ٹیپنگ معاملہ: بی آر ایس کے کارگزار صدر کے ٹی راماراؤ ایس آئی ٹی کے سامنے پیش
فون ٹیپنگ کیس میں بی آر ایس کے کارگزار صدر کے ٹی راماراؤ حیدرآباد میں ایس آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے۔ پولیس نے سخت سکیورٹی رکھی، کارکنان نے حمایت میں مظاہرہ کیا اور جانچ بدستور جاری ہے

حیدرآباد: بھارت راشٹر سمیتی (بی آر ایس) کے کارگزار صدر کے ٹی راماراؤ جمعہ کے روز فون ٹیپنگ معاملے کی جانچ کر رہی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے۔ وہ صبح تقریباً 11 بجے سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان جوبلی ہلز پولیس اسٹیشن پہنچے، جہاں افسران نے ان سے طویل پوچھ گچھ کی۔ اس سے ایک دن قبل اسسٹنٹ پولیس کمشنر پی وینکٹگیری نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 160 کے تحت نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں ذاتی طور پر پیش ہونے کی ہدایت دی تھی۔ نوٹس میں کہا گیا تھا کہ تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ کے ٹی راماراؤ معاملے کے حقائق اور حالات سے واقف ہیں، اس لیے ان کی براہ راست پوچھ گچھ ضروری ہے۔
پولیس اسٹیشن روانگی سے قبل کے ٹی راماراؤ پارٹی کے ہیڈکوارٹر تلنگانہ بھون پہنچے، جہاں بڑی تعداد میں بی آر ایس کارکنان ان کی حمایت میں جمع ہوئے۔ اس دوران تلنگانہ بھون کے باہر ماحول کچھ دیر کے لیے کشیدہ رہا اور بعض کارکنان کی پولیس اہلکاروں سے نوک جھونک بھی ہوئی۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ پولیس نے حد سے زیادہ سختی دکھائی، جس کے خلاف کارکنان نے نعرے بازی کی۔
بی آر ایس کے سینئر رہنما اور سابق وزیر ٹی ہریش راؤ سمیت دیگر پارٹی قائدین بھی کے ٹی راماراؤ کے ساتھ جوبلی ہلز پولیس اسٹیشن گئے۔ پولیس نے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے اسٹیشن کے اطراف کڑی نگرانی رکھی اور کارکنان کو قریب آنے سے روکنے کے لیے بیریکیڈس نصب کیے گئے۔
کے ٹی راماراؤ کو یہ نوٹس ایس آئی ٹی کی جانب سے ہریش راؤ سے پوچھ گچھ کے دو دن بعد جاری کیا گیا تھا۔ فون ٹیپنگ کا یہ معاملہ مارچ 2024 میں منظر عام پر آیا تھا، جس میں الزام ہے کہ بی آر ایس حکومت کے سابق دور میں سیاسی مخالفین، تاجر، صحافی حتیٰ کہ ججوں کے فون بھی غیر قانونی طور پر ٹیپ کیے گئے۔ اس معاملے میں پہلے ہی بی آر ایس کے ایم ایل سی کے نوین راؤ اور سابق ارکان اسمبلی جے پال یادو اور سی لنگیا سے پوچھ گچھ ہو چکی ہے۔
ایس آئی ٹی نے اس کیس میں کئی سیاسی رہنماؤں کو گواہ یا متاثرہ فریق کے طور پر بھی طلب کیا، جن میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ بندی سنجے، بی جے پی کے اراکین پارلیمنٹ اٹالا راجیندر اور ایم رگھونندن راؤ، تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر بی مہیش کمار گوڑ اور وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کے قریبی رشتہ دار کونڈل ریڈی شامل ہیں۔ اس سلسلے میں پنجہ گٹہ پولیس اسٹیشن میں تعزیرات ہند، عوامی املاک کو نقصان سے بچاؤ کے قانون اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے اور جانچ جاری ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔