بامبے ہائی کورٹ میں ہڑتال کر رہے ڈاکٹروں کی سخت سرزنش، ڈیوٹی پر لوٹنے کا حکم
بامبے ہائی کورٹ نے مہاراشٹر میں ہڑتالی ڈاکٹروں کو فوری طور پر کام پر واپس آنے کا حکم دیتے ہوئے خبردار کیا کہ انکار کی صورت میں تنخواہ روکی جا سکتی ہے۔ عدالت نے مریضوں کی جانوں کو اولین ترجیح قرار دیا
ممبئی: بامبے ہائی کورٹ نے مہاراشٹر میں ہڑتال پر بیٹھے ریزیڈنٹ ڈاکٹروں کے معاملے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے انہیں سخت سرزنش کی ہے اور فوری طور پر اپنی خدمات بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر ڈاکٹر کام پر واپس آنے سے انکار کرتے ہیں تو ان کی تنخواہیں روکی جا سکتی ہیں۔ عدالت نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ اگر ہڑتال کے دوران میونسپل اسپتالوں میں کسی مریض کی جان چلی جاتی ہے تو اس کی ذمہ داری کون قبول کرے گا۔
مہاراشٹر میں ڈاکٹر ریاستی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں جس کے تحت ہومیوپیتھی ڈاکٹروں کو سرٹیفکیٹ کورس اِن ماڈرن فارماکولوجی (سی سی ایم پی) کے ذریعے ایلوپیتھک ادویات تجویز کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن (آئی ایم اے) اور ریزیڈنٹ ڈاکٹروں کا موقف ہے کہ مختصر تربیتی کورس کی بنیاد پر ہومیوپیتھی ڈاکٹروں کو ایلوپیتھی کی مشق کا اختیار دینا مریضوں کی سلامتی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
سماعت کے دوران آئی ایم اے کے وکیلوں نے عدالت کو بتایا کہ ہومیوپیتھی ڈاکٹروں کو ایلوپیتھی پریکٹس کی اجازت دینے کے حکومتی فیصلے کے خلاف ان کی درخواست گزشتہ 12 برس سے زیر التوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی حکومت نے 3 اگست کو ایک نئی کمیٹی تشکیل دی، لیکن کمیٹی کی کارروائی مکمل ہونے سے پہلے ہی رجسٹریشن کا عمل شروع کر دیا گیا، جس پر انہیں شدید اعتراض ہے۔
عدالت نے اس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر بعد میں ڈاکٹروں کی درخواست منظور بھی ہو جائے، لیکن ہڑتال کے دوران درجنوں مریض جان کی بازی ہار جائیں، تو ان اموات کی ذمہ داری کون لے گا؟ ہائی کورٹ نے زور دیا کہ عوام کی جانوں کا تحفظ سب سے اہم ہے، اس لیے ڈاکٹروں کو فوری طور پر ہڑتال ختم کرکے اپنی ذمہ داریاں سنبھالنی چاہئیں۔ عدالت نے متنبہ کیا کہ اگر حکم پر عمل نہ ہوا تو تنخواہیں روکنے کا حکم جاری کیا جا سکتا ہے۔
ہائی کورٹ نے ہڑتالی ڈاکٹروں کو ہدایت دی کہ وہ دوپہر کے کھانے کے وقفے کے بعد ہی اپنے اپنے اسپتالوں میں واپس جا کر خدمات انجام دیں۔ عدالت نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ وہ احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کے تمام قانونی اور آئینی نکات کو تفصیل سے سنے گی اور ان کی عرضی پر قانون کے مطابق فیصلہ کرے گی۔
ادھر، مہاراشٹر ایسوسی ایشن آف ریزیڈنٹ ڈاکٹرس (ایم اے آر ڈی) اور آئی ایم اے کی قیادت میں بڑی تعداد میں ڈاکٹر ممبئی کے آزاد میدان میں جمع ہوئے اور ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا کر ’نو سی سی ایم پی‘ کے نعرے لگائے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ حکومت ہومیوپیتھی ڈاکٹروں کو ایلوپیتھک ادویات تجویز کرنے کی اجازت دینے والا فیصلہ فوری طور پر واپس لے۔
احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ محض 90 روزہ کورس کے ذریعے ہومیوپیتھی ڈاکٹروں کو ایم بی بی ایس یا ایم ڈی ڈاکٹروں کے مساوی اختیارات دینا نہ صرف طبی معیار کو متاثر کرے گا بلکہ مریضوں کی جان اور صحت کو بھی سنگین خطرات سے دوچار کر سکتا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت اس فیصلے پر ازسرنو غور کرے اور ماہرین کی رائے کی روشنی میں مناسب اقدام کرے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
