عصمت دری معاملہ میں سینئر صحافی ترون تیج پال قصوروار قرار، بامبے ہائی کورٹ نے بری کیے جانے کے فیصلہ کو پلٹا
جسٹس نیلا گوکھلے اور جسٹس امت جمسنڈیکر کی ڈویژنل بنچ نے ترون تیج پال کو بری کیے جانے سے متعلق فیصلے کو پلٹ دیا۔ جب یہ فیصلہ سنایا گیا تو ترون تیج پال عدالت میں موجود تھے۔

بامبے ہائی کورٹ کی گوا بنچ نے 2013 کے عصمت دری معاملہ میں ’تہلکہ‘ کے سابق مدیر ترون تیج پال کو شدید جھٹکا دیا ہے۔ عدالت نے ٹرائل کورٹ کے ذریعہ بری کیے جانے کے فیصلہ کو پلٹ دیا ہے۔ ہائی کورٹ نے گوا حکومت کی اپیل کو منظور کرتے ہوئے تیج پال کو قصوروار ٹھہرایا ہے۔ اب عدالت ان کی سزا سے متعلق الگ سے سماعت کرے گی۔ ’لائیو لاء‘ پر شائع رپورٹ کے مطابق سزا تعین کرنے کے لیے معاملے کی سماعت آج دوپہر 2:30 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔
جسٹس نیلا گوکھلے اور جسٹس امت جمسنڈیکر پر مشتمل ڈویژنل بنچ نے ترون تیج پال کو بری کیے جانے سے متعلق ماپوسا کی سیشن عدالت کے اس فیصلہ کو کالعدم قرار دے دیا، جس میں ترون تیج پال کو نومبر 2013 میں ان کی ایک جونیئر خاتون ساتھی کی جانب سے درج کرائے گئے عصمت دری کے مقدمہ میں بری کر دیا گیا تھا۔ جب یہ فیصلہ سنایا گیا تو ترون تیج پال عدالت میں موجود تھے۔ بنچ نے انہیں تعزیرات ہند کی دفعات (F)(2)376 اور (K)(2)376 اور 354 اے اور 354 بی کے تحت عصمت دری اور جنسی ہراسانی کے جرائم کا مجرم ٹھہرایا۔
فیصلہ سنائے جانے کے بعد سینئر وکیل آباد پونڈا نے بنچ سے درخواست کی کہ سزا سناتے وقت ان کے مؤکل کے ساتھ نرمی برتی جائے، کیونکہ مبینہ جرم کو کم از کم 13 سال گزر چکے ہیں۔ انہوں نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے لیے سزا سے متعلق فیصلے پر کم از کم 8 ہفتوں کی روک لگانے کی بھی درخواست کی، یہ کہتے ہوئے کہ یہ بری کیے جانے کے فیصلے کو پلٹنے کا معاملہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ترون تیج پال کے خلاف اس کے علاوہ کوئی اور مقدمہ یا ایف آئی آر درج نہیں ہے۔
فیصلہ سنائے جانے کے وقت ترون تیج پال عدالت میں موجود تھے، کیونکہ بنچ نے فیصلہ محفوظ کرتے وقت انہیں حکم دیا تھا کہ وہ فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر عدالت میں حاضر رہیں۔ اس موقع پر ترون تیج پال نے بھی بنچ سے خطاب کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’میری عمر 62 سال ہے، اور میرا ماننا ہے کہ میں بھی ایک متاثرہ شخص ہوں۔ میری ایک بیوی ہے، اور اس سے زیادہ کہنے کو کچھ نہیں۔ میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ ہم اپیل کر سکتے ہیں۔ براہ کرم میرے ساتھ نرمی برتیں۔ باقی تمام حقائق عدالتی ریکارڈ پر موجود ہیں۔‘‘
ریاست کی جانب سے پیش ہوئے ہندوستان کے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے نرمی کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ’’متاثرہ لڑکی ان کی بیٹی کی عمر کی تھی، اس کے باوجود انہوں نے جرم کیا... وہ باپ جیسی حیثیت رکھتے تھے، انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا... ایک مثال قائم ہونی چاہیے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’متاثرہ نے انکار کیا، لیکن اس کے باوجود وہ اگلے 2 دن تک اس کے قریب آنے کی کوشش کرتے رہے... اس عدالت کو سماج کے لیے واضح پیغام دینا چاہیے کہ جب کوئی لڑکی ’نہیں‘ کہتی ہے تو اس کا مطلب ’نہیں‘ ہی ہوتا ہے۔ ’نہیں‘ کا مطلب ’نہیں‘ ہے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
