مدھیہ پردیش: دھمکی والے ای-میل سے بھوپال کے اسکولوں میں کھلبلی

بھوپال کے کئی اسکولوں کو جمعہ کے روز فرضی آئی ڈی سے دھمکی والے ای-میل ملے، جس سے طلبا اور اسکول انتظامیہ کئی گھنٹوں تک دہشت کے ماحول میں رہے۔

علامتی تصویر، یو این آئی
علامتی تصویر، یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

بھوپال کے کئی اسکولوں کو جمعہ کے روز فرضی آئی ڈی سے دھمکی آمیز ای-میل ملے جس سے طلبا اور اسکول انتظامیہ کئی گھنٹوں تک دہشت میں رہے۔ حالانکہ ریاستی پولیس کے ذریعہ گھنٹوں تلاشی کے بعد بھی کوئی مشتبہ سامان برآمد نہیں ہوا۔ دھمکی بھرے ای-میل وصول کرنے والے بیشتر اسکول سی بی ایس ای کے تحت آتے ہیں، جہاں درجہ 12 کے طالب علم جمعہ کو اپنا آخری امتحان دے رہے تھے۔

اسکول کے افسران کے ذریعہ وصول ای میل میں لکھا تھا ’’تمھارے اسکول میں دو طاقتور بم ہیں، فوراً پولیس کو بلاؤ... یہ مذاق نہیں ہے، دہراتا ہوں، یہ مذاق نہیں ہے۔ سینکڑوں زندگیاں موت کے منھ میں ہیں، جلدی سے کام کرو، کیونکہ اب بھی وقت ہے ورنہ سب ختم ہو سکتا ہے۔ یہ مت کہنا کہ آپ کو متنبہ نہیں کیا گیا تھا۔ اب سب کچھ صرف آپ پر منحصر کرتا ہے۔‘‘


ای-میل ملنے کے فوراً بعد اسکول انتظامیہ کے ذمہ داران نے پولیس کو خبر دی اور فوری تلاشی مہم کی اپیل بھی کی۔ ایک اسکول کے پرنسپل نے ٹی ٹی نگر پولیس اسٹیشن کو لکھا ’’ہمیں کچھ وقفہ کے دورانیہ میں تقریباً 50 دھمکی آمیز ای-میل ملے، جس میں کہا گیا ہے کہ ہمارے اسکول میں دو طاقتور بم ہیں۔ ہمارے اسکول میں درجہ 12 کے طلبا کا آخری امتحان چل رہا ہے، اس لیے آپ سے گزارش ہے کہ برائے کرم جلد از جلد ضروری کارروائی کریں۔‘‘

پولیس نے فوراً کارروائی کرتے ہوئے اسکولوں میں بم ڈٹیکشن اور ڈسپوزل اسکواڈ کے ساتھ تلاشی مہم شروع کی۔ حالانکہ کوئی قابل اعتراض شئے برآمد نہیں ہوا۔ بعد میں پولیس کمشنر مکرند دیوسکر نے میڈیا کو بتایا کہ یہ ایک نقلی بم کی دھمکی تھی اور تلاشی مہم کے دوران کچھ بھی برآمد نہیں ہوا ہے۔ دیوسکر نے کہا کہ ’’سائبر پولیس اسکولوں کو ای-میل بھیجنے والے شخص کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔ جو کوئی بھی دہشت پیدا کرنے میں شامل پایا جائے گا، اسے قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔