جارج فرنانڈیز کی آخری رسومات کل، نذر آتش بھی ہوں گے اور دفن بھی!

جارج فرنانڈیز ایک عیسائی عقائد کو ماننے والے خاندان میں پیدا ہوئے تھے لیکن ان کی آخری رسومات عیسائی مذہب کے مطابق ادا کرنے سے قبل انہیں ہندو روایت کے مطابق انہیں پہلے نذر آتش کیا جائے گا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: سابق وزیر دفاع اور سوشلسٹ لیڈر جارج فرنانڈیز کا انتقال ہوگیا، وہ 88 سال کے تھے اور کافی وقت سے علیل چل رہے تھے۔ انہوں نے دہلی کے میکس اسپتال میں آخری سانس لی۔ ان کے انتقال پر مختلف سیاسی رہنماؤں نے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ بدھ یعنی 30 جنوری کو ان کی آخری رسومات ادا ہوں گی۔

یوں تو جارج فرنانڈیز ایک عیسائی عقائد کو ماننے والے خاندان میں پیدا ہوئے تھے لیکن ان کی آخری رسومات عیسائی مذہب کے مطابق ادا کرنے سے قبل انہیں ہندو روایت کے مطابق پہلے نذر آتش کیا جائے گا۔ ان کی بیوی جیا جیٹلی نے اعلان کیا ہے کہ جارج فرنانڈیز کو پہلے ہندو مذہبی عقائد کے مطابق ان کی چتا کو جلایا جائے گا اور اس کے بعد ان کی استھیوں کو دفن کر دیا جائے گا۔ جیا جیٹلی کا کہنا ہے کہ ایسا ان کی آخری خواہش کے مطابق ہی کیا جا رہا ہے۔

سماجی کارکن اور سمتا پارٹی کی سربراہ رہ چکیں جیا جیٹلی نے کہا ’’انہوں نے (جارج فرنانڈیز) نے پہلے ان کی چتا (لاش) کو جلائے جانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا لیکن اپنی زندگی کے آخری دنوں میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی لاش کو دفن کیا جائے۔ لہذا ہم ان کی دونوں خواہشات کو پورا کریں گے۔ پہلے ان کے جسد خاکی کو نذر آتش کیا جائے گا اور پھر ان کی باقیات کو دفن کیا جائے گا۔‘‘

واضح رہے کہ فرنانڈیز سب سے پہلے 1967 میں لوک سبھا کے لئے منتخب ہوئے تھے۔ انہوں نے بہار کے مظفر پور اور نالندہ لوک سبھا نشستوں کی نمائندگی کی تھی۔ وہ مرکزی کابینہ میں کئی بار رکن رہے۔ انہوں نے مواصلات، صنعت، ریلوے اور دفاع کے وزیر کے طور پر کام کیا۔

منگلورو میں پلے بڑھے فرنانڈیز کو 16 سال کی عمر میں پادری بننے کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے ایک عیسائی مشنری میں بھیجا گیا تھا لیکن چرچ کے کام کاج کو دیکھ کر ان کا ذہن اس کے خلاف ہو گیا اور 18 سال کی عمر میں وہ چرچ چھوڑ کر روزگار کی تلاش میں ممبئی چلے گئے۔ فرنانڈیز 1950 میں ٹیکسی ڈرائیور یونین کے بڑے رہنما بن گئے تھے۔ وزیر کی حیثیت سے بھی ان کی کارکردگی بہت نمایاں رہی اور اقتدار میں آنے سے پہلے وہ ہمیشہ بر سر اقتدار جماعت کے خلاف لڑتے رہے اور فرقہ پرست قووتوں کے خلاف بھی آواز اٹھاتے رہے لیکن بعد میں انہوں نے اپنے اصولوں سے سمجھوتہ کر کے بی جے پی کی قیادت والی حکومت میں وزیر بننا قبول کر لیا۔