بی جے پی کی جملے بازی بہت زیادہ دیر نہیں چلنے والی: نیشنل کانفرنس

ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال نے کہا کہ مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتندر سنگھ نے پریس کانفرنس میں جموں وکشمیر میں جمہوریت بحال کرنے کا دعویٰ کرکے اپنی جگ ہنسائی کروائی ہے۔

جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس لیڈر ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال
جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس لیڈر ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال
user

یو این آئی

سری نگر: نیشنل کانفرنس نے وزیر اعظم دفتر میں وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ کی طرف سے اٹانومی اور سیلف رول کے ریمارکس کو جموں وکشمیر کے لوگوں کی پریشانیوں کا مذاق اڑانے اور ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کے تینوں خطوں کی شناخت، پہچان، علاقائی سالمیت اور جمہوریت پر حکمران بی جے پی نے ڈاکہ زنی کی ہے اور تینوں خطوں کے عوام میں اس کے خلاف غم و غصہ پایا جارہا ہے۔

پارٹی کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال نے کہا کہ مرکزی وزیر نے پریس کانفرنس میں جموں وکشمیر میں جمہوریت بحال کرنے کا دعویٰ کرکے اپنی جگ ہنسائی کروائی ہے۔ دفعہ 370 اور 35 اے کو یکطرفہ، غیر آئینی اور غیر جمہوری طور پر منسوخ کر کے بی جے پی نے 5 اگست 2019 کو ہی جموں وکشمیر میں جمہوریت کا جنازہ نکالا ہے۔ تب سے لیکر آج تک یہاں تاناشاہی پر مبنی راج قائم ہے۔


ڈاکٹر کمال نے مرکزی وزیر کے دعوﺅں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے جان بوجھ کر ایک تاریخی ریاست، جس کا اپنا پرچم اور آئین تھا، کا درجہ کم کر کے مرکزی زیر انتظام علاقہ بنا ڈالا اور یہاں کے عوام کے حقوق سلب کئے۔ جتندر سنگھ جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق چھیننے کو کس اٹانومی اور سیلف رول سے موازانہ کررہے ہیں؟ جموں وکشمیر کو ملک کی سب سے مضبوط مقننہ کا اعزاز حاصل تھا، جس نے تاریخی زرعی اصلاحات جیسے اقدامات کر کے جموں و کشمیر کے عوام کی تقدیر بدل ڈالی اور بی جے پی نے اس کی تنزلہ لا کر اسے ملک کی سب سے کمزور ترین لیجسلیچر بنا ڈالی۔ ایک مرکزی وزیر کے سامنے اگر یہی اٹانومی اور خودحکمرانی ہے تو ملک کے لئے اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہوسکتی ہے۔

ڈاکٹر کمال نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام کو حکومت اور انتظامیہ کے ہر سطح پر الگ کر دیا گیا ہے اور خاص طور پر کشمیریوں نے گذشتہ سال 5 اگست کو نئی دہلی کے اقدامات کا سب سے بڑا خمیازہ اٹھایا ہے۔ مشکل سے ہی کوئی کشمیری کسی بڑے عہدے پر فائز ہے۔ انتظامیہ، سول سروسز اور پولیس کے اعلیٰ اور کلیدی عہدوں پر کشمیریوں کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ کیا جتیندر سنگھ اسی کو اٹانومی اور خود حکمرانی کہہ رہے ہیں کہ باہری ریاستوں سے ایسے لوگ آکر یہاں نظام چلائیں گے جن کو یہاں کی زمینی صورتحال کا ذرا برابر بھی علم نہیں۔


ڈاکٹر کمال نے الزام لگایا کہ بی جے پی ہر سطح پر ناکام ہوگئی ہے اور جموں اور لداخ میں بھی بی جے پی کو منہ کی کھانی پڑ رہی ہے اور ہر طبقے، علاقے اور مذہب سے تعلق رکھنے والوں نے بی جے پی کے اقدامات کو مسترد کیا ہے اورآج بھی اس کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔

نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی اور اس کے لیڈران جملے بازی میں مشہور ہیں جبکہ زمینی سطح پر یہ عوام کو راحت پہنانے میں ناکام ہوگئے ہیں۔ کشمیر تو دور کی بات شری جتیندر سنگھ جی 2015 کے بعد سے آج تک جموں اور لداخ میں ہوئی تعمیر و ترقی کا خلاصہ کر کے دکھائیں۔ ان لوگوں نے حکومت میں آکر صرف مذہبی انتشار اور خلفشار پھیلایا جبکہ زمینی سطح پر کوئی بھی کارکردگی دکھانے میں ناکام ہے۔ جتندر سنگھ اور بی جے پی کے دیگر لیڈران زیادہ دیر تک لوگوں کو صرف زبانی جمع خرچ سے نہیں بہلا سکتے۔ ان کو عوام کے سامنے جواب دینا ہوگا اور عوام انہیں اپنی طاقت کے ذریعے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مسترد کر کے رکھ دیں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔