’بی جے پی کے پاس بے روزگاری کا جواب لاٹھی‘، بہار میں ’ٹی آر ای 4.0‘ کے امیدواروں پر لاٹھی چارج سے راہل گاندھی ناراض

راہل گاندھی نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’ہندوستان میں آج سب سے بڑی بیماری بے روزگاری ہے اور اس کی سب سے شدید مار بہار اور اتر پردیش کے نوجوانوں پر پڑ رہی ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی، تصویر بشکریہ&nbsp;<a href="https://x.com/INCIndia">@INCIndia</a></p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

بہار کی راجدھانی پٹنہ میں بی پی ایس سی اساتذہ بھرتی (ٹی آر ای 4.0) کو لے کر جمعہ (8 مئی) کو ہزاروں امیدواروں نے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا۔ بھرتی عمل جلد شروع کرنے کا مطالبہ لے کر سڑکوں پر اترے امیدواروں پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا، جس سے موقع پر بھگدڑ مچ گئی اور کئی امیدوار ایک دوسرے کے اوپر گر پڑے۔ پولیس کی کارروائی میں کئی امیدوار زخمی بھی ہوئے تھے۔ اس واقعہ پر لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک ویڈیو پوسٹ کی، جس میں پولیس امیدواروں پر لاٹھی چارج کرتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’پٹنہ میں کل اپنے روزگار کا حق مانگتے ہوئے پرامن مظاہرہ کر رہے اساتذہ امیدواروں کو بہار پولیس نے بے رحمی سے مارا – پھر سے۔ بے روزگار نوجوانوں کو بی جے پی کا جواب – لاٹھی۔‘‘ راہل گاندھی کے مطابق ہندوستان میں آج سب سے بڑی بیماری بے روزگاری ہے اور اس کی سب سے شدید مار بہار اور اتر پردیش کے نوجوانوں پر پڑ رہی ہے۔


اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں راہل گاندھی مزید لکھتے ہیں کہ ’’لاکھوں نوجوان ڈگری اور قابلیت ہاتھ میں لے کر در در بھٹک رہے ہیں۔ لیکن بی جے پی کی حکومت کو نہ ان کی پرواہ ہے اور نہ آپ کی۔ جب نوجوان سڑکوں پر اتر کر اپنا حق مانگتے ہیں، تو ان کے ہاتھ میں روزگار نہیں بلکہ پیٹھ پر لاٹھیاں رکھ دی جاتی ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’ہندوستان کا نوجوان بی جے پی کے جھوٹ سے تنگ آ چکا ہے، وہ اب خاموش نہیں بیٹھے گا اور کانگریس ہر موڑ پر ان کے ساتھ کھڑی ہے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ کل ہوئے احتجاج کے بعد آج پولیس طلبہ لیڈر دلیپ کمار کو رسی سے باندھ کر جیل لے گئی ہے۔ گاندھی میدان کے تھانہ انچارج اکھلیش مشرا نے بتایا کہ احتجاج کے سلسلے میں پولیس نے 4 افراد کو گرفتار کیا ہے، جن پر بھیڑ کو اکسانے کا الزام ہے۔ ان کے مطابق 5000 لوگوں پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ اس سے قبل پولیس طلبہ لیڈر کو گردنی باغ اسپتال لے کر پہنچی، جہاں ان کا میڈیکل کرایا گیا۔ اس دوران انہوں نے بتایا کہ ہم لوگوں نے صرف نوکری مانگی تھی، یہ ہمیں جیل بھیج رہے ہیں۔ واضح رہے کہ گاندھی میدان تھانہ میں پولیس نے مجسٹریٹ کے بیان کی بنیاد پر امیدواروں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ احتجاج کر رہے امیدواروں کے خلاف ٹریفک میں رکاوٹ ڈالنے، لا اینڈ آرڈر کی صورتحال بگاڑنے اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ بدسلوکی کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔