پی این بی فراڈ سے توجہ ہٹانے کے لیے چیف سکریٹری معاملہ کو طول دیا گیا: شتروگھن

کانگریس لیڈر اجے ماکن نے بھی اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ عآپ نے منصوبہ بند طریقے سے چیف سکریٹری پر حملہ کر کے نیرو مودی سے لوگوں کی توجہ ہٹائی اور بی جے پی کو فائدہ پہنچایا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

بی جے پی کے سینئر اور بے باک لیڈر شتروگھن سنہا نے چیف سکریٹری کے ساتھ بدسلوکی معاملہ اور پی این بی فراڈ کے معاملہ پر ایک ایسا بیان دیا ہے جس سے مودی بریگیڈ کٹہرے میں کھڑی ہو گئی ہے۔ انھوں نے آج ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ پی این بی فراڈ سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے چیف سکریٹری کے ساتھ بدسلوکی کے معاملے کو طول دیا گیا ہے۔ حالانکہ اس ٹوئٹ میں انھوں نے کہیں بھی بی جے پی کا نام نہیں لیا ہے لیکن اس کی طرف واضح اشارہ ہے۔

اپنے ٹوئٹ میں عآپ ممبران اسمبلی کے ذریعہ چیف سکریٹری کی پٹائی کا تذکرہ کرتے ہوئے انھوں نے لکھا ہے کہ ’’چیف سکریٹری نے آپ ممبران اسمبلی پر حملے کا الزام عائد کیا۔ یہ پورا شور شرابہ پی این بی فراڈ اور نیرو مودی کے ملک چھوڑ کر بھاگ جانے کے معاملے سے عوام کی توجہ بھٹکانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید لکھا ہے کہ ’’میری نظر میں دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال ایک بہترین اور ایماندار انسان ہیں۔‘‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ آج ہی شتروگھن سنہا نے ایک دوسرا ٹوئٹ کیا جس میں انھوں نے براہ راست وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بنایا۔ انھوں نے اس ٹوئٹ میں لکھا کہ ’’مودی جی نے ایک ریلی میں کہا تھا کہ ’میں تو فقیر ہوں جھولا اٹھا کر چل دوں گا‘... بھائیو تین مودی جا چکے ہیں 1. للت، 2. جتن، 3. نیرو... چوتھے کا جھولا چھپا دینا چاہیے۔ بہت سینٹی مینٹل آدمی ہیں۔‘‘

دوسری طرف دہلی پردیس کانگریس کے صدر اجے ماکن نے بھی عآپ ممبران اسمبلی اور چیف سکریٹری انشو پرکاش معاملہ کو منصوبہ بند قرار دیتے ہوئے اسے پی این بی مہاگھوٹالہ کو دبانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ انھوں نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’ عآپ کی آسان اسٹریٹجی رہی ہےکہ دہلی چیف سکریٹری کو 12 بجے رات میں بلاؤ، ممبران اسمبلی کے ذریعہ ان پر حملہ کراؤ اور نیرو معاملے سے لوگوں کی توجہ ہٹا کر بی جے پی کی مدد کی جائے۔‘‘ یہ لکھنے کے بعد انھوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کے ایک ایک اشتہار کو دکھایا ہے جس میں بھیڑ کی تصویر ہے اور دونوں ہی اشتہار میں ایک ہی بھیڑ نظر آ رہی ہے۔ اس سے متعلق انھوں نے لکھا ہے کہ ’’بی جے پی اور عآپ کے اشتہار میں بھیڑ/حامیوں کی تصویر ایک ہی بھیڑ کی نظر آ رہی ہے۔ کیا یہ صرف ایک اتفاق ہے؟‘‘

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ روز کانگریس لیڈر منیش تیواری نے بھی ایک پریس کانفرنس میں اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ پی این بی جیسے بڑے گھوٹالہ سے لوگوں کا ذہن دوسری طرف مبذول کرنے کی کوشش میں چیف سکریٹری کے ساتھ بدسلوکی کے معاملے کو طول دیا گیا ہے۔

next