سال 2018 : بی جے پی نے ’ترقی‘ کا مکھوٹا اتار کر پھرپہنا ’ہندوتوا‘ کا چولہ

سال 2018 ملک کی سیاست میں 2014 کے بعد کا سب سے اہم سال رہا۔ اسے سمجھنے کے لیے ہمیں گزشتہ چار سالوں پر نظر ڈالنی ہوگی اور دیکھنا ہوگا کہ اس کے کیا معنی ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

آکار پٹیل

بی جے پی نے 2014 میں اکثریت حاصل کی تھی۔ 85-1984 میں راجیو گاندھی کی لہر کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ کسی پارٹی کو مکمل اکثریت حاصل ہوئی ہو۔ ہاں، یہ ٹھیک ہے کہ بی جے پی نے اپنے ہی دم پر اکثریت حاصل کر لی تھی، پھر بھی اس نے اپنے ساتھ درجن بھر چھوٹی پارٹیوں کو ملایا تھا تاکہ اس کی حکومت کو کوئی چیلنج پیش نہ کر سکے۔ خود کی اکثریت ہونے کا مطلب ہے کہ ساتھی پارٹیاں اس طرح سے اس پر دباؤ نہیں بنا سکتیں جیسا کہ منموہن سنگھ حکومت کے دور میں ہوا۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ بہت ہی ایماندار وزیر اعظم رہے، لیکن اکثریت نہ ہونے کی مجبوری کے سبب کئی بار انھیں ساتھی پارٹیوں کی بات ماننی پڑی۔

بی جے پی حصے میں 282 سیٹیں آئی تھیں، اس کا مطلب یہ تھا کہ نئے وزیر اعظم کو ایسے کسی دباؤ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ ساتھ ہی ساتھی پارٹیوں کی 50 سے زیادہ سیٹوں سے یہ بھی یقینی ہو گیا کہ اگر وزیر اعظم اور ان کے داہنے ہاتھ گجرات کے ساتھی امت شاہ کے خلاف کوئی اندرونی بغاوت ہوتی بھی ہے تو اس کا حکومت پر اثر نہیں پڑے گا۔

آج کی تاریخ میں گجرات گینگ ہی ڈنڈے کے زور پر پارٹی چلاتا ہے اور اگر کسی بی جے پی لیڈر اور کارکن کو مودی-شاہ کی تاناشاہی سے اعتراض ہے تو انھیں اپنی بات کہنے کا موقع تک نہیں ملتا۔ اس کے علاوہ حکومت کے پاس پارٹی سے باہر کے ساتھیوں کی حمایت ہے تو حکومت کو کسی قسم کا خطرہ نہیں۔ اس طرح 2014 کے بعد سے چار سال تک مودی کے پاس اپنے ایجنڈے کو نافذ کرنے کی پوری آزادی تھی۔ آئیے غور کرتے ہیں ان کے ایجنڈے کے بارے میں اور اس تعلق سے کہ وہ ایجنڈے کو نافذ کرنے میں کتنے کامیاب ہوئے۔

موٹے طور پر دیکھیں تو بی جے پی کے تین طرح کے ووٹر تھے۔ ایک وہ تھے جو کسی خاص قسم کی ذات سے تعلق رکھتے تھے۔ مثال کے طور پر کرناٹک میں بی جے پی کی بنیاد لنگایت طبقہ ہے۔ اسی طرح گجرات میں پاٹیدار سماج بھی بی جے پی کا حامی مانا جاتا رہا۔ گجرات حکومت میں بھی پاٹیداروں کی بالادستی رہی۔

دوسرے قسم کے ووٹر وہ تھے جو بی جے پی اور اس کی آبائی تنظیم آر ایس ایس کے نظریہ سے متاثر تھے۔ سچائی یہ ہے کہ بی جے پی ملک کی تنہا فرقہ پرست پارٹی ہے۔ ایسے ووٹر جنتا دل، ترنمول، ڈی ایم کے، اے ڈی ایم کے، نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی، سی پی ایم، سماجوادی پارٹی، بی ایس پی کسی کے بھی ہو سکتے ہیں، لیکن بی جے پی کی ہندو واد یت سے متاثر ہو کر اسے ووٹ کرتے ہیں۔ لیکن اگر آپ مسجدیں توڑنے کے نظریہ کو پسند کرتے ہیں، 500 برس قبل ہوئے کسی تصوراتی جرم کے لیے ایک طبقہ کو ذمہ دار مانتے ہیں، یا لوگوں کے کھانے پینے کی عادتوں کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں، تو اس سب کے لیے صرف ایک ہی پارٹی ہے اور وہ ہے بی جے پی۔ اسی طرح آپ اگر ہندوتوا پرست ہیں تو آپ کے لیے صرف بی جے پی میں ہی جگہ ہے۔

اس کے علاوہ خاص طبقہ کی پارٹیاں بھی ملک میں ہیں۔ مثلاً اکالی دل، مسلم لیگ، تیلگو دیشم پارٹی یا ایم آئی ایم وغیرہ۔ یہ سبھی پارٹیاں صرف آپ کے نام کی پہچان کی بنیاد پر اپنی سیاست کرتی ہیں۔ لیکن ان میں سے کسی بھی پارٹی کا بی جے پی کی طرح تقسیم والا ایجنڈا نہیں ہے۔ یہ پارٹیاں کسی خاص ذات یا طبقہ پر حملہ نہیں کرتیں۔

تیسرے قسم کے ووٹر وہ ہیں جو متوسط طبقہ کے ہندو ہیں اور 2014 میں بی جے پی کی طرف متوجہ ہوئے تھے۔ ان لوگوں کو لگتا تھا کہ سیاست دانوں نے ملک پر قبضہ کر لیا ہے اور ملک کو پھر سے عظیم بنانے کے لیے ایک ایماندار اور سمجھدار شخص کی ضرورت ہے۔

لیکن 2018 کی شروعات اس احساس کے ساتھ ہوئی کہ جس شخص کو متوسط اور خاص طور سے مودی بھکتوں نے مسیحا سمجھ لیا تھا، وہ جھوٹا نکلا۔ سال کے شروع میں ہی اس طبقہ کو سمجھ آ گیا کہ یہ شخص ملک کو ترقی کی راہ پر لے کر جانے والا نہیں ہے۔ سال 2018 اس معنی میں بہت خاص ہے کیونکہ اس سال دو قسم کے ووٹروں نے بی جے پی اور مودی کی کارگزاریوں کے نتائج پر غور کرنا شروع کر دیا۔ یہ دونوں قسم کے ووٹر فرقہ پرست ذہنیت والے بھی تھے اور ترقی کے پیروکار بھی۔ مودی حکومت کا ایجنڈا یوں تو ترقی رہا، لیکن صرف ترقی کو ایجنڈا ماننا تھوڑا ناپختگی ہے کیونکہ ایسا کہا جانے لگا کہ مودی سے پہلے نہرو، اندرا، راجیو، منموہن سنگھ اور واجپئی حکومتوں نے جو کچھ کیا وہ ترقی تھا ہی نہیں۔ بتایا یہ گیا کہ ترقی تو صرف گجرات میں مودی نے ہی کی ہے اور صرف وہی ملک میں بھی ترقی کر سکتے ہیں۔

اور اب اس بات پر موٹے طور پر عام اتفاق ہے کہ مودی نہ صرف ترقیاتی کاموں میں ناکام ثابت ہوئے بلکہ ان کی ناسمجھی کے سبب معیشت کا برا حال ہو گیا۔ پوری دنیا میں ایک بھی ماہر معیشت ایسا نہیں ہے جس نے بے حد سختی کے ساتھ اور آدھی ادھوری تیاریوں کے ساتھ کی گئی نوٹ بندی کی حمایت کی ہو۔ اگر کوئی عدم اتفاق رہا ہے تو صرف اتنا کہ اس قدم سے معیشت کو کتنا نقصان ہوا۔ اگر گزشتہ چار سال میں سب سے بڑا کوئی ملک مخالف کام ہوا ہے تو وہ ہے نوٹ بندی۔

مودی حکومت کو دوسرا جھٹکا لگا ’مودی اسکیم‘ کے سامنے آنے سے۔ یعنی نیرو مودی جیسے گھوٹالہ باز سے۔ آخر ایک گجراتی کس طرح سرکاری بینک کے 12 ہزار کروڑ روپے لے کر بھاگ گیا؟ آخر سُشاسن کے دعوے اور وعدے کا کیا ہوا؟ دراصل یہ کُشاسن ثابت ہوا کیونکہ جن اداروں کو پنڈت نہرو اور ان کے بعد وزرائے اعظم نے سخت محنت اور لگن سے تیار کیا ان کے ساتھ کیا ہوا؟ آخر بدعنوانی ختم کرنے کے دعووں کا کیا ہوا؟ جن لوگوں نے سرکاری بینکوں کو چونا لگایا انھیں تو مودی انفرادی طور پر جانتے تھے۔ ایک ویڈیو سے تو یہ صاف بھی ہوا تھا۔

مودی نے تین خواب دکھائے تھے... بدعنوانی کا خاتمہ، بہتر نظام حکمرانی اور مضبوط اقتصادی ترقی۔ یہ تینوں خواب جملے ثابت ہوئے ہیں۔ 2018 میں ایک کے بعد ایک ایسے ثبوت سامنے آئے کہ ان تینوں محاذ پر مودی ناکام رہے۔ مودی پی ایم بننے سے پہلے منموہن سنگھ کو پٹرول کی قیمتوں اور روپے کی گراوٹ کا طعنہ دیتے رہے تھے، اور ان کے پسندیدہ نیوز چینلوں اور سوشل میڈیا نے اسے بڑھا چڑھا کر پیش بھی کیا تھا، ان کے بھکت بھی سُر میں سُر ملاتے نظر آئے تھے، لیکن یہ سب ان کے منھ پر ہی آن پڑا ہے۔

اس کے علاوہ اداروں کو کمزور کرنے کی باری آتی ہے۔ صرف مودی کو پسندیدہ نیوز چینلوں کو چھوڑ کر سبھی کو نظر آ رہا ہے کہ سی بی آئی میں کس طرح رشوت خوری کا بول بالا رہا اور کس طرح آر بی آئی کو کمزور کیا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دو اچھے آر بی آئی گورنر سے ہندوستان کو ہاتھ دھونا پڑا۔ تو کیا یہ حب الوطنی اور ترقی کے کام تھے؟

مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ کے انتخابی نتائج حیران نہیں کرتے ہیں، کیونکہ یہ تو ہونا ہی تھا۔ لیکن فکر کی بات یہ ہے کہ بی جے پی ان ریاستوں میں کانگریس کو سخت مقابلہ دینے میں کامیاب رہی۔ یعنی بی جے پی کا فرقہ پرست ووٹ بینک ہی ہے جو نہ صرف اس کے ساتھ اب بھی ہے بلکہ بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے باہر آ رہا ہے۔ سال 2018 یوں بھی اہمیت کا حامل ہے کہ راہل گاندھی نے اس تمغے کو اپنی شخصیت سے جھٹک دیا جو میڈیا ان پر تھوپتا رہا۔ اور اب راہل گاندھی کو نہ تو برسراقتدار بی جے پی اور نہ ہی مودی کے پسندیدہ چینل غیر اہم کہہ سکیں گے۔ راہل گاندھی خود کو 2019 کے لوک سبھا انتخاب کے عین موقع پر سیاست کے مرکز میں لے آئے ہیں۔

مودی کی ہر محاذ پر ناکامی کا مطلب ہے کہ بی جے پی اب اپنے فرقہ پرست ووٹروں پر فوکس کرے گی۔ 2018 کے دوران مندر میں خواتین کے داخلے، گئو رکشا کے نام پر بھیڑ کے تشدد وغیرہ ایشوز سرخیوں میں رہے اور ترقی کہیں پیچھے چلا گیا۔ اچھی بات یہ ہے کہ بی جے پی نے اپنے مودی کارڈ سے منھ موڑ لیا ہے اور اپنے انہی حقیقی اصولوں پر لوٹ آئی ہے جس کے لیے وہ جانی جاتی ہے، یعنی سیاسی فائدے کے لیے فرقہ پرست اور تقسیم کرنے والا ایجنڈا۔ واجپئی اور اڈوانی اس کا استعمال کرنا بخوبی جانتے تھے۔ لیکن بڑی بات یہ ہے کہ 2019 کی انتخابی تشہیر میں ہمیں ایک بہت ہی زہریلے ماحول سے دو چار ہونا پڑ سکتا ہے۔

کانگریس اور راہل گاندھی کو اس خطرے کو سمجھتے ہوئے اپنی پالیسی بنانی ہوگی۔ آخر ہندوستان کے انتخابات پر پوری دنیا کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔

امید کرتے ہیں کہ کم از کم 2019 کا سال تو اچھا گزرے۔

next