’بی جے پی کا دباؤ بڑھتا جا رہا، جبراً ہاتھ ملانے کے لیے سی بی آئی بھیج رہے‘، تمل سپراسٹار وجئے کی پارٹی کا بڑا بیان
تملگا ویتری کژگم کے جنرل سکریٹری ارون راج نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’آپ جانتے ہیں وجئے نے مملاپورم میں کیا کہا تھا۔ انھوں نے صاف کہا کہ فرقہ پرست طاقتوں کے ساتھ کوئی اتحاد نہیں ہوگا۔‘‘

تمل سپراسٹار تھلاپتی وجئے کی پارٹی ’تملگا ویتری کژگم‘ (ٹی وی کے) نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد نہ کرنے کا عزم کئی بار ظاہر کیا ہے، اور اب ایک بار پھر بیان دے کر واضح کیا ہے کہ چاہے کتنا بھی دباؤ بنایا جائے، بی جے پی کے ساتھ اتحاد قائم نہیں ہوگا۔ ٹی وی کے پارٹی کے جنرل سکریٹری ارون راج نے اس تعلق سے جمعہ کے روز واضح لفظوں میں کہا کہ پہلی کانفرنس میں ہی وجئے نے صاف لفظوں میں بی جے پی کو ایک نظریاتی حریف بتایا تھا۔ اس پارٹی کے ساتھ اتحاد کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
ارون راج کا کہنا ہے کہ تمل ناڈو میں برسراقتدار پارٹی اور مرکز میں برسراقتدار پارٹی، دونوں کو حریف کہنا ہمت کی بات ہے، اور وجئے نے اس ہمت کا مظاہرہ کیا ہے۔ راج نے دعویٰ کیا کہ مرکزی حکومت نے دباؤ ڈالا تھا، لیکن وجئے نے جو فیصلہ لیا ہے، اس پر قائم ہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ کئی طرح سے، یونین سطح پر بھی برسراقتدار پارٹی نے دباؤ ڈالا، لیکن ہمارے لیڈر کا اسٹینڈ بہت واضح ہے۔
ارون راج نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’آپ جانتے ہیں وجئے نے مملاپورم میں کیا کہا تھا۔ انھوں نے صاف کہا تھا کہ فرقہ پرست طاقتوں کے ساتھ کوئی اتحاد نہیں ہوگا۔ اس سے صاف لفظوں میں کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔ اس لیے جب لوگ کہتے ہیں کہ انھوں نے بی جے پی کے خلاف کچھ نہیں کہا، تو یہ بات نہیں مانی جا سکتی۔‘‘ راج نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ اب بی جے پی کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ سی بی آئی پوچھ تاچھ، فلم سے جڑے معاملے، جو کچھ ہو رہا ہے، سبھی جانتے ہیں۔ ان سبھی دباؤ کے باوجود وجئے نے صاف کہا ہے کہ فرقہ پرست طاقتوں کے ساتھ کوئی اتحاد نہیں ہوگا۔ اس کے بعد کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اداکار سے لیڈر بنے وجئے پہلی بار اپنی سیاسی پارٹی تمل ویتری کژگم کے ذریعہ انتخاب لڑیں گے۔ تمل ناڈو میں بی جے پی اور اے آئی اے ڈی ایم کے نے 2026 کے اسمبلی انتخاب کے لیے اتحاد کیا ہوا ہے۔ ان کے خلاف ٹی وی کے مضبوطی سے میدان میں اترنے کا ارادہ ظاہر کر چکی ہے۔ حالانکہ بی جے پی اتحاد کے لیڈران نے کئی بار یہ دعویٰ کیا کہ وجئے آئندہ انتخاب میں این ڈی اے کا ہاتھ تھام لیں گے۔ لیکن وجئے نے بھی بار بار یہی وضاحت پیش کی کہ وہ کسی بھی اتحاد کا حصہ نہیں ہوں گے۔