بی جے پی والوں میرے خلاف مقدمہ لکھ کر مجھے ڈرانے دھمکانے کی کوشش مت کرو: سنجے سنگھ

سنجے سنگھ نے کہا کہ ’’بی جے پی والوں میرے اوپر مقدمہ لکھ کر مجھے ڈرانے دھمکانے کی کوشش مت کرو۔ تمہارے آقاؤں نے پہلے بھی مجھ پر بہت ایف آئی آر کی ہے۔ تم نے مندروں کو توڑنے کا پاپ کیا ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>سنجے سنگھ، تصویر&nbsp;@AamAadmiParty</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

اترپردیش کے وارانسی میں منی کرنیکا گھاٹ پر جاری تعمیر نو کے کام کو لے کر عام آدمی پارٹی کی طرف سے مسلسل سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس معاملے میں عام آدمی پارٹی لیڈر سنجے سنگھ پر ایف آئی آر درج کر دیا گیا ہے۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ ’’بی جے پی والوں میرے اوپر مقدمہ لکھ کر مجھے ڈرانے دھمکانے کی کوشش مت کرو۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’تمہارے آقاؤں نے پہلے بھی مجھ پر بہت ایف آئی آر کی ہے۔ تم نے مندروں کو توڑنے کا پاپ کیا ہے، جس کا ثبوت سامنے ہے۔ آنکھ کھول کر دیکھو۔ ایف آئی آر ان گنہگاروں کے خلاف کرو جنہوں نے مندر توڑا ہے۔‘‘

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سنجے سنگھ نے ایک ویڈیو پوسٹ کی۔ انہوں نے ویڈیو میں کہا کہ ’’مودی کے پارلیمانی حلقہ میں منی کرنیکا گھاٹ کو تہس نہس کر دیا گیا، مندروں کو توڑا گیا، کاشی وشوناتھ مندر کی تزئین و مرمت کرانے والی ماتا اہلیہ بائی ہولکر جی کا مجسمہ بھی توڑ دیا گیا، جس کی مخالفت کاشی کے سادھوؤں نے کی، اہلیہ بائی ہولکر جی کے خاندان نے کی، یہاں تک کہ سابق لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن جی نے بھی احتجاج درج کرایا۔ مگر ایف آئی آر مجھ پر ہی درج کر دی گئی۔ مندروں کو توڑنے والے گناہ گاروں کے خلاف کارروائی کرو، مجھے ڈرانے کی کوشش مت کرو۔‘‘


ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ پر شائع خبر کے مطابق وارانسی پولیس نے اس معاملے میں کارروائی کرتے ہوئے وارننگ جاری کی ہے کہ ’’اگر اس معاملے میں آئندہ بھی کوئی گمراہ کن خبر یا اے آئی سے تیار کردہ مواد پھیلایا گیا تو سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔‘‘ پولیس نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ گمراہ کن معلومات پر یقین نہ کریں۔ اے سی پی دشاشومیدھ گھاٹ اتُل انجان نے بتایا کہ ’’سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر افواہیں پھیلانے کے الزام میں 8 الگ الگ مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ تھانہ چوک میں 8 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ ان 8 افراد میں عام آدمی پارٹی اور کانگریس پارٹی کے عہدیداران بھی شامل ہیں۔ ان سب کے خلاف بی این ایس کی دفعات 196، 298، 299 اور 353 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مذہبی جذبات بھڑکانے اور سماجی ہم آہنگی بگاڑنے کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔‘‘