بی جے پی رکن پارلیمنٹ کے ذریعہ ایئر انڈیا کی سرمایہ کشی کے خلاف دائر عرضی خارج

سبرامنیم سوامی نے الزام لگایا تھا کہ ٹاٹا اور ایک غیر ملکی کمپنی ’ایئر ایشیا‘ جوائنٹ وینچر کے معاملے کی جانچ سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کر رہی ہے، ایسے میں ٹاٹا کے ساتھ معاہدہ نامناسب ہے۔

سبرامنیم سوامی، تصویر آئی اے این ایس
سبرامنیم سوامی، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے ایئر انڈیا سرمایہ کشی کے مطالبے سے متعلق بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) رکن پارلیمنٹ سبرمنیم سوامی کی عرضی جمعرات کو خارج کردی، چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس جیوتی سنگھ نے عرضی خارج کی ہے۔ سبرمنیم سوامی نے گزشتہ سال اکتوبر میں اپنی درخواست میں مرکزی حکومت اور ٹاٹا سنز کے ساتھ 18,000 کروڑ روپے کے سودے میں منمانی اور بدعنوانی کا الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ یہ سودا مفاد عامہ کے خلاف ہے۔ انہوں نے اپنی درخواست میں دعویٰ کیا تھا کہ یہ سودا ٹاٹا سنز کو ناجائز فائدہ پہنچانے کے لیے کیا گیا تھا۔

بی جے پی ایم پی سبرمنیم سومی نے الزام لگایا تھا کہ ٹاٹا اور ایک غیر ملکی کمپنی 'ایئر ایشیا‘ جوائنٹ وینچر کے معاملے کی جانچ سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کر رہی ہے۔ ایسے میں ٹاٹا کے ساتھ معاہدہ نامناسب ہے۔ سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا مرکزی حکومت کی طرف سے پیش ہوئے اور سرمایہ کشی کو پالیسی ساز فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ایئر انڈیا کو ہونے والے بھاری نقصان کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔